330

مہاراجہ رنجیت سنگھ اور گھوڑی…..(منتخب تحریر)

(’’واقعات لاہور‘‘،مرتبہ: محمدنعیم مرتضیٰ سے متقبس)

مہاراجارنجیت سنگھ گھوڑوں کا بہت شوقین تھا۔ اس کے اصطبل میں دنیاکے نایاب گھوڑے موجود تھے۔ 1823ء میں خالصہ دربارمیں آنے والے ایک یورپی فوجی افسر بیرن چارلس ہگل (Baron Charles Hugel) کی زبانی رنجیت کو معلوم ہواکہ پشاور کے گورنریار محمد خان بارکزئی کے پاس ایک شاندارگھوڑی موجود ہے۔ مہاراجا نے یارمحمد کو اپنے وزیر فقیر عزیزالدین کے ہاتھ پیغام بھجوایاکہ وہ گھوڑی مہاراجا کو پیش کردے۔ سلطان روم اور شاہ ایران بھی گھوڑی کے حصول کے خواہش مندتھے۔ یارمحمدنے فقیرعزیزالدین کے سامنے کسی گھوڑی کی موجودگی سے صاف انکارکردیا۔ مہاراجا کے دل سے گھوڑی کاخیال کسی لمحے محو نہ ہوپایااوروہ اسے حاصل کرنے کے لیے بے چین تھا چنانچہ اُس نے گھوڑی کی تلاش کے لیے مخبرروانہ کیے۔ مخبروں نےگھوڑی کا پتا لگالیا۔

جب رنجیت سنگھ کو گھوڑی کا پتا چلا تو اس نے 1826ء میں اپنے ایک بہادر جرنیل بُدھ سنگھ سندھانوالیہ کو گھوڑی پرقبضے کے لیے کثیر فوج کے ہمراہ پشاور روانہ کردیا۔ حکم تھاکہ کچھ بھی ہوجائے، گھوڑی ہرقیمت پرسکھ دربارمیں پہنچنی چاہیے۔ اس موقع پرایک خوفناک جنگ ہوئی جس میں ہزاروں افراد مارے گئے۔ حالات کودیکھتے ہوئے یارمحمد نے ایک بارپھرپینترابدلااورجان چھڑانے کے لیے کہہ دیاکہ اس کے پاس کبھی ایسی ایک گھوڑی موجود تھی مگراب وہ مرچکی ہے۔ اب تومہاراجا کے صبرکاپیمانہ لبریز ہو گیااوراس نے 1829ء میں کنور نونہال سنگھ اور جنرل ونتورہ کی سربراہی میں اپنی افواج کو پشاور بھیجاتاکہ وہ کسی بھی قیمت پر گھوڑی کولے کر آئیں۔

یارمحمد کو پتہ چلاتواقتدار اپنے بھائی سلطان محمدخان کو سونپ کرخود جان بچانے کے لیے یوسفزئی پہاڑوں میں فرارہوگیا۔ جنرل ونتورہ نے سلطان محمدکوگرفتارکرلیااوراسے دھمکی دی کہ اگر گھوڑی نہ ملی تواس کاسرقلم کردیاجائے گا۔ سخت گیر جنرل ونتورہ کی دھمکی کارگررثابت ہوئی اورسلطان محمد نے مجبوراً گھوڑی ونتورہ کے حوالے کردی کیونکہ اس کے سوااب کوئی راستہ باقی نہیں بچاتھا۔ مورخین کہتے ہیں کہ گھوڑی جنرل ونتورہ کو پیش کرتے ہوئے سلطان محمد بچوں کی طرح بلک بلک کررویا۔گھوڑی کو فوری طورپر پانچ سو سپاہیوں کی حفاظت میں لاہور بھیج دیاگیا۔ رنجیت کو خبرملی تواس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ فوری طورپر گھوڑی کے استقبال کی تیاریاں شروع ہوگئیں۔ بادامی باغ اورقلعے کے اردگردعلاقے کے راستوں کو صاف کیاگیا۔ تمام سڑکوں پرجھاڑودیاگیاتاکہ دُھول کا ایک ذرّہ بھی گھوڑی کے نتھنوں میں نہ جاسکے۔

اس نایاب گھوڑی کے حصول کے لیے تقریباً بارہ ہزار انسا ن اپنی جان سے گئے اور سکھ خزانے سے ساٹھ لاکھ (اوربعض لوگوں کے خیال میں بارہ ارب) روپے صرف ہوئے ۔جرنیل ونتورہ کواس کارنامے پر دوہزار کا قیمتی خلعت عطاہوا۔ گھوڑی کانام’’ اسپ لیلیٰ ‘‘ ر کھا گیااور اسے لاکھوں روپے کے سونے کے زیورات اورجواہرات سے آراستہ کیاگیا۔ خاص طورپر اس کے گلے میں کوہ نور ہیرابھی پہنایاگیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں