268

ورثے میں ملے ملکی مسائل……(راؤ کامران علی، ایم ڈی)

تحریر: راؤ کامران علی، ایم ڈی.

اودھ کے نواب ببن مرزا کا رکھ رکھاؤ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا، سفید، دودھ جیسا محل، ریس کے گھوڑوں کے اصطبل، قیمتی گاڑیاں، سونے چاندی سے لدی بیگمات، رقص و سرور کی محفلیں، بازار حسن میں نتھ اتروائی کی بولی میں نواب کی موجودگی، نائکہ کی لاٹری نکلنے کے مترادف تھی، اس محل سے کبھی کوئی خالی ہاتھ نہیں لوٹا، ریاست میں کوئی بھوکا نہیں سوتا تھا کہ نواب کے لنگر خانے کھلے تھے۔ نواب ببن مرزا کے اکلوتے صاحبزادے نوابزادہ شبن مرزا ایک طوائف نیلم جان کے عشق میں گرفتار تھے، وہ طوائف بھی شبن مرزا سے خاص انسیت رکھتی تھی اور شادی کی خواہاں تھی۔ایک روز ببن مرزا دل کی دھڑکنیں تیز کرنے والے شوق میں مشغول تھے کہ ان کی دھڑکن عمر کی حد سے باہر نکل گئی اور وہ “حسین موت” سے دو چار ہوگئے۔ بے چارے شبن مرزا پر ایک دم اتنا بوجھ آن پڑا لیکن اتنی جائیداد اور دولت کے ہوتے زیادہ فکر کی کیا ضرورت تھی!

نوابزادے سے نواب بنتے ہی، شبن مرزا پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے، انکشافات در انکشافات، محل رہن پر تھا، اصطبل زمینوں سمیت بک چُکے تھے لیکن خریدار سے وعدہ لیا گیا تھا کہ اسے راز رکھے گا۔ نواب ببن مرزا، پرکھوں کے جواہرات اور بیگمات کے زیورات بیچ کر گزارا کررہے تھے۔ محل کی بولی لگی اور جو بھی ملا قرض خواہ لے گئے اور شبن مرزا، نیلم کے کوٹھے پر آن پڑے۔ قرض کے مے پیتے مرحوم ببن مرزا کے چیلوں کا راشن بھی بند ہوگیا، مفت بری اور کھابہ گیری کا خاتمہ ہوا تو یہ طفیلئے گلی کوچوں میں افسانے گاتے نظر آئے کہ نواب ببن مرزا تو بہت سمجھدار تھے اور عیش و عشرت میں رکھا لیکن ان کی ساری جائیداد شبن مرزا نے نیلم جان پر لٹا دی اور جاگیر اڑا دی۔

آج کل کچھ ایسا ہی حال عمران خان کا ہے۔ شریفین اور ان کے مفرور سمدھی نے ملک کو باپ کا مال سمجھ کر رہن رکھ کر قرضوں میں گردن تک دھنسا دیا، اورنج لائن جیسا غیر ضروری منصوبہ گلے میں ایسا پھنسا دیا کہ مکمل کریں تو سبسڈی کی مد میں نقصان اور نہ کریں تو جرمانے کی مد میں۔ تیس سالہ اقتدار میں ایک ہسپتال ایسا نہیں بنایا جہاں اپنا علاج کروا سکیں لیکن بیانیہ ہے کہ ملک کو آٹھ مہینے میں عمران خان نے دیوالیہ کردیا؟ کیا دانشوری ہے!!!!ذاتی علم اور عقل کا یہ عالم ہے کہ جب نواز شریف سے پوچھیں کہ اثاثے زیادہ کیوں ہیں، آپ ٹی وی پر فرماتے ہیں “تمھیں اس سے کیا” یعنی کہ “تینوں کی”. ابھی شریفوں کے مرغیوں اور گنوں کے “ایلان مسک” سلمان شہباز کا بیس منٹ کا انٹرویو دیکھا اور آئیں بائیں شائیں کرتا جعلی بزنس مین، اینکر کی اس بات کا جواب نہ دے سکا کہ اگر ساری جائیداد بیرون ملک کی ٹی ٹیوں سے آئی ہے تو تم کیا رائے ونڈ کے درختوں سے آم توڑتے رہے ہو؟ ان کی فیملی کی خواتین کی جائیداد کا ذکر نہیں کرنا چاہوں گا کہ بات دور تک جائیگی۔ بھٹو کا نواسہ “فوج کے سیلیکٹڈ وزیراعظم” کرتا آپے سے باہر ہورہا تھا کہ جنرل ایوب خان کے پوتے نے اسے نانا کے ساتھ اپنا دادا یاد کروایا تو وہ فلور چھوڑ کر بھاگ گیا۔ نواز اور زرداری کی آل اولاد کا یہ حال ہے، گویا ایک چور اس پر چتر. باریاں لے کر ملک کا حال “ببن مرزا” کی جاگیر جیسا کردینے والے، بے قصور “شبن مرزا” پر چڑھائی کررہے ہیں، شرم کے گھاٹے! بی اے فیل اینکرز بلیٹن سے پہلے ایک ایک گھنٹہ باقاعدہ ٹیوشن پڑھ کر کہ جاپان ملک ہے یا شہر؟ جاپان اور جرمنی کی سرحد کہنے کا مذاق اڑا رہے ہیں حالانکہ یہ ایک metaphor تھا ایک مثال تھی اور جیسے شاعر، لاکھوں میل دور چاند کا “بارڈر” محبوب کے “ماتھے” کے بارڈر سے ملا دیتے ہیں ویسے ہی ایسی مثالیں دی پوائنٹ کلئیر کرنے کے لئے دی جاسکتی ہیں۔

عمران کی حکومت ابھی کامیاب نہیں ہوئی، مہنگائی بڑھی، ڈالر بڑھا، اسٹاک مارکیٹ کریش ہوئی. یہ سب جاننے کے لئے ارسطو ہونا ضروری نہیں. ٹی وی پر بیٹھے کسی بقراط نے آج تک نہیں بتایا کہ عمران یا اسد عمر کیا ایسا کرتے کہ دہائیوں کے گند کو صاف کردیتے اور گردشی قرضوں سے جان چھڑوا لیتے اور معیشت بھی ٹھیک رہتی۔ تنقید اور تصیح میں فرق ہے ایسے ہی جیسے آپ صوفے سے اٹھ کر فریج سے پانی لینے جائیں تو خود کا سانس چڑھا ہوتا ہے اور میچ دیکھتے ہوئے انضمام الحق کو آلو کہہ کر ہدایت دے رہے ہوتے ہیں، تیز رن لے۔ دوسری بات یہ ہے کہ عمران کو پہلی بار حکومت ملی ہے تو تجربہ کار ٹیم کہاں سے لائے؟ نئے محنتی بندے لائے تو نا تجربہ کار، پرانے لگائے تو پی پی پی یا مشرف کے بندوں کا طعنہ!

کرکٹ کی فتوحات نے پہلے ہی عمران خان اور قوم کا اتنا دماغ خراب کر رکھا ہے کہ اسکا ذکر کرنا راقم کے لئے معیوب ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ شروع میں ورلڈ کپ میں بھی ایسا ہی ماندہ حال تھا۔ مزید قرضے نہیں لئے جاسکتے اور نہ ہی ملک کو آئی ایم ایف کی مسلسل داشتہ بنایا جاسکتا ہے. 72 سالہ مُلک کو اس سے نجات ملنے کے لئے یہ مشکلات تو اٹھانی پڑیں گی۔ نئی ٹیم میں ادلا بدلی کوئی بڑی بات نہیں۔ اس حکومت کی کامیابی جمہوریت کو آخری موقع ہے ورنہ یا تو صدارتی نظام آئے گا اور یا پھر “آیا جے غوری”!!!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں