464

محمد فیاض یا ہمارے کالم نگار……(راؤ کامران علی، ایم ڈی)

تحریر: راؤ کامران علی، ایم ڈی.

محمد فیاض کا تعلق عارف والا سے ہے اور میٹرک فیل ہے۔ غریب ہونے کے باعث وہ تعلیم جاری نہ رکھ سکا اور اس کا پائیلٹ بننے کا خواب پورا نہ ہوسکا۔ جہاز اڑانے کا شوق اس کے اندر ٹھاٹھیں مارتا رہا یہاں تک کہ یو ٹیوب پر اس نے (مبینہ طور پر) جہاز بنانے کا طریقہ سیکھا. پرانے جہازوں کی باڈی، کار کی سیٹ، بارہ والٹ بیٹری اور دو ٹینک تیل سے جہاز بنایا۔ چھ سو گاؤں والوں کے سامنے جہاز اڑایا. جہاز چند فٹ اڑا اور قریبی اسکول پر گر کر تباہ ہوگیا، محمد فیاض سمیت متعدد طلبا شدید زخمی ہوگئے انھیں ہسپتال لے جایا گیا جہاں چند جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور باقی زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ ٹی وی چینلز نے آسمان سر پر اٹھا لیا. میڈیا مقامی ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کے استعفوں کا مطالبہ کررہا ہے. اینکرز کے مطابق یہ عمران خان کی حکومت کی ناکامی اور اسد عمر کی معاشی تباہی کا نتیجہ ہے۔ اگر اسد عمر پچھلے چھ مہینوں میں معیشت تباہ نہ کرتا تو فیاض پندرہ سال پہلے ایف اے کرکے ائیر فورس میں جاچُکا ہوتا۔

یہ ہوسکتا تھا لیکن خدا کا شُکر ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا اور فیاض کو جہاز اڑانے سے پہلے ہی مستعد پولیس نے روک دیا۔ تاہم چند کالم نگاروں نے اپنا ”سودا“ بیچنا تھا اسلئے اسے جذباتی رنگ میں لے کر حکومت اور پولیس پر تنقید شروع کردی۔ اسد عمر کی کارکردگی اور فیاض کے “جہاز” کا اتنا ہی تعلق ہے جتنا “بابا جی اور جوان کی“ کارکردگی ” کا تعلق لالٹین پکڑنے کے طریقے سے تھا”۔ اس پوری کہانی میں منطق اور دلیل کا دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں۔ فیاض چوکیدار کا بیٹا تھا اور غربت کی وجہ سے پڑھائی جاری نہ رکھ سکا۔ عارف والا ہمارے آبائی شہر بورے والا کا ہمسایہ شہر ہے اور میں کم ازکم دس ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جن کے والدین اتنے ہی غریب تھے جتنے فیاض کے لیکن ان کی لگن سچی تھی تو آج وہ امریکہ میں ڈاکٹر ہیں، آئی ٹی میں ہیں، سی ایس پی ہیں۔ فیاض کے پاس تو چار کنال زمین تھی بیچنے کو، ان سب کے پاس تو اپنا گھر بھی نہیں تھا تو غربت اور محرومی ایسے تجربات کی وجہ تسمیہ نہیں ہوسکتے۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یو ٹیوب دیکھ کر جہاز بنانا ایجاد ہے؟ جواب ہے نہیں. یہ ایسے ہی ہے جیسے آپا زبیدہ (مرحومہ) کو دیکھ کر کھانے بنانا، کھانے “ایجاد” کرنا نہیں کہلاتا اور اکثر ان کھانوں کا نتیجہ بھی اس جہاز جیسا نکلتا ہے۔ پھر یہ کہ جہاز انجنئیر بناتا ہے اور پائیلٹ اڑاتا ہے، اور یہ دونوں پروفیشن سالوں کی مسلسل محنت اور تیاگ مانگتے ہیں جبکہ “سائنسدان” فیاض صاحب یوٹیوب دیکھ کر انجنئیر اور پائیلٹ بیک وقت بن جائیں اور پھر کالم نگار صاحبان ایسے “ہیرے” کی ناقدری پر نوحہ گراں ہوں۔ عاقل حضرات فرماتے ہیں کہ وہ جہاز اُڑا بھی تھا لیکن نہ تو کوئی ایسی تصویر یا ویڈیو معرض وجود میں آئی اور نہ ہی جہاز کی شکل دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ اڑ سکتا ہے؛ ایسے “طیارے” ویسے نئی ایجاد ہیں بھی نہیں. مدنی بھائی ایسے “مدنی طیارے” سائیکلوں پر لئے پھرتے ہیں۔

راقم کو جہاز اڑانے کا تھوڑا سا تجربہ ہے لیکن وہ بھی ماہر انسٹرکٹر پائیلٹ کے ساتھ (یو ٹیوب دیکھ کر نہیں)، جہاز اڑانا تو دور کی اور بنانا تو بہت ہی دور کی بات، پری فلائٹ چیک اپ میں ذرا سی کوتاہی ہو جائے تو جہاز کٹی پتنگ کی طرح زمین پر گرتا ہے اور جن گھروں پر گرتا ہے ان بیچاروں کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔ جہاز کے گرنے کے چانسسز سب سے زیادہ ٹیک آف کرتے اور لینڈنگ کرتے ہوتے ہیں گویا کہ اناڑی پائیلٹ ائرپورٹ کے قریبی آبادی کے لئے خطرناک ہوتے ہیں۔ پائیلٹ کے لائسنس آورز پورے کرنے سے پہلے ہی ٹی سی ایف کے مشن پر گامزن قریبی عزیز بابر سلیمان اور ان کے بیٹے حارث سلیمان دنیا کا چکر لگاتے ہوئے آخری اسٹاپ پر ہوائی کے قریب سمندر میں جہاز گر کر جاں بحق ہوگئے. دونوں مشاق پائیلٹ تھے. حادثے کی وجہ حتمی طور پر معلوم نہ ہوسکی۔ ان کے چند مہینے بعد، بہترین پائیلٹ، ڈاکٹر رحمان اور ان کے دو ڈاکٹر میاں بیوی دوست بھی ایسے ہی جہاز اڑاتے ہوئے شکاگو کے قریب حادثے میں فوت ہوئے تو راقم نے بھی جہاز سے دوری اختیار کرلی اور لائسنس نہ لے سکا لیکن اتنا عملی تجربہ ضرور ہوگیا کہ اناڑیوں کی جذباتیت پر انسانی جان کی قدرومنزلت کو فوقیت دی جاسکے اور اس کی اہمیت کو اجاگر کیا جاسکے۔

کوئی انسان ذاتی زندگی میں مکمل نہیں ہوتا لیکن جب وہ کچھ لکھتا یا کہتا ہے اور چار لوگ اسے فالو کرتے ہیں تو پھر ذمہ داری ایسے ہی پڑجاتی ہے جیسے جہاز کے کپتان پر مسافروں کی ہوتی ہے۔ چند کالم نگاروں نے ایک ایسے انسان کو سستی جذباتی ہمدردی دی جس کا ہر عمل غلط تھا. کل کو کوئی اور “فیاض” جو ہارٹ سرجن نہ بن سکا ہو اور “مشن کی تکمیل” کے لئے یوُٹیوب دیکھ کر کسی بچے کا سینہ چاک کرکے کھڑا ہوگیا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟ غیر مستحق کو دولت دی جائے تو وہ اتنی خطرناک نہیں ہوتی جتنی شہرت. کیونکہ دولت آس پاس نظر آتی ہے اور شہرت چار دانگ عالم. ہم بچپن میں اسلامیات میں پڑھتے تھے کہ وہ شہید جنت میں جائے گا جس نے خالص الّلہ کے لئے جان دی ہو. ناں کہ شہرت اور نمود و نمائش کے لئے. گویا شہرت اتنی ظالم چیز ہے کہ اس کے لئے جان بھی دی جاسکتی ہے۔ راقم نے خطیب حسین کے پروفیسر کو قتل کرنے پر کچھ نہیں لکھا کیونکہ بہت تلخ ہوجاتا. لوگ پڑھ نہ سکتے اور نہ ہی ہضم کرسکتے۔ خطیب حسین نے پروفیسر کو قتل نہیں کیا. اس “شہرت” نے قتل کیا ہے جو خودساختہ خیالات کی بنا پر مذہب کو بنیاد بنا کر ذاتی فتوی لگا کر قتل کرنے سے قاتل کو ملتی ہے۔ ایسی شہرت کو لگام دینے کی ضرورت ہے۔ ورنہ یاد رہے جو لکھاری منطق سے عاری ہوکر صحافتی مصالحہ بانٹ رہے ہیں وہ یا ان کے عزیز بھی ایک دن اس “مصالحے” کی لپیٹ میں آسکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں