295

معشیت کے کھیت کو خون پسینے سے سیراب کرنے والوں کا دن!….(میاں رضوان انور)

تحریر: میاں رضوان انور

عالمی یومِ مزدوراں پر ایک خصوصی تحریر

کسی بھی معاشرے میں مزدور اور معشیت کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہوتا ہے۔معشیت کا پہیہ رواں رکھنے کے لئے مزدور طبقہ ایندھن کی حیثیت رکھتا ہے۔مانا کہ آج کے دور میں جدید ٹیکنالوجی منظر عام پر آتی جا رہی ہے اور انسانوں کے ہاتھوں ہونے والے کئی کام آٹومیٹک مشینوں نے اپنے ذمے لے لیے ہیں. لیکن مزدوروں یا انسانی وسائل کی اہمیت سے انکار تو کسی بھی دور میں نہیں کیا جا سکتا. ویسے بھی جس ملک کی افرادی قوت جتنی ذیادہ صلاحیتوں سے لبریز ہوتی ہے اس ملک کی معشیت اتنی ہی مستحکم ہو تی ہے ۔

پاکستان سمیت دنیا کے تقریبا 80 ممالک میں ’’یکم مئی‘‘ بطور مزدور ڈے منا یا جاتا ہے اس دن کو منانے کا آغاز تب ہوا جب 1886ء میں شکاگو کی ( حے مارکیٹ ) میں محنت کشوں نے اپنے حق کیلئے آواز اٹھائی۔ بدقسمتی سے مزدوروں کی اس عام ہڑتال کے دوران ایک نامعلوم شخص نے پولیس پر ڈائنامائٹ بم پھینک دیا اور پھر جواباًً پولیس نے بھی ورکرز کے اس ہجوم پر فائرنگ کر ڈالی یوں اس دن محنت کشوں کے ہونے والے قتل عام کے نتیجے میں اس دن کا آغاز ہوا۔ 1891ء میں سیکنڈ نیشنل کانگریس میٹنگ کے دوران یکم مئی کو بطور مزدور ڈے منظور کیا گیا۔ اگر ہم یکم مئی کی تاریخ کا جائزہ لیں تو ہمیں دنیا کے مختلف ممالک میں اس دن کو رونما ہونے والے مختلف واقعات پیش نظر آتے ہیں تاہم ذیادہ تر ممالک میں یکم مئی لیبر ڈے کے طور پر ہی منایا جاتا ہے۔

پاکستان میں قانونی طور پر مزدور ڈے کا آغاز 1972ء میں ہوا اور اس سال سے یکم مئی محنت کشوں کے دن کے حوالے سے منا یا جانے لگا۔ 1919ء میں مزدوروں کے حق میں ابھرنے والی ایک تنظیم ILO (انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن) کی بنیاد رکھی گئی۔ آج پاکستان سمیت 185 ممالک اس تنظیم کے ممبران ہیں۔ پاکستان تو اپنے قیام کے پہلے ہی سال میں اس تنظیم (آئی ایل او) کا ممبر بن گیا تھا۔ جس کا مقصد مزدوروں کو معاشی حقوق دینا اور انہیں ان کے حق کے بارے میں آگاہ کرنا ہے۔ لیکن اب زرا ایک سرسری نظر سے دیکھا جائے تو کیا پاکستان میں ورکرز کے حقوق کا واقعی خیال رکھا جا رہا ہے؟ کیا حقیقی معنوں میں انہیں اتنا معاشی تحفظ دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنا گزر بسر آرام سے کر سکیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں لیبر ڈے کو بھی لاکھوں محنت کش معمول کی طرح ہی خوار ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ ہماری بیکار حکومتی پالیسیاں اور آرگنائزیشنز ایک مزدور کی زندگی میں کوئی خاص تبدیلی لانے میں کارآمد نہ ہو سکیں. اگرچہ تنخواہوں میں چند ہزار روپے بڑھا کر ان کی بناوٹی حمایت کی جاتی ہے. مگر ملک میں افراطِ زر کا بہتا سونامی ان کی اس حمایت کو اپنے ساتھ ہی بہا کر لے جاتا ہے۔ ہمارے ہاں بیچارے مزدور طبقے کو وسائل کی بجائے مسائل سے نوازدیا جاتا ہے۔ مالک ذیادہ منافع کمانے کے چکر میں مزدور کاحق دبوچے جا رہے ہیں۔ یہاں ایک شعر یا د آگیا۔کہ

مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار
انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات

ویسے تو پاکستان میں بے روزگاری کے باعث کئی لوگ ہر روذ ہی ہولی ڈے منا رہے ہوتے ہیں، لیکن جو افراد خوش قسمتی سے برسرروزگار ہیں اگر صرف ان ہی کی بات کی جائے تو پاکستان میں ایک مزدور کو جو اجرت یا معاوضہ دیا جاتا ہے اس میں عیش وعشرت اور دیگر اخراجات تو دور کی بات تین وقت کی دال روٹی ہی پوری نہیں ہوتی ہے۔ فاقہ کشی کی زندگی گزارنے والے ان محنت کشوں کی سکڑتی آنتوں کے درد کو حکومت کیا جانے۔ یہاں تو یہ حساب ہے کہ:

غریبِ شہر ترستا ہے اک نوالے کو
اور امیر شہر کے کتے بھی راج کرتے ہیں

امریکہ ، برطانیہ ،فرانس اور جاپان جیسے ممالک نے جب بھی اپنی لیبر کے حقوق کا خیال رکھا تو ان کے اور اپنے ہاں کے مزدوروں کی معیار ذندگی میں فرق با آسانی نظر آتا ہے۔ پاکستان میں خاص کر مزدوروں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے اس کی ایک اہم وجہ لیبر قوانین کی کمزوریاں اور خامیاں ہیں وگرنہ لیبر قوانین کا مقصد تو مزدوروں کی فلاح اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ مہنگائی، اجرتوں میں کمی اور معاشرتی حالات سے تنگ مزدوروں میں بے چینی کی عجب کیفیت دیکھنے میں آرہی ہے۔ اب تو تقریبا ہر روز ہی کسی نہ کسی شعبے میں ہڑتالیں عام دیکھنے میں آتی ہیں۔ سرکاری ہو یا نجی شعبہ کوئی بھی بدعنوانی سے پاک نہیں رہا ایک گیٹ کیپر سے لے کر افسر تک اپنے اپنے مطابق لوٹ کھسوٹ میں مست دکھائی دیتے ہیں۔ یکم مئی کے آتے ہی میڈیاپربھی مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے شعور تو جاگ جاتا ہے لیکن یہ سب صرف تبصروں کی حد تک ہی محدود رہ جاتا ہے پھر رات گئی بات گئی والا حساب ہو جاتاہے اگر اس دن کو منانے کا مقصد پورا نہیں کیا جا سکتا تو پھر نہ میڈیا، نہ ہی حکومتی نمائندوں اور نہ ہی کسی دیگر متعلقہ تنظیموں کو شوراورواویلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ محنت کشوں کی قدرو قیمت کی اصل پہچان ترقی یافتہ ملکوں کو ہی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ خاص طور پر پاکستان میں لیبر سیفٹی ایکٹ متعارف کروانے کی اشد ضرورت ہے۔ہر سال ہزاروں مزدور کام کے دوران حفاظتی آلات نہ ہونے کی وجہ سے حادثات کا شکار ہو کر اپنی جانیں گنوا بیٹھتے ہیں. ان فیکٹریوں، ملوں یا ان شعبوں میں جہاں کام کے دوران مزدوروں کی ذندگیوں کو ذیادہ خطرہ ہو وہاں ان کی سیفٹی کے لئے جلد از جلد مناسب اقدامات کئے جائیں۔ آخر میں یہ ہی کہ حکومت کا کوئی بھی پراجیکٹ خواہ وہ ملک کے لیے کتنا ہی سود مند کیوں نہ ہو لیکن اگر وہ اپنی عوام یا ایک مزدور کو معاشی فکر اور بھوک و افلاس سے نجات نہ دلا سکے تو لعنت ہے ایسے ہر حکومتی قدم پر۔ یاد رکھیں کہ عوامی خوشحالی کے بغیر کوئی بھی ملک ترقی یافتہ نہیں بن سکتا خواہ وہ اپنے دفاع یا انفراسٹرکچر جیسے اقدامات پر کتنی ہی رقوم کیوں نہ خرچ کر رہا ہو۔ ہر مہذب معاشرے کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے محنت کشوں کی عزت کرے اور ان کو پورا تحفظ فراہم کرے۔ لہذا ابھی بھی وقت ہے کہ حکومت محنت کشوں کی قدر جان لے اور ہرشعبے میں لیبر یونین کے جائز مطالبات کو بلا امتیاز تسلیم کرے کیونکہ ان محنت کشوں کی چییخ و پکار کے پیچھے توان کا حق چھپا ہوتا ہے۔ملکی معشیت کے کھیت کو اپنے خون پسینے سے سیراب کرنے والے ان محنت کشوں کا بھی توآخر اناج پر کچھ حق بنتا ہے نا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں