322

”میں رینکر ہوں مجھے سزا دو“…..(صابر بخاری)

تحریر: صابر بخاری.

رینکر کوئی پارسا یا دودھ کے دھلے نہیں ہوتے ۔ہزار خامیاں اور برائیاں ان میں موجود ہیں ۔کرپٹ ،بد اخلاق نجانے کیا کیا الزامات ان پر لگائے جا سکتے ہیں ،جو صرف الزام ہی نہیں حقیقت میں بھی اکثر رینکر جوں کے توں ہیں ۔مگر یہ تصویر کا ایک رخ ہے،تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ یہ رینکر چاہے جتنے بھی ذہین ،فطین ،قابل ،ایماندار ،پارسا بن جائیں وہ رہیں گے رینکر ہی ،یہ ایک ایسا دھبہ ہے جس کا داغ رینکرز کو ساری زندگی ساتھ لیکر چلنا پڑتا ہے۔اس دھبے نے رینکرز کی زندگیوں کو مسائل کی آماجگاہ بنا دیا ہے۔چاہے ذاتی زندگی ہو یا پروفیشنل زندگی رینکرز کی زندگی دکھوں،غموں اور مسائل سے لبریز ہے۔میرے کئی ایماندار ڈی ایس پیز لیول کے رینکرز دوست اس قدر تنگ ہیں کہ ملازمت کو خیر باد کہنے پر تلے ہوئے ہیں ،ایک دوست کو تو میں کئی ماہ سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کیلئے مجبور کر رہا ہوں باقی چھوٹے رینکرز کا جو پرسان حال ہوگا آپ خود اندازا لگا سکتے ہیں ۔رینکر کا قصور ہی یہی ہے کہ وہ رینکر ہے ،جبکہ پی ایس پی بابو ”برہمن “ٹھہرے ۔رینکر آپ جسے ”شودر“ کہہ سکتے ہیں ہمیشہ ہی ان پی ایس پی کے زیر عتاب رہے ۔ماتحت ہونا کوئی بری بات نہیں ہر ادارے میں سینئر جونیئر موجود ہوتے ہیں مگر ان میں ایک چیز جو انکو جوڑے رکھتی ہے وہ ہوتا ہے احساس اور انسانیت کا رشتہ، جو محکمہ پولیس میں ناپیدہے ۔پی ایس پی خود کو خدا سمجھتے ہیں اور باقی رینکرز جیسے انکو جہیز میں ملے ہوں ،جو بھی سلوک کریں کوئی پوچھنے والا نہیں ،افسوس تو اس بات کا ہے کہ پی ایس پیز یہ اپنا استحقاق سمجھتے ہیں ۔
بات کریں حالیہ ڈی ایس پیز کی معطلی کی تو اس سے بڑا اور دوغلہ پن نہیں ہو سکتا کہ سارے جہاں کا ملبہ ڈی ایس پیز پر ڈال کر انہیں معطل کر دیا گیا۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اکثر ڈی ایس پیزکرپٹ ہیں اور انکی معطلی کا فیصلہ بھی درست ہے مگر جناب آئی جی پنجاب صاحب پولیس میں صرف رینکرز ہی کرپٹ ہیں ؟آپ ڈی ایس پیز کی معطلی کے حکمنامے کیساتھ چند پی ایس پیز کو بھی مورد الزام ٹھہرا دیتے! ۔جو پالیسی ساز بھی ہوتے ہیں اور پولیس کاسارا سسٹم بھی انہوں نے اپنے ہاتھ میں یرغمال بنا رکھا ہے ۔اگر پی ایس پیز ایماندار ،قابل اور کرپشن کے خاتمے اور پولیس سسٹم کی بہتری کا تہیہ کر لیتے تو رینکرز کی جرات ہی نہ ہوتی کہ وہ ایک دھیلے کی بھی کرپشن کر سکتے ۔در حقیقت پی ایس پیز ہی کرپشن کے بے تاج بادشاہ اور کرپشن کے بڑے پروموٹر اور سپورٹر ہیں ،اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔سیاستدانوں کو تو زائد اثاثہ جات میں دھر لیا جاتا ہے مگر ایک پی ایس پی افسر کے ملازمت سے پہلے اور بعد کے اثاثہ جات پر نظر دوڑائیں تو آپ کھڑے کھڑے اپنا ہوش کھو بیٹھیں مگرافسوس
اس لوٹ مار سکواڈ کیخلاف نا تو نیب بولتا ہے اور نہ کوئی اور ادارہ ۔ ان کا نیٹ ورک ہے ہی اتنا طاقتور اور وسیع ہے کہ انکو چھونے سے اداروں کے پر جلتے ہیں ۔مگرآئی جی صاحب آپ تو تبدیلی کے سرخیل اور سسٹم کی بہتری کیلئے آئے ہیں ،کرپٹ لوگوں کو شکنجے میں لانا آپکا مقصد ہے مگر یہ کیا؟سارا غصہ رینکرز پر ہی نکال رہے ہیں۔ افسوس صد افسوس پی ایس پیز برہمن کیخلاف تو آپ کی زبانیں گنگ اور ہاتھ شل ہوجاتے ہیں ،آپ میں طاقت نہیں رہتی کہ دکھاوے کیلئے ہی ایک دو کرپٹ پی ایس پیز کو نشانہ بنا لیتے ۔
خان صاحب آپ نے تو فرمایا تھا کہ نئے پاکستان میں کمزور اور طاقتور کیلئے ایک قانون ہوگا ،مگر آپکے نئے پاکستان میں قانون کا فرق جوں کا توں ہے ،آج بھی کمزور پس رہا ہے اورکمزور ہی قربانی کا بکرا بن رہا ہے ۔خان صاحب جب تک طاقتور بیوروکریسی اور پی ایس پیز کو قانون اور احتساب کے شکنجے میں نہیں لایا جائے گا آپکے نئے پاکستان کا خواب صرف خواب ہی رہ جائے گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں