182

لاہور: میرے فیصلوں پر عمل ہوتا تو پنجاب میں دو تہائی اکثریت ملتی، استعفی نہیں دے رہا: گورنر سرور

لاہور (اسد الیاس سے) گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے کہا ہے کہ میرے فیصلوں پر عمل کیا جاتا تو پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف کو دو تہائی اکثریت ملتی۔ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر پنجاب چودھری سرور نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار‘ سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی اور وزیراعظم عمران خان سے اختلافات کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ جو لوگ سمجھ ہے ہیں کہ میں استعفیٰ دے رہا ہوں‘ وہ سن لیں کہ یہ وقت بھاگنے کا نہیں عوام سے وعدے پورے کرنے کا ہے۔ کابینہ یا انتظامی تبدیلیوں اور ردوبدل سے کسی کو کسی قسم کی تشویش نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے بیرون ملک جمع کیے گئے فنڈز آب پاک اتھارٹی کو دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جب تک گورنر ہوں‘ سرور فائونڈیشن کی فنڈنگ میں شرکت نہیں کروں گا۔ اب سرور فاؤنڈیشن کا چیئرمین نہیں رہوں گا میرے لیے ہر فلاحی ادارہ اتنا ہی اہم ہے جتنا میرا ادارہ ہے۔ حلف لینے کے بعد کہا تھا کہ پاکستان کو کچھ دینے کے لیے آیا ہوں، 2013ء میں گورنر بنا تو کسی نے مفادات میں ٹکرائو کا واویلا نہیں کیا۔ اب گورنر بنا ہوں تو مفادات کے ٹکرائو کا شور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر بننے کے بعد پینے کے صاف پانی کیلئے مہم کا آغاز کیا، کسی نے پانی کے لیے فنڈ اکٹھا کرنے پر اعتراض نہیں کیا۔ اپنے خرچ پر چار بار جی ایس پی پلس کے لیے ملک سے باہر گیا، میں بیرون ملک گیا تو گورنری جانے کی باتیں کی گئیں۔ جمہوریت پر یقین رکھتا ہوں۔ اس لیے اپنے بعض فیصلوں کی قربانی دی۔ میرے اختلافات کی خبریں دینے سے اخبار زیادہ بکتا ہے یا ٹی وی شو زیادہ چلتا ہے تو کرتے رہیں، پنجاب کو 100 فیصد وزیراعلیٰ عثمان بزدار چلا رہے ہیں۔ کوئی یہ سمجھتا ہے کہ عثمان بزدار کی طاقت شہباز شریف سے کم ہے تو وہ اس کی بھول ہے۔ پنجاب میں کوئی تبدیلی نہیں آ رہی، میڈیا کی تنقید کو مثبت لیتا ہوں۔ گورنر پنجاب کاکہنا تھا مجھے گورنر بنانا پارٹی کا فیصلہ تھا۔ میں سینٹ ممبر تھا اور انجوائے کر رہا تھا۔ چودھری محمد سرور نے کہا ہے کہ پنجاب میں کوئی تبدیلی نہیں آ رہی پنجاب کو مکمل طور پر وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار ہی چلا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں