307

عالمی یوم صحافت اور پاکستان کا صحافی…..(پیر توقیر رمضان)

تحریر: پیر توقیر رمضان

صحافت کو معاشرے میں ایک ہم مقام حاصل ہے، عالمی یوم صحافت کے موقع پر دنیا بھر میں تقاریب تو جاری ہیں مگر اس دن کے بعد صحافیوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوگا، صحافیوں کے مسائل کی بات کرنیوالا کوئی نہیں ہوگا۔ کہیں صحافیوں کو دھمکیاں دی جارہی ہیں، کہیں تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے تو کہیں جھوٹے مقدمات میں شامل کیاجارہا ہے، حال ہی میں وہاڑی کی تحصیل بورے والا میں صحافیوں پر مقدمہ درج کرکے درجن سے زائد صحافیوں کو جیل میں بند کر دیا گیا. جس پر کوئی خاص ایکشن نہیں لیا جاسکا، اس واقعہ پر پولیس کا کردار انتہائی قابل مذمت ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک کے معاشرے میں صحافیوں کو ایک بلند مقام حاصل ہے کیونکہ اپنے علاقہ کے مسائل کا خاتمہ، اپنے علاقہ کے لوگوں کے ساتھ ہونیوالے ناروا سلوک کا خاتمہ صحافی اپنی خبروں، آرٹیکل، ڈائریوں اور کالم کی شکل میں کرنے کیلئے بھر پور جدوجہد کرتا ہے، آج پاکستان بھر میں 3 مئی کے موقع پر صحافیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے صحافت کا عالمی دن منایا جا رہاہے، مختلف صحافی تنظیموں کے زیر اہتمام ریلیاں نکالی جارہی ہیں، تقریبات کا انعقاد کیا جارہاہے، تین مئی صحافت کا عالمی دن منانے کا مقصد صحافیوں کے ساتھ ہونے والے نارواں سلوک کے متعلق عوام اور دنیا کوآگاہ کرنا ہے کہ صحافی عوام کو مختلف اداروں اور ملک وقوم کا آئنہ خبروں اور اخبارات کی صورت میں دیکھاتے ہیں اور صحافیوں کے ساتھ جو سلوک کیا جارہاہے یہ وہ ہے، صحافت جیسے مقدس پیشہ سے منسلک افراد جرنلسٹ دن بھر دھکے کھاتا ہے اپنے شہر کے مسائل کا اجاگر کرتا ہے اپنے علاقہ کے مسائل کو خبروں کی شکل میں اعلیٰ حکام تک پہنچاتا ہے اور اس کا مقصد صرف اور صرف عوامی خدمت کا جذبہ ہوتا ہے، آج پاکستان میں صحافیوں کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کے متعلق عوام کو آگاہی کیلئے یوم صحافت منایا جارہاہے، پاکستان میں کئی صحافیوں نے قربانیاں دیں، شہید ہوئے اور صحافیوں کے ان بھائیوں کی یہی قربانیاں صحافیوں کے خون کو گرما دیتی ہیں.

پاکستان کے سینئر صحافیوں مجید نظامی جنہوں نے صحافت کی دنیا میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا او ر صحافتی دنیا میں اپنے ملک وقوم کا نام روشن کیا، جس ملک میں مجید نظامی جیسے سینئر صحافی موجود ہوں گے وہ ملک کبھی نقصان نہیں اٹھائے گا، ایسے صحافی ملک کی حفاظت کیلئے اپنی جان کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے، آج کا دن صحافت کے عالمی دن کے نام سے منانے کا مقصد ایسے شہداء صحافیوں کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے جنہوں نے ہر میدان میں اپنے ملک و قوم کا نام روشن کیا، آزادنہ صحافت کرتے ہوئے اپنے علاقے کے مسائل اجاگر کرنے کیلئے قلم کی طاقت کو استعمال کیا. وہ قوم کبھی ناکام نہیں ہوتی جو قلم کی طاقت کو مانتی ہے، صحافی قلم کی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے اپنے علاقہ کے مسائل کے خاتمہ کیلئے بھرپور کوشش کرتا ہے، صحافی علاقائی مسائل کے خاتمہ کے لئے عوام کے بازو ہوتے ہیں آج ملک بھرمیں صحافی اپنے شہید بھائیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ریلیاں اور تقریبات کا انعقاد کررہی ہے، آج پاکستان کے شہروں میں صحافی یوم صحافت بڑے جوش وخروش سے منا رہے ہیں۔ پاکستان بھر کے صحافی شدید مشکلات کا شکار ہیں، صحافی روزانہ عوام کے مسائلوں پر آواز اٹھاتے ہیں لیکن یوم صحافت کے موقع پر صحافی اپنے مسائلوں کے حق میں آواز اٹھاتے ہیں اور ان کے ساتھ ہونیوالے سلو ک کو اعلیٰ حکام تک پہنچانے کیلئے بھر پور جدوجہد کرتے ہیں، اس کے علاوہ یوم صحافت کا ایک مقصد ان صحافیوں کو خراج تحسین پیش کرنا ہے جو اپنے علاقہ کے مسائلوں کے خاتمہ کے لیے آواز اٹھاتے رہے اور وہ آواز اٹھاتے ہوئے اس دنیا سے چلے گئے، صحافیوں کے ساتھ ہونیوالے نارواسلوک کے خاتمہ کیلئے پاکستان کے سینئر صحافیوں نے اپنی مددآپ کے تحت کچھ صحافی تنظیموں کا قیام بھی عمل میں لایا. جن کے تحت صحافیوں کو ان تنظیموں کے پلیٹ فارم پر اکٹھے ہونے کا کہا گیا، دنیا کے جس ملک میں صحافیوں کو کوئی روک ٹوک نہ ہو وہ ملک کبھی نقصان نہیں اٹھاتا، یہ کہنا صحیح ہوگا کہ کسی بھی ملک میں معاشی و سماجی ترقی کے لیے آزادانہ صحافت کا ہونا بہت ضروری ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں