296

بدلتے موسم……(سیف لڑکا)

تحریر: سیف لُڑکا . پاکپتن.

رفتہ رفتہ یہ سمے پھر کہاں
موسم کا کیا اعتبار ہےلوٹ آؤ

یہ اُن دنوں کی بات ہے کہ جب ہم چھوٹے چھوٹے تھے، ہمارے گاؤں میں بجلی نہیں تھی۔ لوگ بہت پُرسکون زندگی گزاررہے تھے۔ دن کو کام کاج کرتے، شام ہوتے ہی سفید داڑھی والے جوان اور بچے سبھی ایک ڈیرے نما بیٹھک پر جمع ہو جاتے، بازار کشادہ تھے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چلنے لگتی اور حقے کی بیچ میں اپنی ٹھاٹھ ہوتی تھی۔ چونکہ ہم نے حقہ نہیں پینا ہوتا تھا، ہم زرہ ہٹ کے بیٹھ جاتے، بزرگ حقہ بھی پیتے اور کہانیاں بھی سناتے، آدھی آدھی رات تک بیٹھے رہتے۔ تو وہ اکثر کہتے تھے۔ (رتاں بدل جاندیاں نے) یعنی موسم بدلتے رہتے ہیں، دوسرے بابے نے آگے سے ہنگورہ دیتے ہوۓ جواب دینا یار رتیں تو پھر اپنے ٹائم پر لوٹ آتی ہیں، مگر زمانہ بہت بدل چکا ہے۔ ہم یہ باتیں سنتے رہتے مگر دوسرے کان سے نکال دیتے۔ موسم بدلتے گئے ٹائم گزرتا گیا۔ مختصر کرتاچلوں، 2007میں ہمارے گاؤں میں بھی بجلی آگئ۔ سب سے پہلے ٹی وی گھر میں داخل ہوا۔ پھر باقی ٹیکنالوجی کی بھی مجبوری بن گئی۔ جدید ٹیکنالوجی نے کچے گھر ختم، ڈیرے نمابیٹھکیں بھی ختم کردی۔ اب احساس بھی ختم ہوتا نظر آ رہا ہے۔ اب وہ منظر مجھے یاد آتے ہیں۔ تو میں سوچتا ہوں، موسم بدلتا بھی ہے تو کچھ وقت کیلئے بدلتا ہے۔ رہی بات زمانے کی زمانہ نہ بدلہ ہےنہ بدلے گا۔ بدلے ہیں تو صرف لوگ بدلے ہیں۔ پہلے لوگوں میں احساس تھا۔ جیسے ہی لوگ بدلے ہیں، احساس بھی ایک خواب بنتاجارہاہے۔ خداکیلئےاحساس پیداکریں۔موسم وہی ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں