214

ساہیوال: مختلف موضوعات پر تحقیق کرنے کیلئے طلباء و طالبات کی رہنمائی کی جائے۔ ڈاکٹروارث علی.

ساہیوال (خصوصی رپورٹ) یونیورسٹیوں کو تحقیقی مراکز بنائے بغیر نوجوانوں کو جدید دنیا کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار کرنا اور پاکستان کو ترقی یافتہ ملک بنانا نا ممکن ہے جس کیلئے ضروری ہے کہ تحقیق اورتنوع کی حوصلہ افزائی کی جائے اور مختلف موضوعات پر تحقیق کرنے کیلئے طلباء و طالبات کی رہنمائی کی جائے۔ ترقی یافتہ ملکوں نے اعلیٰ تعلیمی داروں خصوصاً یونیورسٹیوں میں تحقیق کو فروغ دے کر ہی ترقی حاصل کی اور پوری دنیا کو اس کے ثمرات پہنچائے۔یہ بات شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن کے ڈاکٹر وارث علی نے یونیورسٹی آف ساہیوال میں تحقیق کے فروغ کے موضوع پر ہونیوالی پہلی ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس کی صدارت شعبہ کی سربراہ ڈاکٹر شہیرہ امین نے کی۔ورکشاپ میں یونیورسٹی آف ساہیوال کے فکیلٹی ممبران اور طلباء و طالبات کے علاوہ دوسرے تعلیمی اداروں کے فکیلٹی ممبران نے بھی شرکت کی۔ورکشاپ میں تحقیق کے مختلف پہلوؤں پر مقالے پیش کیے گئے اور طلباء و طالبات کو ریسرچ میں درپیش مشکلات پر قابو پانے اور اپنی ریسرچ کو فائدہ مند بنانے کے بارے میں تربیت فراہم کی گئی۔ڈاکٹر وارث علی نے ورکشاپ کو یونیورسٹی آف ساہیوال کیلئے ایک سنگ میل قرار دیا اور کہا کہ ایسی ورکشاپ کا باقاعدگی سے انعقاد یقینی بنایا جائے گا تا کہ طلبا ء و طالبات صرف نمبر اور گریڈ حاصل کرنے کیلئے تعلیمی اداروں میں داخلے نہ لیں بلکہ صحیح معنوں میں ملک و قوم کے فائدے کیلئے ریسرچ بھی کریں۔ انہوں نے کہا کہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد ناصر افضل یونیورسٹی میں تحقیق کے فروغ میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب یونیورسٹی آف ساہیوال کا شمار بھی ملک کی بڑی یونیورسٹیوں میں ہوگا۔ورکشاپ کے اختتام پر فکیلٹی ممبران اور سٹوڈنٹس کی طرف سے سوالات کا سیشن بھی ہوا اور شرکا میں سرٹیفیکیٹس تقسیم کیے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں