210

ساہیوال: کسانوں کو معیاری بیج اور کھاد کی فراہمی سے ہی زرعی خود کفالت کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے. محمد زاہد اکرام.

ساہیوال(خصوصی رپورٹ) ایڈیشنل کمشنر کوارڈ نیشن محمد زاہد اکرام نے کہا ہے کہ کسانوں کو معیاری بیج اور کھاد کی فراہمی سے ہی زرعی خود کفالت کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے اور انتظامیہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائیاں جاری رکھے گی جو جعلی بیج اور کھاد کی فروخت کر کے کسانوں کا مالی استحصال کر تے ہیں ۔انہوں نے یہ بات ڈویژنل ٹاسک فورس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس میں محکمہ زراعت کے مختلف شعبوں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر پاکپتن احمد کمال مان ،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ساہیوال محمد نواز گوندل ،ڈائریکٹر زراعت محمد فاروق جاوید ،ڈپٹی ڈائریکٹر محمد اشفاق اور اے سی ریونیو علی باجوہ سمیت مختلف محکموں کے متعلقہ افسران نے بھی شرکت کی ۔انہوں نے عدالتوں میں زیر سماعت مقدموں کے جلد فیصلوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے محکمہ زراعت اور پولیس و پراسیکیوشن کو ہدایت کی کہ وہ باہمی رابطے کو بہتر کر کے مقدمات کا جلد فیصلہ کروائیں تا کہ سماج دشمن عناصر کے خلاف کارروائی آگے بڑھ سکے ۔اجلاس میں ڈائریکٹرزراعت محمد فاروق جاوید نے بتایا کہ سال 2019 کے دوران کھادوں کے 158 نمونہ جات لیے گئے ہیں جن میں سے 135 کے رزلٹ موصول ہو چکے ہیں ۔127 رزلٹ مثبت جبکہ 8 منفی آئے جن کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے جبکہ 23 نمونوں کے رزلٹ ابھی تک موصول نہیں ہوئے ۔ایڈیشنل کمشنر محمد زاہد اکرام نے متعلقہ لیبارٹری سے رزلٹ موصول ہونے میں غیر ضروری تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا اور ڈائریکٹر زراعت کو ہدایت کی کہ بھجوائے گئے نمونہ جات کے رزلٹ کی فوری وصولی کو یقینی بنایا جائے تا کہ جعلی ادویات اور بیجوں کی فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف بروقت کارروائی کی جا سکے ۔اجلاس میں بتایا گیا کہ عدالتوں میں ایسے 22 مقدمات زیر سماعت ہیں جن میں سے کئی پر عدالتوں نے حکم امتناعی دیا ہوا ہے ۔ڈائریکٹر زراعت محمد فاروق جاوید نے مزید بتایا کہ سیمپلنگ کے دوران ناقص زرعی ادویات پر 34 لاکھ 25 روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں