388

روندو کھلاڑی…..(پروفیسر ماجد غفور)

تحریر: پروفیسر ماجد غفور.

گزشتہ روز خان صاحب نے اپنی تقریر کے دوران ایک لفظ روندو پلئیر کا ذکرکیاتھا۔ جسے سن کے بچپن کی یا د تازہ ہوگئی ہے۔ بچپن کے کھیل بھی نرالے ہوتے تھے۔ ہر کھیل کا اپنا ایک لطف اور مزا آتا تھا اور ہر کھیل میں ایک روندو کھلاڑی ضرور ہوتا تھا۔ لیکن اس کا ہونا تکلیف کی بجائے خوشی کا سبب بنتاتھا۔ اپنی صلاحیت کا استعمال نہ کر پانا اور جلدی ہی اپنی باری گنوا بیٹھنے پہ اس روندو کا شوروغل باقی سب کیلئے کسی تماشہ سے کم نہ ہوتا تھا۔ کچھ دوست اسے چڑانے کیلئے اس کی حرکتوں کو دہراتے، وہ اس پہ اور نالاں ہو جاتا تھا۔ اس کا رونا بھی کھیل میں چار چاند لگا دیتا تھا۔ لیکن کھیلنے والے اس کی وجہ سے اپنی کارکردگی کم نہیں کرتے تھے۔ بلکہ مزا لینے کیلئے اور بھی اچھا کھیل پیش کرتے تھے، تا کہ وہ روندو کی حرکت سے زیادہ محظوظ ہو سکیں۔ سیاست میں بھی ایسا ہی کچھ چلتا رہتا ہے۔ لیکن موجودہ حکومت اپنے کھیل کو بہتر سے بہترین بنانے کی بجائے نہ جانے کیوں روندوکھلاڑیوں پہ توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

ویسے دیکھا جائے تو اپوزیشن بن جانے والی پارٹی ہر الیکشن کے بعد اسی طرح روندو کھلاڑی کا کردار ہی ادا کرتی آئی ہے۔ چاہے وہ الیکشن کسی بھی دور میں ہوئے ہوں، کوئی بھی پارٹی اقتدار میں آئی ہو یا اپوزیشن میں رہی ہو۔ ہر بار یہ روندو کھلاڑی ابھر ہی آتاہے۔ مارشل لاز کی بات کی جائے تو ہر مارشل لاء یا ایمرجنسی لگانے والوں نے اسی طر ح روندو بن کر کسی بھی سیاسی پارٹی کو کبھی بھی کھیلنے نہیں دیا گیا تھا۔

موجودہ حکومت کی تشبیہات اپنی جگہ لیکن سبھی جانتے ہیں، گزشتہ پانچ سال کی جمہوری حکومت میں روندو کھلاڑی کون رہا ہے۔ اگرچہ اس روندوپن کو بڑی بڑی دلیلوں سے صحیح اور سچی ثابت کرنے کی کوشش بارہا کی گئی تھی۔ اب کے بار روندو چاہے کوئی بھی ہو، مگرپاکستانی سیاست میں یہ روندو کردار ایک روایت بن کے رہ گیا ہے۔ جسے اپنانا ہر اپوزیشن اپنا جائز اور سیاسی حق سمجھتی ہے۔

حکومتی کاموں پہ مثبت تنقید اپوزیشن کا سیاسی اور بنیادی حق تو ہے۔ لیکن اس سے زیادہ اہم بات یہ کہ تشبیہات کی بجائے کام پہ توجہ ضروری ہے۔ اب جب کہ اگلے مالی سال کا بجٹ پیش کیا جاناہے اور آئندہ کیلئے لائحہ عمل تیار کیا جانا ہے۔ اب اس جانب توجہ مبذول ہونا چاہئے۔ کہ کس قسم کا بجٹ لایا جا سکتاہے۔ اس میں کتنا عوام کا حصہ رکھا جائے گا۔ مگر شاید یہ سب کچھ عوام الناس پہلے سے ہی جان چکی ہے۔ مسائل کا انبار لگا ہواہے اور وسائل ہیں کے کم سے کم تر ہوتے جا رہے ہیں۔ موجودہ معاشی حالت سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتاہے۔ اب کے سال نیا ہوگا یا پرانا ہی رہے گا۔

اب کے تنقیدی نہیں تعمیری سوچ کا وقت ہے۔ تعمیری سوچ کو لے کے حکومتی فیصلے کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ آنے والے مالی سال میں پیداواری عمل میں کچھ نہ کچھ مثبت تبدیلی کو اپنایاجائے۔ نیوزی لینڈ آج دنیا کافی کس آمدنی کے لحاظ سے ترقی یافتہ ملک ہے اور اس کے ترقی یافتہ ہونے میں سب سے بڑا ہاتھ اس کے زرعی شعبہ کا ہے۔ اون برآمد کرنے میں آسٹریلیا دنیاکے پہلے نمبر پہ شمار ہوتا ہے. جب کہ نیوزی لینڈ دوسرے نمبر پہ براجمان ہے۔ نیوزی لینڈ ڈیری پروڈکٹس میں بھی اپنا اعلیٰ مقام رکھتا ہے۔ اس وقت ملک میں اتنی آبادی نہیں ہے جتنی بھیڑیں اور گائیں پائی جاتی ہیں۔ ایک ہم ہیں کہ دنیا کے بہترین نہری نظام کے باوجود خوردنی تیل تک باہر سے درآمد کر رہے ہیں۔ جب کہ زرعی زمینوں کے ہوتے ہوئے بے شمارڈیری پروڈکٹس غیر ملکی کمپنیوں کی استعمال کر رہے ہیں۔

یہ ہڑیلو کٹے اور روندو کھلاڑویوں کا کھیل بہت ہو چکا ہے۔ اب کرنا ہے تو کچھ پیداواری کام کیا جائے۔ مسئلہ یہاں وسائل کا نہیں بلکہ ایک منظم منصوبہ بندی کا ہے۔ کس چیز کو کس مقدار میں اور کہاں پیدا کیا جائے۔ یہ معاشیات کی بنیادی باتیں ہیں۔اسی بنیادی معاشیات کو اپنا کر ہر ملک ترقی کی سیڑھیاں چڑھا ہے۔ کہیں پہ بھی کوئی معجزہ نہیں ہوا ہے۔ سوائے تیل اور گیس کے ذخائر ملنے والے ملکوں کے باقی سبھی نے بنیاد ی معاشی سوچ کو لے کے اپنا مقام پیدا کیا ہے۔ خدارا جانے دیں یہ روندو روندو کھیلنے کا نہیں بلکہ موجودہ حالات اور معاشی وسائل کے بیچ رہ کے قابل عمل حل کا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں