516

ابوبکر محمد بن زکریا الرازی….عظیم مسلم سائنسدان…(صاحبزادہ مبشر علی صدیقی)

تحریر: صاحبزادہ مبشر علی صدیقی

ابوبکر محمد ابن زکریا الرازی 250ھجری بمطابق 864عیسوی ایران کے رے (شہر) میں پیدا ہوئے اور اسی نسبت سے رازی کہلائے آپ نامور مسلمان عالم، طبیب، فلسفی، ماہر علم نجوم اورکیمیا دان تھے۔

جالینوس العرب کے لقب سے مشہور ہوئے کہا جاتا ہے کہ بقراط نے طب کو ایجاد کیا جالینوس نے طب کا احیاء کیا، رازی نے متفرق سلسلہ ہائے طب کو جمع کر دیا اور ابن سینانے تکمیل تک پہنچایا۔ (الرازی) جوانی میں موسیقی کے دلدادہ رہے پھر ادب وفلسفہ، ریاضیات ونجوم اور کیمیا وطب میں خوب مہارت حاصل کی پہلے رے پھر بغداد میں سرکاری شفا خانوں کے ناظم (M.S) رہے۔ طب میں آپ کو وہ شہرت دوام ملی کہ آپ طب کے امام وقت ٹھہرے۔

کار ہائے نمایاں

دنیا کی تاریخ میں جہاں بہت سے طبیبوں کا نام آتا ہے وہاں ”ابو بکر محمد بن زکریا الرازی“ کانام علم طب کے امام کی حیثیت سے لیا جاتا ہے۔ جب زندگی کی ذمہ داریاں بڑھیں تو الرازی نے کیمیا گری کے فن کو اپنا لیا۔ ان کا خیا ل تھا کہ وہ کیمیا گری کے فن کی بدولت کم قیمت دھاتوں کو سونے میں تبدیل کر کے بہت جلد امیر اور دولت مند بن جائیں گے۔
کیمیا گری کے جو طریقے اس زمانے میں مشہور تھے ان میں مختلف جڑی بوٹیوں کوملا کر مہینوں تک دھات کو آگ پر رکھنا پڑتا تھا۔ ان کی اس سلسلہ میں ایک دوا فروش سے دوستی ہو گئی۔ چنانچہ وہ فرصت کے لمحات میں عموماً اس کی دکان پر بیٹھ جاتے۔ اس سے ان میں رفتہ رفتہ طب کے علم میں دلچسپی پیدا ہو تی گئی۔ ایک دن کیمیا گری کے شوق میں آگ کو پھونگیں مارتے مارتے ان کی آنکھیں جھلس گئیں۔ وہ علاج کے لیے ایک طبیب کے پاس گئے۔ طبیب نے علاج کرنے کے لیے اچھی خاصی فیس طلب کی اس وقت رازی کے ذہن میں یہ بات آئی کہ اصل کیمیا گری تویہ ہے نہ کہ وہ جس میں وہ اب تک سر کھپاتے رہے۔ چنانچہ رازی نے اب اپنی توجہ علم طب کی تحصیل میں صرف کر دی۔ وہ طب کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے بغداد روانہ ہوگئے۔ بغداد میں اس وقت فردوس الحکمت (کتاب کا نام) کے نامور مصنف علی بن ربن طبری بقید حیات تھے۔ رازی نے اس بزرگ استاد سے طب کے تمام رموز سیکھے اوربڑی محنت سے اس میں کمال حاصل کیا۔ 908ء میں بغداد کے مرکزی شفا خانے میں، جواس زمانے میں عالم اسلام کا سب سے بڑا شفاخانہ تھا۔ انہیں اعلیٰ افسر کا عہدہ پیش کیا گیا جہاں وہ 17برس تک کام کرتے رہے۔ یہ عرصہ انہوں نے طبی تحقیقات اور تصنیف و تالیف میں گزارا ان کی سب سے مشہور کتاب حاوی اسی زمانے کی یاد گار ہے۔ حاوی دراصل ایک عظیم طبی انسائکوپیڈیا ہے جس میں انہوں نے تمام طبی سائنس (Medical Science) کو جو متقد مین کی کو ششوں سے صدیوں میں مرتب ہوئی۔ ایک جگہ جمع کر دیا اور پھر اپنی ذاتی تحقیقات سے اس کی تکمیل کی۔

وفات

ابو ریحان البیرونی کے قول کے مطابق محمد بن زکر یا نے بدھ 5شعبان 313ھجری بمطابق 26اکتوبر 925عیسوی کو 61 سال شمسی کی عمر میں رے (شہر) میں وفات پائی۔

رازی کی تصنیفات ستر ہویں صدی عیسوی تک یورپ میں بڑی مستند سمجھی جاتی تھیں۔ ان کے تراجم (لاطینی زبان میں کئے گئے اور یورپ کی درسگاہوں (Universities) میں بطورنصاب پڑھائی جاتی رہیں۔ رازی کی دو کتب نے بے حد شہرت پائی۔
اول: کتاب الحاوی۔
دوم: کتاب الجدری و الحصبہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں