238

پاکپتن: سماجی برائیوں بالخصوص نشہ کے خاتمہ کی کوششوں میں سماجی تنظیموں کا کردارقابل تعریف ہے. غلام مصطفی پرنسپل جناح پبلک ہائی اسکول، پاکپتن.

پاکپتن (ڈاکٹر محمد امین سے) سماجی برائیوں بالخصوص نشہ کے خاتمہ کی کوششوں میں سماجی تنظیموں کا کردارقابل تعریف ہے ان خیالات کا اظہارغلام مصطفی پرنسپل جناح پبلک ہائی اسکول، پیر کوٹ۔ پاکپتن نے اسکول میں انجمن فلاح مریضاں، ڈسٹرکٹ اینٹی ٹی بی ایسوسی ایشن وپاکستان سوشل ایسوسی ایشن کے اشتراک سے نشہ وجنسی تشدد کے خلاف آگاہی سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر حکیم لطف اللہ سیکرٹری جنرل پاکستان سوشل ایسوسی ایشن نے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم حالت جنگ میں ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آج ہمارا استاد اور طالب علم خود سماجی سطح پر میدان میں آئیں اور علم جہاد بلند کرتے ہوئے نوجوان نسل اور معاشرے کو نشہ جیسی لعنت سے پاک کرنے کا عزم کریں اور ہم انشاء اللہ اپنے معاشرے کو نشہ کی لعنت سے پاک کر کے دم لیں گے۔ڈ اکٹر شاہد مرتضیٰ چشتی صدر انجمن فلاح مریضان نے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ نشہ کی بنیاد تمباکو نوشی ہے اور نشہ کی طرف جانے والی پہلی سیڑھی اور ماں ہے۔ ہمیں سب سے پہلے اس سیڑھی کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔تمباکو نوشی کرنے والاانسان13سے 16قسم کا کینسر۔ امراض قلب۔ہائی بلڈ پریشر۔شوگر۔اندھا پن اور آنکھوں کی بیماریاں۔تالواور ہونٹ کٹے بچے۔ امراض دمہ و دیگر بیشمار بیماریاں کا شکار ہوتے ہیں۔ جو خواتین تمباکو نوشی کرتی ہیں یا سیکنڈ ہینڈ تمباکو نوشی کرتی ہیں انکے ہاں پیدا ہونے والا ہر 13واں بچہ موت کی وادی میں چلاجاتا ہے اورکمزور بینائی یا اندھے بچے پیدا ہوتے ہیں۔وقار فرید جگنو صدر پریس کلب و جنرل سیکرٹری انجمن فلاح مریضان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تقریبناً 76 سے 80لاکھ لوگ منشیات کا استعمال کرتے ہیں۔تمباکو نوشی کی تشہیر پر قانونی پابندی کے باوجود جنرل سٹورز اور کریانہ سٹورز پر اب بھی تشہیری مواد آویزاں کئے جا رہے ہیں۔ منشیات سے آگاہی کے حوالہ سے بھی میڈیا پر تشہیر کی جنگی بنیادوں پر ضرورت ہے۔.بچوں کے راہ راست سے بھٹک جانے کی بنیادی وجوہات والدین کا بچوں کو ان کا جائز پیارنہ دینا اورانکی بنیادی ضروریات کو پورا نہ کرنا ہے والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کی کفالت اورنگہداشت خود کریں۔جنسی تشدد کے حوالے سے تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہیکہ ایسے واقعات میں زیادہ تر قریبی رشتہ داراوردوست ملوث ہوتے ہیں۔ان موجودہ معاشرتی مسائل کے حل میں ہماری خواتین۔ اساتذہ و تعلیمی ادارے اور مساجد و سماجی تنظیمیں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں.وہ قومیں کبھی زوال کا شکار نہیں ہو سکتی جس ملک کے تعلیمی ادارے صحیح معنوں میں تعلیم وتربیت دے رہے ہوں۔سیمینار میں حکیم ماجد رضا اور طالبات واساتذہ کرام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں