358

دیکھو ذرا…(افسانہ)….(رانا اسامہ)..قسط اول

تحریر: رانا اسامہ

(قسط اول)

“And the pride of performance award goes to Miss SADIA HAYAT”
یہ سنتے ہی مجمعے میں بیٹھی سعدیہ حیات کا چہرہ خوشی سے تمتما اُٹھا۔ ھال میں ہر طرف تالیوں اور سیٹیوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ سعدیہ اپنی نشست سے اُٹھی اور دھیرے دھیرے سٹیج کی کی طرف بڑھنے لگی۔ بار ہا دہرائے ہوئے الفاظ کو وہ پھر سے اپنے دماغ میں دہرانے لگی جو اسے سٹیج پر جا کر بولنے تھے۔ شائد انہی لمحات کے لیئے اس نے برسوں انتظار کیا تھا۔ آج اس کی منزل اس کے سامنے تھی۔ چہرے پر دلکش اور فاتحانہ مسکراہٹ سجائے وہ سٹیج پر پہنچی۔ صدر مملکت سے اعزازی مصافحہ کرنے کے بعد گولڈمیڈل وصول کیا لیکن جیسے ہی اس نے شیلڈ وصول کی تو وہ اس کے ہاتھ سے پھسل کر زمین پر جا گری۔ یہ گھبراہٹ تھی یا اضطراب۔۔۔.
اس سے پہلے کہ وہ اپنے حواس میں واپس آتی ایک گونج دار آواز اس کے کانوں میں پڑی اور ہڑبڑاہٹ میں اس کی آنکھ کھل گئی
سعدیہ اُٹھ جاو، سکول سے دیر ہو رہی ہے۔۔۔۔۔۔
Oh My God! Again it was a dream…
یہ سوچتے ہوئے اس نے کمبل کو سرکانے کی بے سود کوشش کی
7 بج رہے تھے اور حسب معمول امی بیچاری کا چلا چلا کر برا حال تھا اور ادھر سعدیہ منہ ہی منہ میں بڑبڑا رہی تھی کہ امی نے اس کے اتنے حسین خواب کا “بقول اس کے” بیڑہ غرق کر دیا تھا۔
سعدیہ اکثر اوقات ایسے خواب دیکھا کرتی تھی لیکن شومئی قسمت کہ کبھی تو شیلڈ اس کے ہاتھ سے گر جاتی اور کبھی سٹیج پر چڑھتے ہوئے وہ سیڑھیوں سے گر جاتی اور سعدیہ کے مطابق ہر ایسے خواب کے ٹوٹنے کے پیچھے امی جان کا ہی ہاتھ ہوتا تھا کہ وہ اسے کسی ٹرافی تک پہنچنے ہی نہ دیتی تھیں۔۔۔۔۔
انہی خیالات میں گم جیسے ہی اس کی نظر دیوار پر لگی گھڑی پر پڑی تو اس کا خود کو پیٹ لینے کو جی چاہا کیوں کہ گھڑِی 7 بجنے کا عندیہ دے رہی تھی۔
اب اُس نے جلد از جلد اُٹھ کر ناشتے کی میز پر پہنچنے میں ہی اپنی بہتری جانی۔ ناشتے کے دوران ابو نے پوچحا،
کیوں سعدیہ بیٹی آج کس کارکردگی پر شیلڈ “پھینک” کر آئی ہو؟
اس سوال نے کسی کو بھی حیران نہیں کیا، کیونکہ حیات فیملی میں کوئی بھی فرد ایسا نہ تھا جو سعدیہ کے ان حسین خوابوں سے ناواقف ہوتا۔ یہ سوال سعدیہ کے منہ پہ لگے تالے کی چابی کا کام کرتا تھا۔۔۔
آج بھی ایسا ہی ہوا، ابو کے پوچھتے ہی سعدیہ گویا ہوئی، ابو ہوا کچھ یوں۔۔۔
اور پھر حسب معمول کبھی نہ ختم ہونے والی داستان الف لیلیِ شروع ہو گئی۔
امی نے کنکھیوں سے پہلے سعدیہ اور پھر سکندر حیات کو دیکھا جو بظاہر انتہائی محو ہو کر سعدیہ کو سن رہے تھَے۔۔۔
اور زیر لب بڑبڑائی۔۔۔۔۔ ہو گئے باپ بیٹی شروع ۔۔۔۔۔ اور دوبارہ ناشتہ کرنے میں مصروف ہو گئِیں.
اس سب میں ایک خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے زعیم حیات کو ایسی کسی بحث سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ اسے اُس وقت تعلق تھا تو صرف اور صرف۔۔۔۔۔
اپنی پلیٹ میں پڑے اُس لذیذ آملیٹ سے۔۔۔۔۔
(جاری ہے۔۔۔۔۔)

اس افسانہ کی قسط دوم پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

دیکھو ذرا…(افسانہ)….(رانا اسامہ)..قسط اول” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں