200

اسلام آباد: موبائل فون کارڈز پر تمام ٹیکس بحال.

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) سپریم کورٹ نے موبائل کارڈز پر عائد ٹیکس بحال کر تے ہوئے ٹیکس وصولی سے روکنے کا اپنا حکمنامہ واپس لے لیا۔ مختصر فیصلہ چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے سنایا۔ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔ چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہا کہ حکومت پاکستان قانون بنا دے کہ ہر بالغ پر ٹیکس لگے گا جسے ٹیکس سے استثنی چاہئے وہ درخواست دے کر لے، ٹیکس کیس سن کر بہت کچھ سیکھا ہے۔ سپریم کورٹ میں موبائل ٹیکس کٹوتی سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کی سربرا ہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے آغاز پر جسٹس اعجاز الاحسن نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ نے گزشتہ سماعت پر ہدایات لینے کا کہا تھا، کیا آپ نے وزیراعظم سے ہدایات لی ہیں؟ جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وزیراعظم سے آج 12 بجے ملاقات ہونا تھی بدقسمتی سے وزیراعظم روانہ ہوگئے اور ملاقات نہیں ہوسکی۔ دلائل کا آغاز کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کا ایک بار پھر کیس کے عوامی مفاد کے تحت سننے پر اعتراض اٹھاتے ہونے موقف اپنایا کہ ٹیکس قوانین بڑے واضح ہیں، ٹیکس سے استثنی صرف اسے ملے گا جو ٹیکس آفیسر کو درخواست دے گا۔ اگر کارڈ کے معاملے پر بھی کسی کو اعتراض ہے تو وہ ذاتی حیثیت میں ٹیکس کمشنر سے رجوع کرے، تاہم اگر متعلقہ فورم سے دادرسی نہ ہو تو عدالت آیا جا سکتا ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا جائزہ لیں گے آپ کا موقف کس حد تک قابل قبول ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے استفسار کیا کہ کیا ٹیکس پر کبھی ازخود نوٹس لیا گیا ہے؟ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے ٹیکس کے نفاذ پر ازخودنوٹس کی مثال نہیں ملتی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا جو ٹیکس کے اہل نہیں ان سے پیسہ لینا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، بنیادی حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی نوٹس لیا گیا تھا، حکومت ٹیکس لینا چا ہتی ہے تو باقاعدہ قانون سازی کر سکتی ہے۔ حکومت کو ٹیلی فون استعمال کرنے پر ٹیکس لگانے کیلئے قانون سازی کرنے میں کیا رکاوٹ ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا سپریم کورٹ کے سامنے موجودہ قانون کو چیلنج نہیں کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے یہ نوٹس اخبار یا کسی اور ذریعے سے ملنے والی معلومات پر لیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اگر سپریم کورٹ نے حکومتی موقف تسلیم نہ کیا تو پھر کیا ہو گا۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا پھر ممکن ہے حکومت ٹیکس آمدن کا 40 فیصد کھو دے۔ چیف جسٹس نے کہا کچھ لوگوں سے ٹیکس دائرے میں نہ آنے کے باوجود ٹیکس لینا اس کیس کی بنیاد بنا۔ 199 میں کچھ پابندیاں ہیں جو 184(3) میں نہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا یہ از خود نوٹس ایک ڈی جی کے نوٹ پر لیا گیا۔ آئین کے مطابق از خود نوٹس صرف سپریم کورٹ لے سکتی ہے۔ ڈی جی کے نوٹس کے بعد سپریم کورٹ نے بھی حکم جاری کرنا ہوتا ہے ججز جب کورٹ روم میں بیٹھتے ہیں تو سپریم کورٹ بنتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا مقدمات کے عدالت کے سامنے آنے تک ججز کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ 184(3) کی دائر درخواست کو بینچ کے سامنے افسران ہی مقرر کرتے ہیں۔ میرے خیال میں کیس بینچ کے سامنے مقرر ہونے کے بعد یہ سوال بنتا ہی نہیں۔ ڈی جی ہیومن رائٹس کے نوٹ پر معاملہ بنیادی حقوق کا قرار دیا گیا۔ جس پر جسٹس فائز عیسی نے کہا نوٹ میں بنیادی حقوق اور عوامی اہمیت کا ذکر نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا پانچ رکنی بنچ نے نوٹ پر باقاعدہ حکم جاری کیا، پانچ معزز ججز نے حکم سوچ سمجھ کر ہی جاری کیا تھا۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا سوشل میڈیا کی شکایت پر ڈی جی ایچ آر نے نوٹ لکھا، پانچ ججز کا حکمنامہ آ چکا اب یہ باتیں کرنا بے فائدہ ہیں، ججز سے بالاتر کوئی حکم جاری ہو تو الگ بات ہے، ماضی میں ججز سے بالاتر ہوکر افسران بھی نوٹس جاری کرتے رہے، موبائل ٹیکس کا نوٹس پانچ ججز کے حکم پر لیا گیا۔ جسٹس فائز عیسی نے کہا پانچ ججز نے صرف اٹارنی جنرل سے جواب مانگا تھا۔ پانچ ججز نے شاید ابھی تک باضابطہ سوموٹو نہیں لیا، جس پر چیف جسٹس نے کہا یہ درست نہیں کہ کیس دوسرے بنچ میں جائے تو پرانے حکمناموں پر سوال اٹھیں، ہزاروں روپے وکیل کو دینے پر لوگ ٹیکس دینے کو ترجیح دیتے ہیں، لاکھوں لوگوں سے ٹیکس لیا جا رہا تھا جن پر ٹیکس لاگو نہیں ہوتا، ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کسی شہری نے کیس میں فریق بننے کی زحمت نہیں کی، جس پر جسٹس فائز عیسی نے ملک کی محبت میں کوئی ٹیکس دے تو کیا مسئلہ ہے؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ٹی وی لائسنس کا ٹیکس بھی ہر شہری سے لیا جاتا ہے، ہر ٹی وی دیکھنے پر انکم ٹیکس لاگو نہیں ہوتا لیکن وہ ٹیکس دیتا ہے، ماضی میں مشرقی پاکستان فلڈ ٹیکس نافذ ہوا تھا، مشرقی پاکستان الگ ہوگیا لیکن فلڈ ٹیکس 90 کی دہائی تک لیا جاتا رہا، سوشل میڈیا پر عدالت سے نوٹس لینے کی اپیل کی گئی تھی، فائل میں شکایت کنندہ کا نام درج نہیں، ممکن ہے گھوسٹ شکایت ہو۔ سوشل میڈیا پر میرے نام سے جعلی اکاؤنٹ بنے تھے، عہدہ سنبھالتے ہی مجھے وضاحت پیش کرنا پڑی۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا سوشل میڈیا ویسے بھی شکایات سے بھرا رہتا ہے۔ عدالت نے دیکھنا ہے نوٹس قانون کے مطابق لیا گیا یا نہیں۔ ایڈوکیٹ جنرل کے پی کے نے کہا کے پی حکومت کو ٹیکس سے سالانہ 7.9 بلین روپے ملتے تھے۔ 12 جون سے اب تک کے پی حکومت اپنی آمدن کے بڑے حصے سے محروم ہے۔ عدالت اس کیس کا فیصلہ جلدی کرے۔ پنجاب حکومت کے وکیل نے کہا پنجاب حکومت کے ٹیکس قوانین میں موبائل فون ٹیکس کا ذکر موجود ہے۔ گزشتہ سال 27 ارب روپے موبائل ٹیکس میں اکٹھے ہوئے۔ اس سال ممکنہ طور پر زیادہ ریونیو اکٹھے ہونا تھا تاہم فیصلہ حق میں آنے پر ممکنہ طور پر بقیہ ریونیو اکٹھا ہوگا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا جب موبائل ٹیکس روکنے کا حکم جاری ہوا تو کیا سب فریقین سو رہے تھے؟ جس پر وکیل ریونیو سندھ بورڈ نے کہا کیس میں فوری سماعت کیلئے درخواست دائر کی تھی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا چرچل نے کہا تھا ہندوستان کو آ زادی نہ دیں کیونکہ ہندوستان کے لوگ ابھی اتنی سمجھ بوجھ نہیں رکھتے کہ آزاد کردیا جائے۔ آزادی دی تو یہ لوگ گلے کاٹیں گے، ہوا اور پانی پر بھی ٹیکس لگائیں گے۔ پینے کے پانی اور فون سے باتیں کرنے پر تو ٹیکس لگ چکا اب تو ہوا پر ٹیکس لگنا باقی ہے۔ وکیل علی ظفر نے موقف اپنایا کہ ریکارڈ سے لگتا ہے موبائل ٹیکس کیس میں عدالت ایک افسر کی ہدایات پر چلی۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا عدالت اسی وقت لگتی ہے جب ججز کمرہ عدالت میں بیٹھیں، ججز کا کہیں بیٹھ کر مشاورت کرنا عدالت نہیں کہلاتا، ججز کے چیمبر میں کیس لگانے کا قانون موجود ہے، چیمبر کو بھی کیس کیلئے عدالت قرار دینا ہوتا ہے، ججز کا کہیں بھی بیٹھ جانا عدالت نہیں کہلاتا، عدالت کیلئے مختص جگہ پر ہی عدالت لگائی جا سکتی ہے، وکیل علی ظفر نے موقف اپنایا کہ ٹیکس لگانے کا اختیار پارلیمنٹ کو ہے، آرٹیکل 184/3 میں فیصلہ ہوا تو ٹیکس کا ہر کیس عدالت آئے گا۔ چیف جسٹس نے کہا قانون کی تشریح کا اختیار عدالت کو ہی ہے، کیا شہریوں کی جیب سے اربوں روپے نکالنا بنیادی حقوق کا کیس نہیں؟ قانون میں لکھا ہے ٹیکس وہی دے گا جس پر لاگو ہو، ٹیکس لاگو ہونے کا تعین عوام کے ہاتھ میں دیا گیا، تعین کا اختیار عوام کے پاس ہونے سے ہی ٹیکس دینے والوں کی تعداد کم ہے، یہ قانون کیوں نہیں بنتا کہ ہر بالغ ٹیکس دے گا، جس بالغ کو ٹیکس نہیں دینا وہ مجاز حکام سے استثنی لے لے، قانون کے ذریعے جھوٹ بولنے کی ترغیب دی جا رہی ہے، فوجداری قانون میں بھی جھوٹ کی گنجائش بنائی گئی، معاشرہ خود جھوٹ بولنے پر سہولیات دے رہا ہے۔ وکیل ریونیو سندھ بورڈ نے کہا ایک کیس کے علاوہ ٹیکس کالعدم قرار دینے کی کوئی اور عدالتی مثال موجود نہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا پمپ مالکان بھی پٹرول مہنگا ہونے سے پہلے فروخت روک دیتے ہیں، پمپ والے کہتے ہیں نئے ریٹ پر پٹرول فروخت کرینگے، ہمارا سسٹم خود موج کرنے کی اجازت دیتا ہے، سندھ کو سیلز ٹیکس کی مد میں آٹھ ارب سے زائد کا نقصان ہو رہا، سندھ سرکار کو نقصان جبکہ عوام کو فائدہ ہو رہا، عدالت نے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ کچھ دیر کیلئے محفوظ کیا جسے سناتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا آج کا کیس میرے لئے منفرد تھا۔ بہت کچھ سیکھا۔ عدالت ٹیکس وصول کرنے سے روکنے کا حکم واپس لیتے ہوئے کیس کو نمٹا رہی ہے۔ سپریم کورٹ ٹیکس معاملامات میں مداخلت نہیں کریگی۔ عدالتی فیصلہ سنانے کے بعد وکلا کی جانب سے 11 جون سے اب تک کے ٹیکس وصولی سے متعلق استفسار پر چیف جسٹس نے کہا ابھی ہمارے سامنے وہ معاملہ نہیں جب اس حوالے سے کیس آئے گا تب اس پر فیصلہ کریں گے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سر برا ہی میں تین رکنی بینچ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو موبائل کارڈ پر ٹیکس وصولی سے روک دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق اب موبائل صارفین سے ساڑھے انتیس روپے ٹیکس وصول کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں