267

مہنگائی اور زخیرہ اندوزی……(اے ڈی شاہد)

تحریر: اے ڈی شاہد

دنیا بھر میں ماہ مقدس کے احترام اور غربا کے دکھ درد کو محسوس کرتے ھوئے حکومتیں ماہ صیام میں اشیائے خوردونوش میں کمی واقع کر کے اجر عظیم کماتی ھیں مگر وطن عزیز میں اس کے برعکس ماہ رمضان کی آمد سے پہلے ھی حکومت کے ساتھ ساتھ زخیرہ اندوز طاقتور مافیا اشیا کو اپنی گرفت میں لے کر ھر چیز کو نہ صرف غریبوں کی پہنچ سے دور کر دیتا ھے بلکہ بھاری بھرکم منافع کمانے کی خاطر پسے ھوئے طبقے کی خوشیوں سے کھیلتے ھیں۔ اھم ضرورت چینی کو زخیرہ اندوز مافیا نے بڑے بڑے گوداموں میں محصور کر کے مارکیٹ میں لوگوں کو 72 روپے کلو کے حساب سے خریدنے پر مجبور کر دیا جس پر مقامی انتظامی مشینری حرکت میں آئی جس کے نتیجے میں بےشمار کاروائیاں کیں مگر افسوس کہ گندم زخیرہ کرنے والے کسان کی گندم جس طرح سرکاری تحویل میں لی جاتی ھے اور اس پر باقائدہ مقدمہ بھی درج کیا جاتا ھے اسی طرح کسی ایک زخیرہ اندوز کے خلاف نہ تو مقدمہ دائر ھوا اور نہ ھی کسی ایک گودام کو حکومتی تحویل میں لیا گیا بلکہ معمولی جرمانے تک سبھی کاروائیاں محدود ھوکر ریہہ گئیں جن کا نقصان بھی عوام کو ھی بھگتنا پڑے گا۔ایک تو چھاپے مارنے کے اخراجات کی صورت میں اور دوسرا جو جرمانہ کیا جاتا ھے وہ بھی چینی کو مزید مہنگا کرنے کا بہت بڑا سبب ثابت ھوتا ھے۔اب تکلیف دہ بات یہ ھے کہ گندم پر کڑا احتساب اس لیئے ھے کہ وہ غریب کسان کی ھے اور چینی پر خصوصی شفقت اس لیئے ھے کہ اس میں صنعتکار کے علاوہ حکومتی نمائندگان بھی سرپرست ھیں ایسے حالات میں حکومت کو اور ضلعی انتظامیہ کواپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ھے۔

دیکھ کر میری لا چار آنکھوں کو پھول کی پنکھڑیاں اداس ھوتی ھیں
میری جھولی میں مرجھائی ھوئی چند پتیاں
دیکھ کر تتلیاں بے بسی پہ میری روتی ھیں
کب تک چلے گا یہ ناقص دستور آخر
کسان کب تک رھے گا غم سے چور آخر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں