284

پاکستان کو سونے کی چڑیا کیوں کہا جاتا ہے؟…..(مرسلہ: معاذ شاہد)

مرسلہ: معاذ شاہد

پاکستان اللہ کا ہر حساب سے نوازا ہوا ملک ہے جہاں تمباکو علاوہ قدرتی گیس وغیرہ بہت بڑی مقدار میں موجود ہیں اس کے دریا سہراب بلند و بالا پہاڑ صحرا سمندر دنیا کو ایک فوری کہانی سناتے ہیں کون سی نعمت ہے جو اس ملک کو عطا نہیں کی گئی قیمتی پتھروں کی کی منفرد اقسام پائی جاتی ہیں نیلم یاقوت زمرد سنگ مرمر چونا نمک اور تانبا وغیرہ اور قدرتی گیس وغیرہ بھی بڑی مقدار میں موجود ہیں بلکہ کوئلے کو تو سیاہ سونا کہا جاتا ہے

نوجوان آبادی کے لحاظ سے دیکھا جائے تب بھی پاکستان دنیا کا واحد اسلامی ملک ہے جہاں 40فیصد محنتی نوجوان پائے جاتے ہیں بے شمار ملک سمندر سے محروم ہیں لیکن پاکستان کے مارتا ہوا بحیرہ عرب ہے جس سے قازقستان ترکمانستان اور آذربائیجان وغیرہ اور قریبی ملک افغانستان بھی فائدہ اٹھاسکتے ہیں معدنی وسائل کے اعتبار سے پاکستان کوئلے کے ذخائر رکھنے والا دوسرا بڑا ملک ہے دنیا میں نمک کا دوسرا بڑا ذخیرہ بھی پاکستان کے پاس ہے تانبے کے ذخائر کے اعتبار سے پاکستان سے بڑا ملک ہے سونے کے ذخائر کے لحاظ سے پاکستان کا نمبر پانچواں ہے اور قدرتی گیس کے ذخائر کے اعتبار سے پاکستان چھٹا بڑا ملک ہے ہمارے ملک کے ذریعے زمین بھی دنیا کے دیگر ممالک کے ذریعے زمین کے مقابلے میں زیادہ زرخیز سمجھی جاتی ہے پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے عالمی رینکنگ میں پاکستان چوتھے نمبر پرہے کپاس کی پیداوار میں ہم دنیا میں چوتھے نمبر پر ہیں جبکہ گندم کی پیداوار کے لحاظ سے ساتویں نمبر پر ہیں ہم گنے کی پیداوار میں پانچویں نمبر پر ہیں جبکہ آم کی پیداوار میں چوتھے نمبر ہے دودھ کھجور کی پیداوار میں پانچویں نمبر پر ہیں 2015 میں شائع کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 10000 ٹریلین مکعب فٹ سے زائد شیل گیس اور 2323 بلین بیرل شل ایل کے ذخائر موجود ہیں

پاکستان کا نہری نظام دنیا میں آج بھی پہلے نمبر پر ہے اس کے باوجود ہماری فی کس سالانہ آمدنی صرف 1818 ڈالر تک پہنچی ہے سوال فطری طور پر ذہن میں ابھرتا ہے کہ آخر ہمارا کیا قصور ہے جو ہم قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود اس قدر پیچھے ہیں ہماری نصف سے زائد آبادی ابھی بھی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے اور معدنی وسائل سے محروم سنگاپور جیسا ملک صنعتی ترقی کی دوڑ میں دنیا کے بیشتر ممالک کے پیچھے چھوڑ چکا ہے

لیکن بدقسمتی سے وسائل پر کنٹرول دوسری طاقتوں کا ہے

جنہوں نے ملٹی نیشنل کمپنیوں کی شکل میں اپنا راج قائم کر رکھا ہے حیرت ہے کہ کسی اسلامی ملک کے ملٹی نیشنل کمپنی نہیں ہے دنیا بھر کی 12000 کمپنیوں میں 500 کمپنیوں نمایاں حیثیت رکھتی ہیں پھر ان میں سے 414 کمپنی تین بڑے ممالک امریکہ روس جاپان سے تعلق رکھتی ہیں پوری دنیا ملٹی نیشنل کمپنیوں کے قبضے میں ہے حیرت ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ تیل مسلم ممالک میں پیدا کرتے ہیں لیکن ایک بھی ملٹی نیشنل کمپنی مسلم ممالک کی نہیں ہے وینزویلہ واحد غیر مسلم ملک ہے جو کم مقدار میں تیل پیدا کرتا ہے لیکن چونکہ وہ غیر مسلم ملک ہے اس لئے نہ صرف وہاں آئل کمپنی قائم ہے بلکہ اس کو دنیا کی بڑی کمپنیوں میں شامل کرلیا گیا ہے چنانچہ وینزویلا کی آئل کمپنی کا شمار دنیا کی 500 بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں میں ہوتا ہے ان پانچ بڑی کمپنیوں میں سے بیس سے زائد ایسی امریکی کمپنیاں ہیں جو مسلم ممالک سے تیل لے کر فروخت کرتی ہیں تیل کی خریدوفروخت سے ان کمپنیوں کے اثاثہ جات کی مالیت 396 ء21. ملین ڈالر ہو چکی ہے جو سعودی عرب کی پانچ برس کی تیل کی کل فروخت کے برابر ہے

چوری کا پہلا مرحلہ تیل نکالنے والی مغربی کمپنیوں کے ساتھ ہمارے خائن حکمرانوں اور افسران کے معاہدوں کی صورت میں شروع ہوتا ہے مسلمانوں کے یہ ظالم حکمران ان معاہدوں کے ذریعے 60 تک 40 فیصد آمدنی اپنے ذاتی اموال میں لے جاتے ہیں جبکہ بقایہ منافع ان کمپنیوں کی حصے میں آتے ہیں جب کہ بیچاری امت خالی ہاتھ بیٹھے تماشہ دیکھتی ہیں

چوری کا دوسرا مرحلہ خارج شدہ کیمیکل میں دھاندلی کی صورت میں سامنے آتا ہے چونکہ ان تمام مراحل کی نگرانی یہ کمپنیاں خود ہی کرتی ہیں لہذا ان کے لیے اپنے انجینئر اور ماہرین کے ذریعے دھاندلی کرنا نہایت آسان ہوتا ہے نیز اگر کہیں نگرانی پر مامور ماہرین مقامی حکومتوں میں سے ہو تو انہیں رشوت کے ذریعے خاموش کرا لیا جاتا ہے اس طرح یہ کمپنیاں جعل سازی کرنے میں کامیاب رہی ہیں

چوری کا تیسرا مرحلہ جس میں اس مواد کی حدبندی اس کی قیمت کا تعین اور عالمی سطح پر اس کی خرید و فروخت کی جاتی ہے اس مرحلے پر اس مواد کی انتہائی کم قیمت لگائی جاتی ہے جو بذات خود وسائل چوری کرنے کا ایک جدید انداز ہے سمجھنے کے لئے بس ایک مثال ہی کافی ہے کہ خود مغرب کے 26 سال میں اقتصادی تعلیمی اداروں کے مطابق ایک بیرل خام پٹرول اور اس سے نکلنے والے مواد کی اصل تصور شدہ قیمت کم از کم دو سو 60 ڈالر فی بیرل ہونا ضروری ہے جبکہ حقیقت حال یہ ہے کہ اب تک پوری تاریخ میں کبھی کبھی یہ قیمت پینتالیس ڈالر سے تجاوز نہیں کر سکی اکثر اوقات تو اس کی قیمت 20 ڈالر کے ہیں اردگرد رہی حتیٰ کہ بسا اوقات یہ قیمت 10 ڈالر تک جا گری یہ سارا مکروہ ہے ہمارے ممالک پر قابض صلیبی سرمایہ دار اور عالمی تجارتی منڈی یہودی سہوکار کھیلتے ہیں ہمارے قیمتی سرمایہ اور ہمارے ممالک کی کرنسیوں کی قدر یہی گھٹاتے بڑھاتے ہیں

چوری کا چوتھا مرحلہ بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی آگے آگے اس مرحلے میں اس حاصل شدہ آمدنی کو ہمارے خائن حکومتی ہمارے بینک کھاتوں کے نام پر صلیبی بینکوں میں منتقل کر دیتی ہیں جو ہمارے لیے محاذ الیکٹرونک حساب وکتاب کے اعدادوشمار اور سفروں کی تعداد میں اضافہ کے باعث بنتی ہیں ہمارے حکمرانوں کو بھی اس کی اجازت نہیں ہوتی کہ ان بینکوں سے اپنی ہی رقم 1 مقرر شدہ حصے سے زائد نکلوا سکیں تاکہ وہ اس رقم کو کہ اکثر حصہ مغرب ہی کی صنعتی مصنوعات اور انہیں کے بنائے ہوئے اسلحہ کو خریدنے میں لگا دیں پھر یہ سمان حرب بھی ارباب مغرب اپنے من پسند کی قیمت پر بیچتے ہیں

ایک عرب شہزادے فیصل بن فہد جس نے جوئے کی ایک میز پر دس کھرب ڈالر یعنی تقریبا چھ سو کھرب روپیہ ہارے
جب ایسے ایسے حکمران مسلمانوں کے پاس موجود ہوں گے تو مسلمانوں کا بیڑہ غرق تو ہو گا ہی ناں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں