275

غلام و لونڈیاں اور اسلام…..(منتخب تحریر)

منتخب تحریر

ملحد یہ مانتے ہیں کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان نبوت سے پہلے یہود نصاری اور ملحد موجود تھے۔ پوری دنیا میں سو فیصد یہود ونصاری تھے اور اس وقت بھی غلام لونڈیوں کی خرید وفروخت کا کاروبارتھا۔۔۔!

ملحد یہ بھی مانتے ہیں کہ جب آپ نے نبوت کا اعلان کیا تو اس وقت پوری دنیا میں صرف ایک مسلمان تھا مگر غلام اور لونڈیوں کی خریدو فروخت کا رواج اس وقت بھی تھا۔۔۔۔!

ملحد یہ بھی مانتے ہیں کہ فتح مکہ کے وقت پوری دنیا میں تقریبا صرف دو لاکھ اسی ہزار مسلمان تھے مگر غلام لونڈیوں کی خریدو فروخت کا معاشرتی روج اس وقت بھی تھا۔۔۔۔!

ملحد مانتے ہیں کہ جنگی قیدیوں کو غلام اور لونڈیاں بنانا ایک معاشرتی رواج تھا جو پندرہ سو سال پہلے بھی موجود تھا اور چودہ سو سال پہلے بھی۔۔۔!

ملحد یہ بھی مانتے ہیں کہ تاریخ انسانی میں پہلی بار ایسا ہوا کہ اسلام نے غلاموں اور لونڈیوں کو حقوق دیے اور انہیں بلا معاوضہ بھی رہا کرنے کی ترغیب دی۔۔۔!

ملحد یہ بھی مانتے ہیں کہ اسلام نے آہستہ آہستہ اس غلامی کی زنجیر ، ذات پات ، امیر ی غریبی کو معاشروں سے ختم کیا۔۔۔!

مگریہ سب کچھ ماننے کے بعد یکدم !!اگلے ہی لمحے ملحدین اس مانے ہوئے سے انکار کر دیتے ہیں اور کہنا شروع ہو جاتے ہیں کہ اسلام نے غلام اور لونڈیوں کی خرید وفروخت کا رواج شروع کیا لہذا اسلام ظلم کا دین ہے۔

میرا آپ سےسوال ہے۔
کہ ملحد جان بوجھ کر ایسا کیوں کرتے ہیں؟
اسلام کی نفرت بیچنے کیلیے یا ڈالر کمانے کیلیے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں