343

طب صابر Naturopathy …..(لیاقت علی کھچی)

تحری: نیچروپیتھ لیاقت علی کھچی.

صدیوں پر مشتمل طبی تاریخ میں امراض کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ شاید ہی کوئی فرد ان بیماریوں کے نام گنوانے کا دعوی کر سکے ایسی صورت میں ایک ایسا محقق جو انسانی جسم میں صرف ایک مرض کا دعوی کرے وہ شخص واقعی ہی انمول ہے حکیم انقلاب دوست محمد صابر ملتانی وہ پہلی طبی شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی تحقیق سے یہ ثابت کیا کہ انسانی جسم میں اتنے امراض نہیں پائے جاتے بلکہ انسانی جسم میں مرض صرف ایک ہی ہے جسے آپ نے غیر طبعی تحریک کا مقام قرار دیا اور اسی مناسبت سے علاج بھی صرف ایک ہی قرار دیا یعنی تحریک کو طبعی کرنا اور یوں استاد محترم نے صدیوں پر مشتمل پھیلی ہوئی اور غیر یقینی طب کو صرف ایک یقینی فلسفے پر مفرد مرض مفرد علاج پریکجا کرکے تڑپتی سسکتی ہوئی انسانیت پر عظیم احسان کیا.

حکیم انقلاب دوست محمد صابر ملتانی کی تحقیقات کے مطابق انسانی جسم میں خلیہ چاہے جو بھی ہو مزاج چاہے جو بھی ہو وہ خلیہ آکسیجن کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اس بات کو انہوں نے طبعی تحریک قرار دیا اور اسے حالت صحت قرار دیا اسی طرح کوئی بھی خلیہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کے بغیر اپنے صحت مند افعال کو جاری نہیں رکھ سکتا. اس بات کو انہوں نے غیر طبعی تحریک قرار دیا اور اسے حالت مرض کہا اپنی اس تحقیق کو تین حیاتی اعضائے رئیسہ کی مناسبت سےمفرد مرض کے فلسفہ کی وجہ سے نظریہ مفرد اعضاء قرار دیا جو بعد میں ان کے نام کی مناسبت سے طب صابر کہلایا. آسان الفاظ میں ہم طب صابر کی یہ تعریف کر سکتے ہیں کہ وہ طبی قانون جس میں مرض مفرد عضو میں تشخیص کرکے علاج بھی مفرد عضو کا کیا جائے مفرد اعضاء یا پھر طب صابر کہلاتا ہے جسے انگریزی زبان میں نیچرو پیتھی Naturopathy بھی کہا جاتا ہے.

حکیم انقلاب دوست محمد صابر ملتانی کی تحقیقات دو حصوں پر مشتمل ہیں آپ نے اپنی تحقیق کے پہلے مرحلے پر طب یونانی آیور ویدک اور ہومیوپیتھی میں موجود خس و خاشاک کو دور کرکے ان میں تجدید کی اور انہیں ان کی اصل شکل میں دنیائے طب کے سامنے پیش کیا جبکہ اپنی تحقیق کے دوسرے مرحلے میں آپ نے مفرد اعضاء یعنی طب صابر کی شکل میں اپنی تحقیق نئی طب کی شکل میں دنیا طب کے سامنے پیش کی اب یہ دنیائے طب پر منحصر ہے کہ وہ چاہے تو تجدید طب سے فائدہ اٹھا لے اور چاہے تو نئی طب کو اپنا لے اس کے لیے کوئی قید نہیں کوئی رکاوٹ نہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں