254

نصاب میں چوری چھپے تبدیلی، عقیدہ ختم نبوت پر ایک اور حملہ.

اسلام آباد(جمعیت العلمائے اسلام زرائع) چوتھی جماعت کی کتاب اسلامیات میں صفحہ نمبر 13 اور 14 پر جو تبدیلیاں کی گئی ہیں وہ ناقابل برداشت ہیں. تفصیلات کے مطابق 2018-19 کے کتابوں میں عقیدہ ختم نبوت کے شرعی حکم پر مشتمل لائن موجود ہے جبکہ 2019-20 کی اسلامیات کی نئی کتاب میں سے اس سطر کو معہ سوال غائب کردیا گیا ہے۔ سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ سلیبس میں اس تبدیلی کا اصل ذمہ دار کون ہے ؟ پہلے عاطف میاں کا مسئلہ پھر سابق چیف جسٹس کو ڈیم فنڈ میں قادیانیوں کا چیک دیتے وقت آئین پاکستان کی خلاف ورزی کرتے ہوٸے جماعت احمدیہ مسلمہ کی اناٶنسمنٹ کرنا اور اب نصاب میں تبدیلی کرتے ہوئے بچوں کے ذہنوں سے عقیدہ ختم نبوت کا تاثر ختم کرنے کی ناپاک جسارت کہیں وطن عزیز کو ایک اور بحران سے دوچار کرنے کی سازش تو نہیں ؟ ذرائع نے مطالبہ کیا ہے کہ حکمرانان وقت ہوش کے ناخن لیں اور فوری طور پر نصاب میں اس تبدیلی کا نوٹس لیں اور ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے اگر برقت ایکشن لیتے ہوئے اس غلطی کو درست ناکیا گیا تو پھر بھر پور احتجاج کیا جائے گا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں