262

”تیل اور گیس کے سلسلے میں ہماری نا اہلیاں“……..(بریگیڈیر محمود الحسن سید)

تحریر: بریگیڈیر محمود الحسن سید

ایک سروے کے مطابق پاکستان کے 208ملین افراد مشترکہ طور پر 24 بلین ڈالر سالانہ کی اشیا اور Servicesبرآمد کرتے ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے ہم ان درآمدات کا 60فی صد صرف تیل درآمد کرنے پر خرچ یا ضائع کر دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہم 2.5 بلین ڈالر کی LNGاور کروڑوں ڈالر کا کوئلہ درآمد کرتے ہیں۔ باالفاظ دیگر ہم درآمدات کا 75 فیصد توانائی کی درآمد پر خرچ کر دیتے ہیں۔

اس سلسلے میں ایک کتاب جس کا عنوان Self Sufficiency in Oil & Gas ہے اور یہ انجنئیر ارشد عباسی نے شائع کی ہے اس میں حکومت اور اس کی پالیسیوں کو بہت اہمیت دیتے اور اس پر عمل کرنے کی شدید ضرور ت ہے۔ مسٹر عباسی کے مطابق ہمارے ملک میں موجود تیل اور گیس کے بہت سے ذخائر موجود ہیں۔ جب کہ ہماری نا اہلی کی وجہ سے ملک میں پیدا شدہ خام تیل ملک کی صرف 15فیصد ضروریات پوری کرتا ہے اس ضمن میں امریکہ کے ادارے “United States Energy Information Administration” EIA) (کے مطابق پاکستان میں 9بلین بیرل تیل نکالا جا سکتا ہے یعنی یہ موجود ہے اور یہ 73سال کے لیے کافی ہو گا ۔

اب ذرا سوچیں کہ ہمارے ملک میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے 9 بلین بیرل تیل کے ذخائر موجود ہیں لیکن ہم صرف 90ہزار بیرل تیل یومیہ نکال رہے ہیں۔ EIA کے مطابق پاکستان میں قدرتی گیس کے 105ٹرلین کیوبک فٹ ذخائر موجود ہیں مگر ہم اپنی غلط حکمت عملی اور غلط ترجیحات کی بنا پر صرف3.2 بلین کیوبک فٹ گیس روزانہ پیدا کر رہے ہیں۔

اس سلسلے میں خیبر پختون خوا آئل اور گیس کمپنی (KPOGCL) نے کامیابی کا ایک عظیم کام سر انجام دیا۔ اُس وقت جب صوبے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری تھی تو کمپنی نے پاکستانی فوج کی پناہ اور مدد حاصل کر کے 2013میں تیل کو 30,000بیر ل یومیہ سے بڑھا کر 2017 تک 54000 بیر ل یومیہ تک پہنچا دیا۔ اور اس وقت یہ صوبہ میں پیدا ہونے والے کل تیل کا تقریبا 60فی صد پیدا کر رہی ہے۔ مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں جو سوال پیدا ہوتے ہیں وہ درج ذیل ہیں۔

اول: اگر بھارت نے سندھ میں نواب شاہ، بدین اور خیر پور میں سرحد کے پار اپنے علاقے میں 3.6 بلین بیرل کے ذخائر دریا فت کئے ہیں تو ہم ایسا کیوں نہیں کر سکتے۔ وجہ ہماری نااہلی اور غلط ترجیحات ہیں۔

دوم: اگر بھارت BHAGYAM OIL FIELD جو کہ نواب شاہ، خیر پور اور بدین کے بارڈ کے پار واقع ہے سے دو لاکھ بیرل تیل نکال رہا ہے تو ہم ایسا کیوں نہیں کر سکتے؟

سوم: ہم نے تمام بین الاقوامی تیل کی کمپنوں کو ملک سے کیوں نکال دیا ہے؟

چہارم: وہ کیا وجوہات ہیں جن کی وجہ سے تیل کی تلاش میں ہونے والی بین الاقوامی بلواسطہ سرمایہ کار ی جو کہ 5سال پہلے (جولائی۔۔۔نومبر2017) میں 532 بلین ڈالر تھی سے کم ہو کر صرف 73 بلین ڈالر رہ گئی؟
پنجم: کیا وجہ ہے کہ ملک میں جو گیس اور تیل دریافت ہوا ہے ہم اسے National GRID سے متصل کیو ں نہیں کرتے؟
ششم: کیا سبب ہے کہ ملک میں موجود 65فی صد گیس اور تیل کے ذخائر کو نکالنے اورپھر اسے استعمال میں کیوں نہیں لایا جا رہا؟

ایک رپورٹ کے مطابق ان تمام سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:
اول: فرسودہ اور OUT DATED پیٹرولیم پالیسی
دوم: OVER REGULATION یعنی نامناسب رکاوٹیں۔ جن کا کوئی جواز نہیں ہے۔
سوم: فعال اور قابل عمل حکمت عملی کی تشکیل کی غیر موجودگی
چہارم: جو حکمت عملی اختیار کی گئی ہے اُس پر عمل درآمد میں نقائص پائے جاتے ہیں۔
پنجم: تیل اور گیس کی پالیسی کو عملی طور پر لاگو کرنے میں جذبے اورCommitment کی کمی
ششم: 18th Commitment

قارئین! ہم اپنی غلط حکمت عملی اور نااہلی کی وجہ سے اپنی تیل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 85فی صد تیل درآمد کر رہے ہیں۔

نیز نا معلوم وجہ کی بنا پر LNG درآمد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اگر ہم قابل عمل پالیسیاں مرتب کریں اور اُن پر مکمل طور پر عمل درآمد کیا جائے تو ہمیں اپنی درآمد کا 75 فی صد پیسہ توانائی کی درآمد پر خرچ نہیں کرنا پڑے گا۔ اس سلسلے میں چندسفارشات درج ذیل ہیں۔

اول: نئی اور قابل عمل Hydrocarbon exploratory licencing policy یعنی تیل اور گیس کی نئی قابل عمل اور لائسنس دینے کی پالیسی کا اجراء
دوم: 18 ویں ترمیم سے پیدا ہونے والی رکاوٹیں ختم کی جائیں۔
معاشی ترقی کے لیے یہ لازمی ہے کہ ہم گیس اور تیل میں خود کفالت حاصل کریں۔

نیز ابھی تک ہم سمندر سے تیل اور گیس حاصل کرنے کے لیے صرف بیانات پر اکتفا کر رہے ہیں اس کام کو فوری طور پر شروع کرنے اورپایہ تکمیل تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ لیکن اس سلسلے میں اول ترجیح خشکی یعنی زمین سے تیل اور گیس نکانے کو دی جانی چاہیے جو کہ صرف 200 میٹر گہرائی پر موجود ہے۔ جب کہ سمندر سے تیل 5000 میٹر گہرائی پر ہے۔ اس کو ثانوی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ گیس اورتیل کی تلاش کے باعث ملک کو توانائی کے بحران سے نکالا جا سکتا ہے۔ صرف ایک اس شعبے پر بھر پور توجہ کے بعد ہم معیشت کے پہیے کو بخوبی دھکا لگا سکتے ہیں اور خوشحالی کی طرف قدم بڑھا سکتے ہیں۔ مگر اس سلسلے میں نئی پالیسوں پر ہنگامی بنیادوں پر عمل درآمد کرتا ہو گا۔ جس طرح NAB احتساب کے حوالے سے بر سر پیکار ہے اسی طرح ترقیاتی منصوبوں کو بھی جانچا جائے تا کہ حالات قابو میں آ سکیں ورنہ عوام مشکلات کے بھنور میں پھنس جائیں گے اور ملکی سا لمیت خطرے میں پڑ جائے گی۔ کیونکہ روز بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اس عدم توازن کو کنٹرول کرنا شاید کسی کے بس میں نہیں رہا۔ جس سے عوام بے حد پریشان ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں