216

پاکپتن: نشہ کی عادت سے اپنی نوجوان نسل کو دور رکھنے کے لیے ہم ہر حد تک جائیں گے۔ ڈاکٹر شاہد مرتضی چشتی.

پاکپتن (ماجد رضا سے) اکثرنشہ آور اشیاء کے استعمال پر ترقی یافتہ ممالک میں پابندی اور سخت سزاؤں کی وجہ سے کمپنیاں پاکستان جیسے ممالک میں اپنا تیار مال دھڑا دھڑ فروخت کررہی ہیں ان خیالات کا اظہار صدر انجمن فلاح مریضاں پاکپتن ڈاکٹر شاہد مرتضیٰ چشتی نے گذشتہ روز پاکپتن پبلک ہائی اسکول میں انجمن فلاح مریضاں، ڈسٹرکٹ اینٹی ٹی بی ایسوسی ایشن ومحکمہ سوشل ویلفیئرکے زیر انتظام نشہ کے خلاف آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے مذید کہا کہ اس بری عادت سے اپنی نوجوان نسل کو دور رکھنے کے لیے ہم ہر حد تک جائیں گے۔ اس موقع پر سیکرٹری جنرل PSAوجنرل سیکرٹری ڈسٹرکٹ اینٹی ٹی بی ایسوسی ایشن حکیم لطف اللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایسی پانچ بیماریاں جو جان لینے کا سب سے بڑا باعث ہیں انکے پھیلنے کی بنیادی وجوہات میں تمباکو نوشی سرفہرست ہے۔ ہم سب کچھ جانتے بوجھتے اس ذہر کے عادی ہوتے جارہے ہیں اور نشہ کی لت میں مبتلا ہیں۔ وقار فرید جگنو صدر پریس کلب پاکپتن نے کہا کہ جنسی بے راہ روی سے نوجوانوں کو بچانے اور بچوں کو استحصال سے بچانے کے لیے ان کو اس حوالہ سے ایجوکیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا مشرقی معاشرہ ہمیں بچوں سے براہ راست اس موضوع پر بات کرنے سے روکتا ہے لیکن اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس دائرہ سے باہر نکل کر اپنی نسل کو آگاہی دیں بصورت دیگر ہم روزانہ کی بنیادپر، زینب، فرشتہ جیسی کلیوں کے مسخ شدہ لاشے اپنے کندھوں پر اٹھانے کے لیے تیار رہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں