218

لاہور: نواز شریف ضمانت ختم ہونے پر جلوس کی شکل میں جیل منتقل، مریم، حمزہ ودیگر لیگی راہنما بھی موجود رہے.

لاہور(اسد الیاس سے) سابق وزیر اعظم نواز شریف سپریم کورٹ کی جانب سے العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں احتساب عدالت کی سزا پر دی گئی 6 ہفتوں کی ضمانت کے اختتام پر گزشتہ روز رات گئے کوٹ لکھپت جیل منتقل ہوگئے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما و کارکن انہیں جلوس کی شکل میں جیل تک چھوڑنے آئے۔ سابق وزیراعظم گھر پر پہلا روزہ افطار کرنے کے بعد جیل جانے کیلئے نکلے۔ اس موقع پر مسلم لیگ ن نے ریلی نکالی۔ سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز اور بھتیجے حمزہ شہباز بھی ان کے ساتھ تھے۔ سابق وزیراعظم کا جلوس جاتی امراء سے افطاری کے بعد چلا جو 4 گھنٹے میں جاتی امراء سے کوٹ لکھپت جیل تک پہنچا۔ نوازشریف کی ریلی کے ساتھ آنے والے کارکنوں کو جیل کی چیک پوسٹ کے باہر روک دیا گیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق نوازشریف کی جیل منتقلی کے دوران کوٹ لکھپت میں ریلوے ٹریک پر بھی کارکن چڑھ گئے اور ٹرین کو روک لیا تاہم کارکنوں کے ریلوے ٹریک سے ہٹنے کے بعد ٹرین دوبارہ روانہ ہوگئی۔ سابق وزیراعظم نوازشریف نے جیل منتقلی سے قبل کارکنوں کے نام ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ کارکنوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو رات 12 بجے تک میرے ساتھ رہے۔ جس والہانہ طریقے سے میرا استقبال کیا گیا اس جذبے کا شکریہ ادا کرنے کیلئے میرے پاس الفاظ نہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ کارکنوں کا یہ جذبہ اور دعائیں رنگ لائیں گی۔ یہ ظلم کی سیاہ رات ختم ہوکے رہے گی اس میں کوئی شک نہیں۔ مریم نوازشریف نے ٹویٹ پیغام میں کہا ہے کہ گاڑیوں کی ایک نہ ختم ہونے والی قطار تھی۔ حد نگاہ تک گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا۔ سینکڑوں لوگ میاں صاحب کی گاڑی کو گھیرے ہوئے تھے۔ کارکنان میاں صاحب کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب رہے۔ راہنمائوں اور کارکنوں کے اظہار محبت پر صرف شکریہ ہی کہا جاسکتا ہے۔ نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ عوام کی آواز اٹھ چکی ہے۔ حکومت کی آوز اب بند ہونے لگی ہے۔ کارکنوں کی خواہش تھی کہ وہ نوازشریف کے ساتھ جیل تک جائیں۔ عدالت کے حکم میں تاریخ لکھی ہے اگر وقت کا تعین ہوتا تو ضرور عمل کرتے۔ اس سے قبل شام کو ہی کوٹ لکھپت جیل کی انتظامیہ انہیں دوبارہ جیل لے جانے کیلئے جاتی امرا پہنچ گئی۔ کوٹ لکھپت جیل کا عملہ اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل شہزاد کی سربراہی میں جاتی امراء پہنچا۔ اس موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات تھے۔ اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل جاتی امراء سے نکلنے والی ہر گاڑی کی خود چیکنگ کرتے رہے۔ نواز شریف نے جیل جانے سے قبل اپنے اہلخانہ اور سیاسی رفقاء کے ہمراہ افطار کیا۔ اس سلسلے میں جاتی امرا میں نواز شریف کے پسندیدہ کھانے تیار کئے گئے۔ افطار کے دسترخوان پر کھجوریں، پلاؤ، سفید چاول اور قورمہ خصوصی طور پر رکھا گیا۔ نواز شریف کا سامان جیل پہنچا دیا گیا۔ جب کہ وہ قافلے کی صورت میں جیل پہنچے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف، جاوید ہاشمی، شاہد خاقان عباسی، محمد زبیر، مریم اورنگزیب، پرویز رشید و دیگر جاتی امراء میں موجود تھے۔ جاتی امرا کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان تباہی کے راستے پر ہیں، انہیں اگر یہ منظور ہے تو چلتے رہیں۔ نواز شریف کے بیانیے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اب بھی نواز شریف ووٹ کو عزت دو کے نعرے پر قائم ہیں۔ جیل ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کی قیادت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ جیل قوانین پر عمل کیا جائے گا۔ نواز شریف لاک اپ بند ہونے سے پہلے جیل پہنچیں، جیل میں انہیں نیا قیدی نمبر الاٹ کیا جائے گا۔ نواز شریف کو پہلے والی بیرک میں ہی رکھا جائیگا اور انہیں بی کلاس دی جائے گی جہاں انہیں اخبار، ٹی وی، دو کرسیاں، چارپائی، میٹرس، فریج وغیرہ کی سہولت فراہم ہو گی، نواز شریف کو نیا مشقتی بھی فراہم کیا جائے گا جو جیل قیدیوں میں سے ہوگا۔ دوسری جانب مریم نواز کا کہنا ہے کہ جتنا کٹھن فیصلہ ایک باپ کا بیٹی کا ہاتھ تھامے جیل جانے کا تھا اتنا ہی کٹھن ایک بیٹی کا اپنے محبوب والد کو جیل چھوڑ کر آنا تھا۔ لیکن مقصد قومی ہے اور باپ بیٹی کے رشتوں سے کہیں بڑا ہے۔ قومی مقاصد قربانی مانگتے ہیں۔ میں کارکنوں کے ساتھ ہوں۔ علاوہ ازیں ترجمان مسلم لیگ ن مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عمران صاحب کی پولیس جاتی امرا افطاری سے پہلے ہی پہنچ گئی۔ ایسا ایک سلیکٹڈ وزیراعظم ہی کر سکتا تھا۔ عمران صاحب کی بے حسی کی انتہا ہے یہ بھی برداشت نہ ہوا کہ نواز شریف والدہ اور بچوں کے ساتھ پہلا روزہ کھول لیتے۔ سلیکٹڈ وزیراعظم کیا جانے عوام کی محبت کیا ہوتی ہے؟ نواز شریف اور مریم نواز لندن سے آئے تھے تو رات 11 بجے گرفتار کیا گیا تھا وہ گرفتاری کس جیل مینوئل کے مطابق تھی، علیم خان رات دس بجے جیل جاتے ہیں۔ دوسری طرف محکمہ داخلہ پنجاب نے جیل حکام کو سابق وزیراعظم نواز شریف کو وصول کرنے کے احکامات جاری کر دیئے تھے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جیل حکام کو احکامات بذریعہ فیکس بھجوائے گئے۔ نواز شریف کو کوٹ لکھپت جیل پر پہنچنے کا دیا گیا وقت ختم ہو گیا تھا۔ جیل مینول کے مطابق کوٹ لکھپت جیل کا لاک اپ بند کر دیا گیا تھا۔ محکمہ داخلہ پنجاب کے احکامات موصول ہونے کے بعد جیل حکام نے نواز شریف کو وصول کرلیا۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے لندن سے ٹویٹ پیغام میں کہا ہے کہ مریم اور حمزہ نواز شریف کو جیل الوداع کرنے گئے۔ جیل کے دروازے نواز شریف کو عوام سے دور نہیں رکھ سکتے۔ پورا پاکستان دوبارہ رہائی پر خوش آمدید کہنے کو بے تاب ہو گا۔ نوا زشریف نے ثابت کیا وہ دلیر، سچے، نڈر اور حقیقی قائد ہیں۔ ہمیں بھگانے کی خواہش رکھنے والے خود بھاگ گئے۔ جلد وطن واپس لوٹوں گا۔ سیاسی مخالفین پھر جھوٹے ثابت ہوں گے۔ مشاہد اللہ نے کہا کہ نواز شریف اس ملک کا نجات دہندہ ہے۔ نواز شریف نے کل بھی جیل کاٹی آج بھی کاٹے گا مگر پیچھے نہیں ہٹے گا۔ سابق صوبائی وزیر قانون اور مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ اگر ہماری جماعت نے طاقت کا مظاہرہ کرنا ہوتا تو پورے ملک میں کال دیتے۔ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کی ایک وزیر عاشق اعوان صبح سے اٹھکیلیاں کر رہی ہیں۔ میں انہیں کہتا ہوں کہ ہمارے ساتھ اٹھکیلیاں نہ کریں۔ صمصام بخاری بھی صبح سے باتیں کرتے پھر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں