293

جلادی مسیحے……(سیف لُڑکا،پاکپتن)

تحریر..سیف لُڑکاپاکپتن

خداوند کریم کا ارشاد ہے کہ “جس نے کسی ایک انسان کی جان بچائی تو گویا اُس نے پوری انسانیت کی جان بچائی” مگر آجکل انسان کی قدروقیمت انسان نے ہی خاک میں روند دی ہے۔ آج کا انسان خوف خدا سے دور ہوتاجا رہا ہے. احساس اپنا مقام کھو چکا۔ ایک مختصر نظر سرکاری ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ پر. جب کوئی غریب آدمی بیمار ہوتاہے تو وہ فوراً اپنے گاؤں کے فری ڈسپنسری یا قریبی شہر کے سرکاری ہسپتال کا رخ کرتاہے. یونہی ڈسپنسری میں انٹرہوتاہے. فری پرچی ملتی ہے۔ پرچی لے کر ڈاکٹر کے پاس جاتاہے۔ وہاں اگرچارڈاکٹرزکی ڈیوٹی ہےتووہاں ایک بیٹھا ہوگا۔ باقی لاپتہ ہوں گے، جو بیٹھا ہو گا وہ بھی مشورے دے گا۔ ڈسپنسری میں دوائیں نہیں آرہی۔ میں آپ کو ٹیسٹ لکھ دتا ہوں آپ کسی بڑے سرکاری ہسپتال یا D.H.Q چلے جائیں۔ خودپھر سے ٹچ موبائل میں مگن. مریض بیچارا چارپیسے ادھار لے کر بڑے ہسپتال پہنچتاہے۔ پرچی فری لینےکیلئے لائن میں لگتاہے۔ بڑی مشکل سے پرچی ملتی ہے۔ جیسے ہی سرجن کے کمرے تک پہچتاہے۔ تودروازےپرکھڑا گارڈ جلاد سے کم نہیں ہوتا۔ چلوچلو پیچھے ہٹو باری آنےپر بلا لوں گا۔ ابھی ڈاکٹر صاحب مصروف ہیں، کھاناکھا رہے ہیں آرام کر رہیں۔ مریض بیچاراسسکیاں لے رہا ہوتا ہے۔ گھنٹوں بعد باری آتی ہے۔ اگرپیشنٹ زیادہ سیریس ہے یا اُس کی قسمت اچھی ہے تو وہ پھر ایڈمٹ ہو جائے گا۔ نہیں توجلدی سے بغیرچیک کیے زبانی حقیقت پر اندر سے دوچار ٹیبلٹ لکھ کردے دے گا۔ باقی 2500 یا 3000 کی دوائیں باہر کے میڈیکل سٹور سے لکھ دے گا اور دوائیں بھی وہ جو کمپنی کے نمائندے پبلسٹی کیلۓ ڈاکٹرز سےکمیشن کی بناپر لکھواتے ہیں۔ دوسرا سچ آپ کے سامنے ہے۔ آپ جس سرکاری ہسپتال میں چلے جائیں وہاں کا سارے کا سارا عملہ موبائل پر مصروف ہوگا۔ آپ کی بات سننے کوکوئی تیار ہی نہیں ہوگا۔ پچھلے دنوں بہاولپور کے سرکاری ہسپتال میں عملے کی مبینہ غفلت کی وجہ سے ایک عورت نے فرش پر بچے کو جنم دیا اور دونوں ماں بیٹا موت کے منہ میں چلے گئے۔ جس ڈاکٹر کے پاس اچھا سا بنگلہ ہو لاکھوں روپے تنخواہ ہو اوپرسے اپنے پرائیوٹ کلینک کی فی پیشنٹ 1000 سے 2500 تک فیس ہو. روزانہ 200 پیشنٹ چیک کرتا ہو۔ باقی دوائیوں کا کمیشن الگ ہو۔ اس کو انسانیت کی بھلا کیافکر؟ کیا وہ مسیحا ہو سکتا؟ نہیں۔ وہ جلاد ہو سکتا ہے۔ اور میں تو اس کو جلاد ہی کہوں گا۔ باقی اگرحکومت نے ڈسپنسری میں یا سرکاری ہسپتال میں دوائیں نہیں رکھنی تو گورنمنٹ نے اتنی بڑی بڑی بلڈنگز بھاری تنخواہوں پر ڈاکٹرز کیوں رکھے ہوئے۔ ہاں صرف اس لئے کہ غریب مریض ذلیل ہوتے رہیں۔ایک ایک بیڈ پر دو دو مرتے رہیں۔وہ موبائل کی دنیا میں گھومتے پھرتے رہا کریں۔میں سمجھتا ہوں دوران ڈیوٹی ہسپتال میں M.Sسے لے کرصفائی کرنے والے تک موبائل کا استعمال بند کردیاجائے۔روزانہ کی بنا پر سی سی ٹی وی فوٹیج اور ویڈیوز کو اعلی احکام چیک کریں۔اللہ تعالی نے انسان کو بڑی شان سے نوازہ ہے۔انسانوں کی قدر کرنا ہی انسانیت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں