298

شیخ ابو علی سینا….عظیم مسلم سائنسدان…(صاحبزادہ مبشر علی صدیقی)

تحریر: صاحبزادہ مبشر علی صدیقی.

شیخ کی ولادت ۵۷۳ء شہر بخادا (روسی ترکستان) میں ہوئی عمر پانچ سال ہونے پر والدین نے تعلیم و تربیت کے لیے ایک بزرگ معلم کی شاگردی میں دے دیا ابتدائی تعلیم قرآن پاک،عربی صرف و نحو حاصل کی خداداد ذہانت کی وجہ سے تعلیم کا ابتدائی مرحلہ پانچ سال میں طے کیا اس کے بعد بخادا کے مشہور فقیہ اسمعیل زاہد سے علم فقہ اور محمود مساح ایک نامور ہند سہ دان سے ریا ضیات کا علم حاصل کیا۔سولہ سال کی عمر میں شیخ تمام مروجہ علوم و فنون میں کمال کا درجہ حاصل کر چکا تھا۔

منطق کی تکمیل کے بعد الہٰیات و طبیعات کی شرح کا مطالعہ کیا۔اسی دوران حصول طب کی طر ف متوجہ ہو اتھوڑی ہی مدت میں فن طب میں کمال پیدا کر لیا۔ اتفاق سے انہی دنوں نوح بن منصور سخت بیمار ہوا درباری اطباء سے مرض کی تشخیض نہ ہو سکی آخر شیخ کو بلوایا گیا اس کے علاج سے بادشاہ کو صحت ہوئی بادشاہ نے صحت کی خوشی میں شاہی کتب خانہ کی کنجیاں اس کے حوالہ کر دیں جس کی وجہ سے شیخ کے علم اور نظر میں وسعت پیدا ہوئی کا رامد کتب کی نقل کر کے اپنی ذاتی کتب خانہ میں داخل کیں۔شیخ کے علم و فضل کا کاشہر ہ روز بروزبروز ترقی پر تھا۔

شیخ نے جرجان (ایران کا قدیم صوبہ)میں مطب شروع کیا۔اس کی حذاقت دنباضی کا شہرہ چندہ ہی روز میں ہو گیا کچھ عرصہ بعد جرجان کے ساتھ والے علاقے دہستان (جرجان کے مشہور شہر جو قیاد بن فیروز نے بنایا تھا) میں منتقل ہو گیا۔ یہاں اپنی چند ابتدائی کتب لکھیں اس جگہ شیخ کی طبیعت خراب رہنے لگی پھر واپس جرجان لوٹ آیا۔ تصنیف و تالیف کا سلسلہ جاری رہا۔ شیخ نے علمی دنیا میں کام کیا آج بیسویں صدی گزر جانے کے بعد بھی تہذیب و علم کے روشن ترین دور میں اہل یورپ اس کی قدر کرتے ہیں۔ یورپ کے نامور حکماء،علماء،فلاسفر مسلمان فلسفیوں میں سے فارابی،ابن رشد اور شیخ سر فہرست ہیں ان کے علمی کارناموں کا سچے دل سے اعتراف کرتے ہیں شیخ کی تصانیف یورپ کے بڑے کتب خانوں میں آج بھی موجو د اور محفوظ ہیں۔

شیخ کی تصانیف منطق،فلسفہ،ہندسہ، لسان العرب اور طبی کتب میں القانون سرفہرست ہے جس کا دنیا کی ہرزبان میں ترجمہ ہو چکا ہے اور یورپ و جرمنی کے میڈیکل نصابوں میں شامل رہی ہے۔ شیخ کی کل تصانیف کی تعداد ساٹھ کے قریب ہے۔ جس میں کئی کتب بڑی ضخیم جلدو ں میں ہیں ایک ایک کتاب کئی حصوں میں مشتمل ہے۔شیخ نے اصفہان(تہران و شیراز کے وسط) میں ۸۳۴ھ میں ۳۵ سال کی عمر میں وفات پائی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں