269

مسلسل جنگ……(سیف لُڑکا)

تحریر۔۔۔سیف لُڑکا

جنگوں کے بارے میں ہم اکثر تاریخ کو پڑھتے رہتے ہیں اور سوچتے رہتے ہیں کہ جنگ لفظ کتنا آتش بھرا ہے۔ جب جنگ چھڑ جاتی ہے تو گھنٹوں دنوں ہفتوں مہینوں سالوں تک پہنچ جاتی ہے۔ آخر اس کا کوئی نہ کوئی حل نکل ہی آتا ہے۔مگر میں یہاں آج یکم مئی کے حوالے سے مختصر سی بات کروں گا۔ یکم مئی کا دن مزدوروں کا عالمی دن کے نام پہ منایا جاتاہے۔ تو میں عرض کر رہا تھا جنگ شروع ہوتی ہے اورآخر ختم ہو جاتی ہے۔ مگر یہاں میں مزدور کی جنگ کی بات کروں گا جو بیچارا اپنےپاپی پیٹ کی خاطر مسلسل جنگ لڑتا ہے۔ جس کا کوئی اختتام نہیں سوائے زندگی کی بازی ہارنے کے۔ مزدور تو مزدور ہی رہتا ہے۔ جب تک زندہ رہتا ہے۔ تو میرا یکم مئی کے حوالے سے اس چھوٹے سے آرٹیکل مسلسل جنگ میں ایک چھوٹا سا پیغام ہے تمام ملز وفیکٹری مالکان کے لۓ ٹھیکیداروں کےلۓ دیگر امیر لوگوں کیلئے۔ کہ مزدور کا حق مزدور کو دے دیا کریں۔ مزدور کو جھڑکیں مت۔ اس کے پہلے دس دن کی تنخواہ ہڑپ نہ کیا کریں۔ مزدور کی خوشی غمی کا خیال کریں۔ ہر حیلےسےمزدور کی مدد کر دیا کریں۔ کیونکہ مزدور زندگی تو ہار جاتے ہیں مگر غربت سے لگی مسلسل جنگ لگی ہی رہتی ہے۔ صرف اللہ کی رضا کے لۓ مزدوروں کا خیال رکھنا چاہیئے۔ کیونکہ وہ بھی ہماری طرح دل رکھتے ہیں اور انسان ہیں۔ انسانوں کی قدر کرنا ہی انسانیت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں