308

صحت بخش افطار کے جھٹ پٹ ٹوٹکے…..(انتخاب: حکیم محمد طارق شاد)

(انتخاب: حکیم محمد طارق شاد)

روزے یا رمضان کے دنوں جو غذا کھائی جاتی ہے وہ پیاس کی شدت کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

افطار اسلامی روایات کا اہم حصہ ہے اس کا آغاز دو کھجوروں ایک گلاس پانی سے کریں۔ اس کے بعد گرم سوپ سے کھانے کا آغاز کیا جائے اس کے بعد سلاد اور پھر دیگر ڈشز یا جوس یاسوپ سے افطار کرنا آپ کے معدہ کے لیے نہایت فائدہ مند ہوتا ہے کیونکہ ایک لمبے وقت تک روزہ کی حالت میں جب معدہ بالکل خالی ہوتا ہے تب یہ جوس یاسوپ نہ صرف توانائی کو بحال کرتا، پانی کی کمی کو پورا کرتا اور نظام ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے۔

ہرروزافطار کے بعد کم سے کم آٹھ گلاس پانی ضرور پیءں۔ اگر آپ ایکسرسائز کرتے ہیں یا گھر سے باہر گرم موسم میں کام کرتے ہیں ہر صورت میں آٹھ سے دس گلاس پانی پینا اپنا روز مرہ کا معمول بنالیں کیونکہ ان دوکاموں میں ہی سب سے زیادہ پسینہ کا اخراج ہوتا ہے اس لیے جتنا پانی پیءں گے پانی کی کمی واقع نہیں ہوپائے گی۔ اس لیے اس بات کو ہمیشہ یاد رکھیں کہ پانی کی مطلوبہ مقدار ہی آپ کے جسم، صحت اور دماغ کے لیے بہترہے۔

افطار کے وقت تیز مصالحوں اور گرم گرم کھانوں کو نظر انداز کردیں کیونکہ ایسی ڈشز کے استعمال سے پیاس بڑھتی ہے جو اگلے دن روزہ کی حالت میں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

سلاد اور دیگر ڈشز میں نمک کا بہت زیادہ استعمال مت کریں اس کے علاوہ نمکین ڈشز جیسے کہ نمکین فش، یا اچار ایسی غذائیں ہیں جو جسم میں پانی کی ضرورت میں اضافہ کرتی ہیں۔ اس لیے ایسی غذاؤں کی بہ نسبت تازہ پھل اور سبزیوں کو استعمال کرنا ہی بہتر ہوتا ہے کیونکہ ان میں قدرتی طور پر پانی اور فائبر بے پناہ مقدار پائی جاتی ہے یہ غذا آنتوں میں لمبے عرصہ تک رہتی ہے جس کی وجہ سے پیاس کی شدت کم ہوتی ہے اور جسم کو پانی کی مطلوبہ مقدار اس غذا سے میسر ہوتی ہے۔ میٹھے مشروبات کی جگہ تازہ قدرتی پھلوں کے تیار کردہ جوسز کا استعمال زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ موسم کے اعتبار سے پھلوں کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔رمضان میں جہاں دیگر معمولات میں تبدیلی واقع ہوتی ہے وہاں کھانے پینے کے اوقات کار اور اندازمیں بھی تبدیلی ہو جاتی ہے، بسا اوقات ایسی چیزوں کا انتخاب کیا جاتا ہے جو صحت کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں افطار اور سحری میں ایسی کون سی غذائیں کس طریقہ سے لی جائیں جن کے صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوں اور جن کے کھانے سے انرجی لیول کم ہونے کے بجائے اضافہ کی جانب مائل ہو۔ ذیل میں کچھ ایسے ٹپس بتائے جا رہے ہیں جنہیں رمضان میں افطار اور سحر کے وقت اپلائی کرکے آپ رمضان منظم اور بھرپور انداز میں گزار سکتے ہیں۔۔

پانی کم سے کم آٹھ گلاس ضرور پینا چاہیئے اور باربار یا ایک ساتھ پینے کے بجائے اسے مناسب وقفوںں سے پینا بہتر ہوتا ہے اس طرح معدہ پر پانی کا بوجھ نہیں پڑتا۔

سحری کرنا سنت بھی ہے اور اہم بھی۔ مناسب اور متوازن غذا پر مشتمل دن بھر کے لیے طاقت اور توانائی کو بحال رکھتی ہے اور روزہ کو آسان اور قابل برداشت بناتی ہے اس بات کا یقین کرلیں کہ سحری میں جو کھانا آپ تناول فرما رہے ہیں وہ آسانی سے ہضم کرلینے والا ہونا چاہیئے اور ایسی غذا جن میں کاربوہائیڈریٹ موجود ہو جیسا کہ گندم کی روٹی اور ڈبل روٹی، چاول اور گندم کی بنی ہوئی دوسری اشیاء۔ ان سے آپ کا بلڈشوگر لیول متوازن رہتا ہے۔

ایسے افراد جن کا روزے کی حالت میں بلڈ پریشر کم ہوجاتا ہو اور انہیں سردرد کی شکایت بھی ہو تو انہیں چاہیئے کہ افطار کا آغاز تین یا چار کھجوروں سے کریں اس سے ان کا بلڈ شوگر لیول کنٹرول میں آجائے گا۔

سلاد اور سوپ کو فوراً اور تیزی سے کھانے سے اجتناب برتیں بلکہ انہیں آہستہ آہستہ چباکر کھائیں اور پیءں۔اس سے آپ زیادہ کھانے یا اوور ایٹنگ کا شکار نہیں ہو پائیں گے۔ اور معدہ بھرا ہوا محسوس ہوگا۔

زیادہ میٹھی ڈشز یا مشروبات ہضم ہونے میں تاخیر کرتے ہیں اور کیلوریز کی مقدار بھی بڑھاتے ہیں۔ اس لیے اس سے بچنے کے لیے افطار کے اوقات میں ہر قسم کا میٹھا اور سوئیٹ ڈش کا استعمال کم سے کم رکھیں۔

رمضان میں کھجور، ڈرائی فروٹ اور Nutss کا استعمال متواتر رکھیں۔ یہ غذائیں آپ کے جسم کو مکمل طور پر غذائی اجزاء فراہم کریں گی۔ اور توانائی کے لیول کو بحال رکھیں گی۔

رمضان میں مرغی، چکنائی اور بھاری بھرکم ڈشز سے دور رہیں گرلڈ، اسٹیم اور روسٹ کی جانے والی ڈشز کو بھی نظر انداز کردیں اس کے متبادل پر آپ تازہ، قدرتی اور صحت افزاء سبزیاں اور پھل استعمال کریں۔

افطار کے بعد رات سونے سے پہلے آپ ہلکا پھلکا کھانا بھی لے سکتے ہیں جیسے کہ چیز برگر، کم چکنائی والی دہی ، ڈرائی فروٹ سینڈوچ اور کم چکنائی والا دودھ وغیرہ۔ آپ کو مکمل اور متوازن صحت فراہم کرتے ہیں۔

افطار میں ایک ڈش سبزی سوپ کی ضرور رکھیں جیسے کہ بروکلی، مٹر، پالک، ہری پھلیاں، گاجر اور Squashوغیرہ۔ ان سبزیوں کے سوپ کے فائبر، وٹامنزاور معدنیات کی بھرپور تعداد پائی جاتی ہے جو کہ ایک صحت مند نظام ہاضمہ کے لیے نہایت ضروری ہے۔

ڈیپ فرائی اشیاء جیسے کہ سموسہ جلیبی وغیرہ سے مکمل پرہیز کریں کیونکہ یہ جسم میں کیلوریز اور چکنائی کی مقدار میں اضافہ کرتی ہیں جس سے کولیسٹرول بڑھنے لگتا ہے اس کی نسبت بیک کی ہوئی اشیاء استعمال کی جاسکتی ہیں۔

اگر آپ کافی پینے کے عادی ہیں تب افطار کرنے کے ایک یا دو گھنٹوں کے بعد کافی پی جاسکتی ہے۔

افطار شروع کرنے سے پہلے صرف ایک گلاس پانی پئیں اس کے بعد درمیان میں پیا جاسکتا ہے کھانا ختم کرنے ایک دوگھنٹوں بعد پانی پیا جاسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں