340

اسد عمر کی بقائے پاکستان کی جنگ اور سرنڈر….(منتخب تحریر)

(منتخب تحریر)

تمھارا پاکستان برباد ہوا نہیں…. تمہارا پاکستان برباد کیا گیا ہے!!!!

یہ اسد عمر اور مافیا کی جنگ تھی جو نومبر ۲۰۱۸ سے شروع ہوئی ، اسد عمر نے اس کے بارے میں ایک ایک چیز عمران خان سے ڈسکس کی تھی اور خان کی اس گارنٹی پر وہ خم ٹھونک کر مافیا کے سامنے کھڑا ہو گیا تھا کہ پاکستان کے حق میں جو بہتر ہے تم وہ کر گزرو ـ اسد عمر کا یقینِ واثق تھا کہ چونکہ وہ خان کو سب صغری کبری سمجھا چکا ہے لہذا اب خان کو کوئی گمراہ یا بدگمان نہیں کر سکتا ـ مگر عمران خان اور اسد عمر دونوں نے مافیاز کو انڈر اسٹیمیٹ کیا تھا ، عمران خان کی شاہ رگ پر جب انگوٹھا رکھا گیا تو اس نے اسد عمر کی قربانی دے کر جان چھڑائی ، اب پاکستان پھر اسی نہج پر چلے گا جس پر وہ زرداری اور نواز شریف کے دور میں چلا کرتا تھا یعنی صرف ھندسوں کے ہیر پھیر ،، کوئی مستقل معیشت نہیں ہو گی ،ہم کبھی اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہونگے ساری زندگی قوموں کی برادری میں بھیک مانگنے پر مجبور کر دیئے گئے ہیں ـ خان نے تبدیلی کا گلا خود اپنے ہاتھوں گھونٹ دیا ہے اور بظاھر اپنا اقتدار بچا لیا ہے جبکہ یہ بچنے والا پھر بھی نہیں ہے ـ

شوگر مافیا ـ

شوگر مافیا جس کے سرغنہ جنوبی پنجاب کے جاگیردار اور ایم این ایز اور ایم پی ایز ہیں یہ لوگ سبسڈی تو وصول کر لیتے تھے مگر کسانوں کو ادا نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے اکاؤنٹ میں رکھ کر اس پر سود لیتے تھے اور سال بعد کسانوں کو ادا کرتے تھے وہ بھی اگلے سال کی سبسڈی لے کر ،، مگر پہلی دفعہ اسد عمر نے ان کو مجبور کیا کہ وہ کسانوں کے واجبات کسانوں کو ادا کریں تب ہی حکومت کی جانب سے ان کو سبسڈی ادا کی جائے گی ،، یوں یہ مافیا ایک زخمی سانپ بن گیا ان میں ترین وغیرہ بھی شامل تھے اور پی ٹی آئی کے دیگر ارکان و حلیف بھی ـ خود فوج بھی بزنس کے ہر شعبے میں اسٹیک ہولڈر ہے ،جو زک شوگر والوں کو پہنچی خود فوج نے بھی اس کا مزہ چکھا ـ لہذا عمران خان پر کام شروع کر دیا گیا ، مگر اسد عمر اس دھوکے اور گمان میں رہا کہ خان کو وہ سب کچھ بریف کر چکا ہے لہذا خان اس کی پشت پر کھڑا ہے ،ڈٹ کر کھڑا رہا ـ

امپورٹیڈ کار مافیا ـ

مختلف کار ساز کمپنیوں نے نواز شریف اور بےنظیر بھٹو کے دور میں بھی فیکٹریاں لگانے کے ایم او یوز سائن کیئے تھے مگر ان کی شرط یہ تھی کہ پہلے آپ گاڑیوں کی امپورٹ پر پابندی لگائیں تب ہم پاکستان میں فیکٹریاں لگائیں گے ، ورنہ باہر سے سستی گاڑیوں کی درآمد کی صورت میں ہمیں بزنس کہاں سے ملے گا ـ نواز شریف اور بےنظیر دونوں یہ پابندی لگانے میں ناکام رہے کیونکہ ان کے حواری ہی تو یہ کاروبار کر رہے تھے لہذا اپنی حکومت کو مضبوط رکھنے کے لئے وہ لوگ ملکی مفاد سے کھیلتے رہے ِ اسد عمر نے غیر ملکی کمپنیوں کو گارنٹی دی کہ وہ گاڑیوں کی امپورٹ پر پابندی لگائیں گے لہذا وہ کمپنیاں اپنا بزنیس پاکستان لانے کے بارے میں سنجیدہ ہو گئیں ، پاکستان اتنا بڑا ملک ہے کہ اس کو اپنی معیشت کی بنیاد کامرس پر رکھنے کی ضرورت ہی نہیں اس کو صنعت پر اپنی معیشت کھڑی کرنی ہے ، کامرس ہندسوں کا کھیل ہے زمین پر کچھ نہیں ہوتا ، ایک افواہ اسٹاک کو کریش کر دیتی ہے اور بزنس مین کا کروڑوں ڈوب جاتا ہے ـ

اسد عمر نے صرف دو منی بجٹ پیش کیئے ہیں چار نہیں جیسا کہ جھوٹ مشہور کیا جا رہا ہے ـ ایک بجٹ اکتوبر میں آیا تھا اور دوسرا فروری میں ،، فروری کے بجٹ میں اس نے امپورٹ پر پابندی لگانے کی بجائے گاڑیوں کی امپورٹ پر ایسی شرائط عائد کر دیں کہ جس کو پورا کرنے کی صورت میں ملک کا تو بھلا ہوتا مگر اس مافیا کا بھٹہ بیٹھ جاتا لہذا عملاً گاڑیوں کی امپورٹ بند ہو کر رہ گئ ـ

کراچی کے 146146 جان جاپان 145145 والے گاڑیوں کی امپورٹ کی ایک بہت بڑی پارٹی ہے جن کے خان کے ساتھ مختلف حوالوں سے تعلقات بھی ہیں اور دیگر لوگوں کو بھی ہڈی دے کر کینسر کی طرح بہت اندر تک پہنچے ہوئے ہیں ، اس قسم کے لوگ اثرانداز ہوئے ہیں عمران خان پر تا کہ وہ اسد عمر کو ہٹا دیں ، اور وہ کامیاب ہو گئے ـ

قبضہ مافیا ـ

قبضہ مافیا کا سرغنہ تو ملک ریاض ہے مگر اس کے طفیلیئے بڑے بڑے لوگ ہیں ،جن میں زرداری صاحب بھی شامل ہیں ، ان لوگوں نے نواب شاہ میں ۱۲۰۰ روپے ،،جی ہاں بارہ سو روپے ایکڑ زمین لی تھی جس کا تبادلہ ملیر کی زمین سے کیا گیا، اب ملیر کی زمین کی قیمت کا آپ اندازہ لگا لیں ،، چونکہ اب یہ زمین تبادلہ ہو کر لیگل شکل اختیار کر گئ تھی ، یعنی جس سے ملیر میں جگہ لی گئ اس کو پیسے نہیں دیئے گئے بلکہ تبادلے میں اس کو نواب شاہ میں زمین دے دی گئ ، جب یہ سب ہو گیا تو اب سب اسٹیک ہولڈرز جن میں ہتھیانے والے بھی اور ہتھیار والے بھی شامل تھے اور اپنی عدلیہ بھی شامل تھی باقاعدہ بیٹھ کر فیصلہ کیا گیا کہ ملک ریاض سے ساڑھے چار سو یا پانچ سو ارب روپے لے کر اس کے اس ڈاکے کو لیگل قرار دے دیا جائے کیونکہ اب اس زمین کے سیکڑوں لوگ مالک بن چکے ہیں لہذا اب یہ سب کچھ ریورس نہیں ہو سکتا ـ اسد عمر ۱۵۰۰ ارب سے نیچے نہیں آرھا تھا ـ لہذا اس کو رستے سے ہٹانا بھی واجبات میں شامل ہو گیا تھا ـ

کاٹن یارن مافیا ـ

اسد عمر کا ماننا یہ تھا کہ اس سال ستمبر تک ڈالر ۱۵۰ پر مستحکم ہو جائے گا اور یہ استحکام عارضی اور مصنوعی نہیں بلکہ معیشت کی بنیاد پر ہو گا ، جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا ہے کہ پاکستان کو ہمیشہ کے لئے ھندسوں یعنی کامرس کے زور پہ نہیں چلایا جا سکتا پاکستان بہت بڑا ملک ہے جس کے پاس وسائل اور ٹیلنٹ کی کمی نہیں ،پاکستان کی معیشت چائنا کی طرح صنعت پر ہونی چاہئے ، اس کے لئے اسد عمر نے اپٹیما سے جو کہ پاکستان بھر کے صنعتکاروں کی نمائندہ باڈی ہے پچھلے دو ماہ سے مذاکرات چل رہے تھے ، اپٹیما کا مطالبہ یہ تھا کہ دھاگہ باہر نہ بھیجا جائے بلکہ پاکستانی صنعتکاروں کو بیچا جائے ، پاکستانی صنعتکار بیرون ملک سے یہی دھاگہ مہنگے داموں خرید کر امپورٹ کرتے ہیں ،بلکہ بعض دفعہ ان کو انڈیا کا غیر معیاری دھاگہ بھی مہنگے داموں خدیدنا پڑتا ہے ،پھر امپورٹ میں وقت اور پیسہ بھی ضائع ہوتا ہے ، ان کا مطالبہ تھا کہ دھاگے کی بیرون ملک برآمد پر پابندی لگائی جائے ،، اسد عمر نے نہ صرف یہ مطالبہ مان لیا اور دھاگے کی ایکسپورٹ کو اپٹیما کی طرف سے این او سی کے ساتھ منسلک کر دیا اس کے علاوہ صنعتوں کو کم قیمت پر گیس کی فراہمی اور مسلسل فراہمی کو یقینی بھی بنایا ،، ان تمام اقدامات کے نتیجے میں پاکستانی صنعت نے انگڑائی لے کر اٹھنا تھا اور کم ازکم پہلے مرحلے پر مشرقِ وسطی کی مارکیٹ کو انڈیا سے چھیننا تھا ،، مگر شومئ قسمت کی دھاگہ ایکسپورٹ کرنے والا مافیا حرکت میں آیا اور اسد عمر کے استعفے سے چار دن پہلے حکومت سے یہ حکمنامہ جاری کروانے میں کامیاب ہو گیا کہ دھاگہ براہ راست ایکسپورٹ کیا جا سکتا ہے ،اپٹیما سے منظوری لینے کی ضرورت نہیں ، یہ اونٹ کی پیٹھ پر آخری تنکا تھا ، اسد عمر سمجھ گیا کہ اس کے تمام اقدامات کو کالعدم بھی کیا جا رہا ہے اور ساتھ ساتھ معیشت کی خرابی کی ساری ذمہ داری اس کے سر تھوپنے کی پوری پلاننگ بھی کی جا رہی ہے ، نیز یہ کہ خان اس کے ساتھ مخلص نہیں ہے بلکہ مافیاز کا یرغمال ہے ، اس کے بھروسے پر آگے بڑھنا سراب کے پیچھے دوڑنا ہے لہذا نہ صرف اس نے وزارتِ خزانہ سے استعفی دیا بلکہ خان کے تابع اب کسی بھی وزرات میں کام کرنے سے انکار کر دیا ـ

حفیظ شیخ کی تعیناتی سے جو کہ بین الاقوامی مالی اداروں کا نمک خوار اور آزمودہ بندہ ہے پاکستان کے مستقبل کا نقشہ واضح ہو جاتا ہے ،آئی ایم ایف کی شرائط میں ان کی مرضی کا وزیرِ خزانہ لگانا بھی شامل ہے جس پر کہ وہ بھروسہ کر سکیں کہ وہ ان کے مفادات کی حفاظت کرے گا ، یہ شرط وہیں رکھی گئ تھی جس کو طاقت کا مرکز سمجھا جاتا ھے اور جن کی منظوری سے شوکت عزیزجیسے لوگ اس ملک پر مسلط ہوتے رہے ہیں ـ

مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے کہ کوئی تبدیلی ٹیبل پر نہیں ہے ، پہلے حکمرانوں کے ساتھ بھی علیک سلیک شروع کر دی گئ ہے تا کہ خان کی رخصتی کے بعد متبادل موجود رہےـ اگلا بجٹ آئی ایم ایف پیش کرے گا ،، اور مئ جون دروازے پر ہی تو کھڑے ہیں ـ

اب ذرا سی بات اس جھوٹے پروپیگنڈے کی بھی ہو جائے تو دو چار دن سے شروع ہے ـ

۱ـ پروپیگنڈا کیا گیا کہ اسد عمر نے چار منی بجٹ پیش کیئے جبکہ صرف دو منی بجٹ پیش کئے گئے ،اکتوبر اور فروری میں

۲ـ یہ دعوی کہ ریونیو کا خسارہ 2500 ارب ہے جبکہ اصل میں یہ 450ارب ہے ـ

۳ ـ سٹاک مارکیٹ اس وقت 36000 سے زائد ہے جبکہ جولائی 2018 میں 37000
تھی نہ کہ 52000 ۔۔
اسد عمر کے روانہ ہوتے ہی سٹاک مارکیٹ ایک ہی دن میں 600پوائنٹ اضافہ ہو گیا ۔

کیونکہ موجودہ اشرافیہ یعنی مافیاز نے کہ جس کا ذکراوپر کے مضمون میں کیا گیا ہے سکھ کا سانس لیا ہے ۔ اور اپنا پرانا اسٹاک خود خریدنا شروع کیا ۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ایک ہی دن میں معیشت سنبھل گئ ؟ کیا بیرونی قرضے ختم اور مہنگائ کم ہو گئ ؟ کیا شرح سود کم ہو گئ ؟

نہیں ایسا کچھ نہیں ہوا ۔ بس مافیا کو گارنٹی مل گئ ہے کہ جو جیسے چل رہا تھا ویسے ہی چلتا رہے گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “اسد عمر کی بقائے پاکستان کی جنگ اور سرنڈر….(منتخب تحریر)

    1. محترم اگر معلوم ہوتا تو یقینا ان کا نام لکھا ہوتا. کوشش کی لیکن معلوم نہیں ہوسکا.
      Ali Shahid

اپنا تبصرہ بھیجیں