354

ای ایس آر(ارتھروسائیٹس سیڈی مینٹیشن ریٹ) کیا ہے؟

تحریر: حکیم محبوب الٰہی.

یہ ایک عمومی ٹیسٹ ہے۔ اس کا بڑھنا کسی خاص مرض کی طرف اشارہ نہیں کرتا یہ کسی مرض کا ڈائگنوسٹک ٹیسٹ نہیں ہے لیکن اس کا بڑھ جانا ایک اشارہ ہے کہ جسم میں کوئی مزمن مرض جس میں کینسر ہو سکتا ہے ٹی بی ہو سکتی ہے یا آٹو امیون ڈیزیز موجود ہے۔

ہمیں یہ ٹیسٹ کب کروانا چاہیے؟

جب بہت پرانا سر درد ہو۔
پرانا بخار ہو جو جان نہیں چھوڑ رہا ہو.
وزن کم ہورہا ہو.
جوڑوں میں درد.
بھوک بہت کم ہوگئی ہو.
خون کی کمی جو بلا کسی ظاہری ںیماری کے ہو رہی ہو.
تو ہمیں ای ایس آر کروا لینا چاہیے۔

ای ایس آر ہوتا کیسے ہے؟

خون کا نمونہ لے کر ایک پتلی لمبی ٹیسٹ ثیوب میں ڈال کر رکھ دیا جاتا ہے نارملی خون کے سرخ ذرات بہت آہستہ آہستہ نیچے بیٹھتے ہیں ایک گھنٹے میں پلازما سے الگ ہوکر نیچے بیٹھنے والے سرخ ذرات کی پیمائش سے نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کسی بھی انفیکشن کی صورت میں سرخ ذرات بیٹھنے کا یہ عمل تیز ہو جاتا ہے۔

ای ایس آر کی نارمل ویلیوز

بچوں میں یہ 10تک نارمل ہوتا ہے
50 سال سے کم عمر مردوں میں 15 تک نارمل تصور کیا جاتا ہے
اور 20تک نارمل تصور کیا جاتا ہے پچاس سال سے زائد عمر کے مردوں میں
پچاس سال سے کم عمر خواتین میں 20 نارمل ہے اور پچاس سال سے زیادہ عمر کی خواتین میں 30 نارمل ہے۔
البتہ مختلف لیب کی اور مختلف ملکوں کی نارمل رینج میں تھوڑی بہت کمی بیشی ہو سکتی ہے.

بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ تمام دیگر ٹیسٹ بلکل نارمل آتے ہیں ٹی بی کینسر یا دیگر کوئی مرض لاحق نہیں ہوتا لیکن ای ایس آر کی ویلیو بڑھی ہوئی ہوتی ہے تو سوال ہے ایسی صورت میں ہمارے پاس کوئی علاج موجود ہے؟
جی یقینی طور پر علاج موجود ہے لیکن یہ علاج ایک کوالیفائیڈ مستند طبیب کو ہی کرنا چاہیے کیونکہ علاج میں استعمال ہونے والے نسخہ جات کو ایک کوالیفائیڈ اور تجربہ کار حکیم ہی بنا اور استعمال کر سکتا ہے.
علاج میں پانچ اکسیر اور چھ تریاق کا کچھ عرصہ استعمال ای ایس آر کو نارمل کردیتا ہے۔
یہاں میں دوبارہ عرض کروں گا کہ ان نسخہ جات کو صرف کوالیفائیڈ اور تجربہ کار حکیم ہی اچھی طرح سوچ سمجھ کر اور مریض کی کنڈیشن اس کی قوت اس کی عمر کے حساب سے ہی استعمال کروائیں اس کی مقدار خوراک مختلف مریضوں میں مختلف ہو سکتی ہے۔

اکسیر اور تریاق کی تعریف حکیم اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ یہ کس لیول کی ادویات ہیں اور ان کا بے احتیاطی سے استعمال نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے اس لیے غیر طبیب حضرات ہرگز کوشش نہ کریں یہ معلومات صرف علم پھیلانے کی غرض سے صرف اطباء کرام کے لئے دی گئی ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں