330

حکمران طبقے کی چالیں اور بھولی عوام……(مستنصر کامران)

تحریر: مستنصر کامران

شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کی لڑائی سے اندازہ لگا سکتے ہو کہ ان کے مفادات ملک کی خدمت یا پھر طاقت کا حصول ہے. عوام کو یہ بھڑوے چوتیا بنا کر اقتدار کیلۓ ایک دوسرے کے گریبان نوچ رہے ہیں. معصوم اور بھولی عوام ان ڈاکوؤں کو اپنا مسیحا سمجھ رہی ہے.

ن لیگ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف میں ایک ہی طبقے کے خاندان اور افراد براجمان ہیں. جن کا ملک کی محنت کش اور غریب عوام سے کوئی تعلق نہیں ہے. جب تک اس ملک میں عام آدمی اپنی سیاست کرتے ہوئے اپنے فیصلے خود نہیں کریگا. اس ملک میں عام عوام کیلۓ کچھ نہیں بدلنے والا.

حکمران طبقے نے پاکستان کی سادہ لوح عوام کو ذات پات, پیری مریدی, علاقائی اور نسل پرستی کے تعصب کی شکار کر کے نسل در نسل ملک اور وسائل پر قابض ہیں. 99 فیصد عوام کے جو مسائل ہیں وہ اس طبقے کے نہیں ہیں. بیروزگاری, تعلیم, جہالت, مہنگائی اور صحت صرف عام عوام کے مسائل ہیں.

یہ لوگوں کو مختلف پارٹیوں اور نعروں میں تقسیم کر کے آباؤ اجداد کی طرح پر تعیش زندگی گزار رہے ہیں. غریب کا بچہ پڑھ جائے تو نوکری نہیں ملتی اور اگر نوکری مل جائے تو مہنگائی اتنی ہے کہ وہ ضروریات زندگی پوری کرتے کرتے ہی مر جاتا ہے.

نوجوانوں کی بڑی تعداد ناکارہ ہو چکی ہے. جس کے باعث لوگ مجبور ہو کر خودکشیاں کرنے پر تیار ہیں. دنیا بھر کی سامراج ان کو پال رہی ہے جس کے ذریعے محنت کش طبقے کو نچوڑا جا رہا ہے. کسان مزدور اور تمام ورکنگ کلاسز کے خون پسینے سے فیکٹریاں اور بڑے بڑے مالیاتی ادارے چل رہے ہیں.

یاد رکھنا پاکستانی دوستو جب تک تم خاموش تماشائی بن کر گھروں میں بیٹھے رہو گے تب تک یہی خاندان ملک اور وسائل پر قابض رہیں گے.

اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارے بچے بھوک,پیاس,جہالت اور بیماریوں میں نہ مریں تو پھر اس 1 فیصد طبقے کو99 فیصد محنت کشوں کو ملکر فتح کرنا ہو گا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں