313

شادی میں تاخیر کے اسباب اور مسنون شادی….(محمد اکمل بھٹی. پاکپتن)

محمد اکمل بھٹی۔ پاکپتن

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اے نوجوانو! جو شخص تم میں سے شادی کی طاقت رکھتا ہے وہ ضرور شادی کرلے کیونکہ شادی نظر کو جھکانے والی اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے والی ہے‘‘ (بخاری۔ کتاب النکاح)
اس حدیث کے علاوہ بہت سے مقامات پر کتاب وسنت میں شادی کی رغبت موجود ہے اور طاقت ہونے کے باوجود شادی نہ کرنے والوں کے متعلق رسول اکرم ﷺ نے بڑی وعید سنائی ہے۔ شادی کرنے کے بہت سارے فائدے ہیں۔ شادی سے بنی نوع انسان میں اضافہ ہوتا ہے اور دنیا کا نظام قائم ودائم رہتا ہے۔

ارشاد باری تعالی ٰ ہے:’’اللہ تعالیٰ نے تمہاری جانوں سے بیویاں پیدا کیں اور پھر ان سے بچے اور پوتے پیدا کیے‘‘۔ (سورۃ انحل آیت نمبر 72)

مسنون شادی کے بعد خاوند کو بیوی انمول ہدیہ کے طور پر ملتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: ’’دنیا کی بہترین چیز نیک عورت ہے‘‘(مسلم۔ کتاب الرضاع)

شادی اخلاقی بیماریوں کا علاج :

جوانی میں شیطان شہوت انسانی کو استعمال کرکے انسان میں بے راہ روی پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اس فطری نقاضے کا فوری اور فطری حل کردیا جائے تا انسانی اخلاقی بیماریوں سے بچ کر اپنے اصل مقصد عبادت الٰہی اور دعوت دین وجہاد میں یکسوئی سے مصروف ہوجاتا ہے اور شادی نہ کرنے کی صورت میں وہ نیچ اور گھٹیا حرکتوں پر اتر آتا ہے۔ کبھی غیر محرم عورتوں کو دیکھ کر،کبھی لچر اور فحش باتیں اور گانے سن کر آنکھوں اور کانوں کے زنا کا مرتکب ہوتا ہے۔ کبھی فحش گفتگو کرکے دل لبھانے کی کوشش کرتا ہے اور پھر بھی اس کی ضرورت پوری نہیں ہوتی۔

ذرا غور کرنے کی بات ہے مرد شادی کرتے ہیں، ہیجڑے شادی نہیں کرتے یہ ایک بنیادی اصول ہے۔ اللہ کی قدرت کاملہ دیکھئے کہ شادی سے مردانگی میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ نہ کرنے سے کمی واقع ہوتی ہے۔ انسانی جسم میں اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ جس عضو کو استعمال کیا جائے وہ زیادہ ٹھیک رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مزدور آدمی جسمانی طور پر ایک افسر آدمی سے تنومند ہوتا ہے۔ جو جسمانی محنت زیادہ نہیں کرتا۔ ڈرائیور کی دور کی نظر ٹھیک رہتی ہے کیونکہ وہ اسے مسلسل استعمال کرتا ہے جب کہ ظالب علم کی نزدیک کی نظر ٹھیک رہتی ہے کیونکہ وہ اسے استعمال کرتاہے ۔اورشادی نہ کرنے سے بچے خود لذتی کاشکار ہوجاتے ہیں ۔ جس سے مردانگی ختم ہوجاتی ہے۔ پھر جب لڑکے کی شادی ہوتی ہے تب تک وہ ویسے ایکسپائر ہوجاتا ہے جس کا نتیجہ شادی کے بعد شامنے آتا ہے۔ پھر یا تو وہ بیچارہ حکیموں کی تلاش میں ہوتا ہے یا بیوی کے نیچے لگ جاتا ہے۔ بلکہ بعض اوقات نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے۔

شادی باعث اجر:

اللہ تعالیٰ کا کمال انعام دیکھیں کہ شادی مصلحت نفس ہونے کے ساتھ ساتھ باعث اجروثواب بھ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ ہر وہ لقمہ جو خاوند بیوی کو کھلاتا ہے اس کے لیے اجر پاتا ہے۔ صحابہ نے کہا! اے اللہ کے رسول ہم میں سے کوئی اپنی بیوی سے ازدواجی تعلقات قائم کرتا ہے تو کیا وہ اس کا بھی اجر پاتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا خیال ہے اگر وہ حرام طریقے سے شہوت پوری کرتا تو گنہگار نہ ہوتا؟ اب جب اس نے حلال طریقہ اختیار کیا ہے تو اس کے لیے اجر ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب الزکوٰۃ)

نبی ﷺ کی ایک اور حدیث جس کی سند میں کلام ہے لیکن اس پر عمل کرنے میں کوئی عار نہیں ہے کیونکہ معنی مفید ہے۔ فرمایا:تین چیزوں کو لیٹ نہ کرو:

۱۔ نمازکو جب اسکا وقت ہوجائے۔ ۲۔ بچی کی شادی کو جب کہ اس کو حیض آنے لگے۔ ۳۔ جنازے کو جب حاضر ہوجائے۔
شادی میں تاخیر کا باعث بننے والی چندرکاوٹیں:

۱۔ روزگار کا مسئلہ:

سب سے پہلا سبب عموماً لڑکے کے گھروالوں کی طرف سے یہ ہی ہوتا ہے کہ ابھی لڑکا بے روزگار ہے۔ پہلے یہ اپنا کوئی روزگار بنالے پھر اسکی شادی کریں گے۔ ہم نے کتنی بار دیکھا ہے کہ بہت سارے لوگ شادی کے بعد بے روزگار ہوجاتے ہیں۔ تو کیا ان کی عورتیں طلاق لے لیتی ہیں، اللہ تعالی نے کیا خوب قانون بیایا ہے ۔ فرمایا:’’اور اپنے غیر شادی شدہ مردوزن کی شادیاں کردو اپنے غلاموں اور لونڈیوں مین سے بھی نیکوکاروں کی شادیاں کردیاکر، اگر وہ فقیر ہونگے تو اللہ اپنے فضل سے انھیں غنی کردے گا۔ اللہ تعالیٰ بہت وسعت والا علم والا ہے‘‘۔ (سورۃ النور۔ آیت نمبر32)
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تین آدمیوں کو خود رب العالمین نے ذمہ لیا ہے۔ ان میں سے ایک وہ ہے جو عفت کی حفاظت کے لیے شادی کرتا ہے‘‘۔
(سنن نسائی۔ کتاب النکاح)

۲۔ جہیز کامسئلہ:

ایک دور تھا کہ مسلمان تاجر جہاں بھی جاتا تھا، اسلام کی شمع سے اس علاقے کو منور کردیا کرتا تھا۔ بچپن میں پڑا کرتے تھے کہ برصغیر میں اسلام عرب تاجروں کے ذریعے ہی داخل ہوا اور وہ چلتے پھرتے سراپا دعوت ہوتے تھے مگر افسوس ہے کہ مسلمان برصغیر میں سینکڑوں سال رہے لیکن انہوں نے الٹا ہندؤں کی رسم ورواج کو اپنا لیا۔ ان رسومات میں سے ایک رسم بد جہیز ہے۔ جب سے لڑکی پیدا ہوتی ہے گھر میں صف ماتم بچھ جاتی ہے اور جہیز کی تاری شروع ہوجاتی ہے۔ (الا ماشا اللہ)۔ اور پھر جب تک جہیز کی مطلوبہ مقدار حاصل نہیں ہوجاتی اس وقت تک شادی کو لیٹ کیا جاتا ہے۔ اور پرھ اس کام کے لیے لوٹ کھسوٹ ، رشور اور سود خوری سب کو روا رکھا جاتا ہے بلکہ بچی کا والد اتنا قرض بھی لے لیتا ہے کہ جس کو وہ آئندہ زندگی بھر اتارتا رہتا ہے۔ اور لڑکے کی طرف سے بھی کمال ڈھٹائی اور بے غیرتی کا ثبوت دیتے ہوئے سامان کی لسٹ پیش کی جاتی ہے۔ حالانکہ اسلام میں اس چیز کا کوئی تصور تک نہیں ہے۔ ارشاد ربانی ہے: ’’مرد عورتوں پر حاکم ہیں ایک اس لیے کہ اللہ نے ان کو ان پرفضیلیت دی ہے دوسرا اس لیے کہ وہ اپنا مال خرچ کرتے ہیں‘‘۔ (سورۃ نساء۔ آیت نمبر34)

تو جب لڑکا سارا مال سسرال سے مانگتا ہے اور خود خرچ نہیں کرتا تو اس کو مرد بننے کی کیا ضرورت ہے؟ خود رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیٹی فاطمہؓ کے لیے جن چند معمولی چیزوں کا انتظام کیا تھاجن میں ایک سرہانہ یا گدا جس میں کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے، ایک چادر اور ایک مشکیزہ شامل تھا اور وہ بھی حضرت علیؓ کی زرہ فروخت کرکے لی گئیں تھیں۔

۳۔ مہر میں افراط وتفریط:

بعض اسلامی ممالک میں بہت بڑا مہر سب سے بڑی رکاوٹ ہے جس کی وجہ سے شادیاں لیٹ ہورہی ہیں۔سعودیعرب ممالک میں ستر، اسی روپے تک کی مالیت کا مہر لیا جاتا ہے اور لیتا بھی لڑکی کا والد ہے اور کویت میں اس کا بھی دس گنا تک ہے۔ اور ہمارا حال یہ ے کہ ہمارے کچھ صاحب حیثیت لوگ 32روپے کچھ پیسے پر ہی اکتفا کرتے ہیں اور اس کو شرعی مہر سمجھتے ہیں۔ یہ محض جھوٹ کا پلندہ ہے اور شریعت میں کہیں بھی ثابت نہیں ہے۔ حیثیت کے باوجود اتنا کم دینا عورت کی حق تلفی ہے۔ عورت اپنے خاوند کی حیثیت کے مطابق مناسب مہر لے سکتی ہے۔ یادرہے عورت کے پاس مباشرت سے پہلے مقرر شدہ مہر ادا کرناضروری ہے۔ بعض کنگلے حضرات لاکھوں میں مہر لکھوا دیتے ہیں اور پھر بیوی سے مہر معاف کروانے کی بھیک مانگے ہیں۔ یاد رکھیے یہ بیوی کا حق ہے اگر وہ اپنی خوشی سے معاف نہ کرے تو اس پر کوئی ملامت نہیں۔ حدیث پہ غور کیجئے: ایک صحابی کو رسول ﷺ فرمارہے ہیں کہ لوہے کہ انگوٹھی ہی تلاش کر لاؤ اور پھر قرآن کی چند سورتیں سکھانے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ دوسرے طرف عبدالرحمٰن بن عوف ایک کھجور کی گٹھلی کے برابر سونا مہرمیں دیتے ہیں۔ (بخاری۔ کتاب النکاح)الغرض حق مہر مرد کی حیثیت کے مطابق ہونا چاہئے۔

۴۔ برادری ازم:

آج کے مسلمان برادری ازم کے خول میں جکڑے ہوئے ہیں کہ لوجی ہم تو اپنی فیملی سے باہر رشتہ نہیں کرتے تو اس کے ساتھ ساتھ کبھی کبھی وٹہ سٹہ کی شرط بھی لگ جاتی ہے۔ چنانچہ یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ میں تجھے اپنی بیٹی یا بہن کا رشتہ دیتا ہوں اور پرھ تو مجھے اپنی بیٹی یا بہن کا رشتہ دینا۔ اور بسا اوقات وہ بچی ابھی پیدا بھی نہیں ہوئی ہوتی ۔ اب اس کی متوقع پیدائش کا انتظار کیا جاتا ہے۔ اس طرح برادری ازم کے بت کی پرستش کی جاتی ہے اور لڑکے لڑکیاں انتظار میں بوڑھے ہوجاتے ہیں۔ پھر اگر شادی کی نوبت آبھی جائے تو عمر میں اتنے فرق کے باعث دونوں ایک دوسرے کے احساسات کا صحیح ادراک نہیں کرپاتے جس سے خفیہ یارانے لگتے ہیں یا پھر طلاق تک نوبت آجاتی ہے۔

۵۔ لڑکے کی عمر:

بعض لوگ لڑکے کی عمر زیادہ ہونے کو بھی رکاوٹ بنالیتے ہیں۔ یہ غیر شرعی رکاوٹ ہے۔ عہد نبوت میں غور کریں کہیں نوعمر عائشہؓ کی شادی 52سالہ رسول اللہ ﷺ سے ہورہی ہے۔ اور کہیں حضرت عمر بن خطابؓ اپنی بیٹی حفصہ کو اپنی عمر سے بھی بڑے لڑکے ابوبکر صدیقؓ پر پیش کررہے ہیں۔ پھر انکی شادی بھی رسول ﷺ سے ہوجاتی ہے۔ اور کہیں علی بن ابی طالب کی بیٹی کی شادی اپنے سسر کے بھی سسر عمر بن خطابؓ سے ہورہی ہے۔ ہاں البتہ جوانی کے تقاضوں کو مدنظر رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن اگر آدمی صحت مند ہو تو زیادہ عمر کا بہانہ بنانا خلاف شرع ہے اور اس وجہ سے شادی لیٹ نہیں کرنی چاہیے چاہیے ۔اخلاق اور دین کو معیار بنانا عمر کونہیں۔

۶۔ سابقہ طلاق:

بعض لوگ شادی اس لیے ردکردیتے ہیں کہ اس لڑکے نے پہلے طلاق دی ہوئی ہے یا وہ لڑکی طلاق یافتہ ہے۔ ہمیشہ طلاق میں سب سے بڑا سبب شیطان ہوتا ہے اور زوجین بذاتِ خود اچھے ہوتے ہیں یا کم از کم زوجین میں سے ایک تو ضرور بے قصور ہوتا ہے اب طلاق کی وجہ سے مطلق رشتے رد کرتے چلے جانا اور تحقیق نہ کرنا بھی زیادتی ہے اور شادیوں میں خود ساختہ رکاوٹ ہے۔

۷۔ متوسط گھرانوں میں اعلیٰ تعلیم:

فطرتاً لڑکوں کی نسبت لڑکیاں زیادہ محنتی ہوتی ہے۔ لیکن اکثر یہ ہوتا ہے کہ زیادہ امیر لوگوں کی اولاد پیسے کی فراوانی کی وجہ سے بگڑ جاتی ہے وہ پڑھائی کو اپنے لیے قید سمجھتے ہیں اس طرح زیادہ امیرلوگ اپنے بچیوں کی جلدی شادی کردیتے ہیں دوسری طرف زیادہ غریب لوگ تعلیم کے اخراجات کو برداشت نہیں کرسکتے۔ اس لیے وہ بھی اپنی اولاد کی کم عمر میں ہی اپنے جیسے غریب گھرانوں میں شادی کردیتے ہیں۔ مگر متوسط گھرانے والے اپنی اولاد کو اعلیٰ تعلیم دلواتے ہیں اور اس اعلیٰ تعلیم پر جتنا بھی پیسہ لگانا پڑے لگا تے ہیں۔ بس پھر یہ لڑکیاں اعلیٰ تعلیم کے چکر میں اپنی ابتدائی جوانی کو سکول، کالجز اور یونیورسٹی میں صرف کردیتی ہیں۔ پھر جب وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرلیتی ہیں تو پھر وہ اعلیٰ خاندان میں بیاہے جانے کے لیے اپنی آنکھوں میں سجا لیتی ہیں اور پھر افسانوی دنیا میں زیادہ وقت گزارتی ہیں اور افسانوی سٹوری کی طرح سوچتی ہیں کہ ایسا شہزادہ آئے گا جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوگا اور اسے بیاہ کر ایک بہت برے محل میں لے جائے گا جہاں پر وہ ملکہ بن کر راج کرے گی جوکہ حقیقی دنیا میں رہتے ہوئے ناممکن نظر آتا ہے۔ اور انکی ہرممکن یہ کوشش ہوتی ہے کہ ہمیں ہماری تعلیم اور معیار سے بڑھ کر رشتہ ملے ۔ غرضیکہ متوسط گھرانے کی وہ لڑکیاں دوسرے متوسط گھرانوں کو اپنے معیار کا سمجھتی ہی نہیں اور وہ امیر اور پڑھے لکھے لڑکوں کے انتظار میں اپنی عمر کو خواہشوں کی نظر کردیتی ہیں۔ اور تقریباً 90فیصد لڑکیاں ہیں جن کی خواہشات حسرت میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔

۸۔ حسین بہو کی تلاش:

ساس اور نندوں کی خواہش ہوتی ہے کہ ہماری بہو یا بھابھی کا گول کتابی چہرہ، موٹی سحرزدہ آنکھیں، سفید چمکیلی رنگت، باریک ہونٹ، چھوٹی باچھیں، کم عمر، اعلیٰ تعلیم یافتہ، عادات فرشتوں جیسی اور آواز کوئل جیسی، ڈھیر سارا جہیز لانے والی ہو اور بیٹا یا بھائی خواہ کالا ہو، شرابی ہو، آوارہ ہو لیکن بہو حسن وجمال کا پیکر ہونی چاہیے۔ اگر لوگ دیکھیں تو دیکھتے ہی رہ جائیں ۔ اسی چکر میں ایک عورت دوسری عورت کو بری بے دردی سے ٹھکرادیتی ہے۔ عام سی شکل وصورت والی تو ان کو پسند نہیں آتی اور عورت اپنی ھسین بہو کی تلاش میں ملک کا کونہ کونہ چھان مارتی ہے پھر کہیں جا کر دس بارہ سال بعد انھیں کوئی پسند آئی ہے تو یہ ایک بلاوجہ کی دیری ہے۔

قارئین! چندایک وجوہات بیان کی ہیں جن کی وجہ سے ہم اپنے بچوں اور بچیوں کی شادیاں لیٹ کردیتے ہیں تو پھر ہوتا یہ ہے کہ جوانیاں ڈھلنا شروع ہوجاتی ہیں۔ لیکن ابھی تک شادی کی راہ میں مختلف رکاوٹیں کھڑی ہوتی ہیں۔ پھر معاشقے چلتے ہیں، تعلیمی ادارے بھیانک کردار ادا کرتے ہیں۔ عدالتوں میں ’’لومیرج‘‘ کے چکر چلتے ہیں، پگڑیاں اچھلتی ہیں اور خاندانوں کے ماتھے پر بدنامیوں کے دھبے لگتے ہیں۔ غور کریں اگرکوئی لڑکی شادی سے قبل غلطی کرلیتی ہے تو شادی کے بعد اس کا خاوند یا تو اسے طلاق دے دیتا ہے اور اگر گھر والوں کے دباؤ یا ناک کی وجہ سے اگر اپنا گھر بناتا بھی ہے تو وہ زندگی کو پیار نہیں کرتا اور دل کا مریض ہوکر رہ جاتا ہے۔ اس لیے ہمیں اپنی اولاد کے جوان ہوتے ہی ان کی شادی کا اہتمام کرنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں