407

پس مرگ………(یاسر رضا آصف)

تحریر: یاسر رضا آصف

میں مرگ والے گھر میں بیٹھا تھا۔ آنگن میں نیم کا پیڑ اپنے ٹیڑھے پن کے باعث لوگوں کو جھک کر صحن سے گزرنے پر مجبور کررہا تھا۔ صحن کے بیچو بیچ لگی ہوئی قنات نے کچے صحن کو دوحصوں میں تقسیم کررکھا تھا۔ عورتوں کی جانب سے گریہ وزاری کی مسلسل آوازیں آرہی تھیں ۔ کبھی کبھار تو یہ آہ وزاری باقاعدہ ماتم کی شکل اختیار کرجاتی تھی۔ ایسی جگہوں پر میرے ساتھ ایک معاملہ شروع ہوجاتا ہے کہ پچھلے تمام فوت شدگان اپنی چارپائیوں سمیت سامنے آجاتے ہیں۔ گویا ذہن میں لاشوں کا ایک البم کھل جاتا ہے۔ مجھے یہ سب بند کرنا تھا میں نے موبائل کان سے لگایا اور ہیلو ہیلو کہتا باہر چلا آیا۔ سگریٹ سلگانے کی دیر تھی کہ ذہن شانت ہونا شروع ہوگیا۔ چہل قدمی سوچوں کے پانی کو ساکن کرنے میں فعال ثابت ہوئی، اینٹوں کے فرش پر چلتے ہوئے ایک گلی کی جانب مڑا، سامنے کے منظر نے مجھے ساکت کردیا۔

یہ ایک قدیم عمارت تھی جس نے مجھے اپنی طرف کھینچنا شروع کردیا جیسے کسی لکھاری کو کوئی کہانی بلاتی ہے اس کے کان میں سرگوشی کرتی ہے اور اچانک دبیز دھند میں غائب ہوجاتی ہے۔ میں کسی ہیپناٹائز کیے شخص کی طرح قدیم مسجد کی جانب بڑھنے لگا۔ میں قدامت کے جادو کے زیرِاثر دھیرے دھیرے قدم اٹھارہا تھا۔ مسجد سے ملحقہ ایک چھوٹی سی لوہار کی دکان تھی۔ جہاں لوہار بوڑھے مگر توانا بازوؤں سے گرم سلاخ پر ضربیں لگانے میں مصروف تھا۔ تین افراد قوس کی شکل میں مونڈھوں پر جمے بیٹھے تھے اور حقے کی گڑگڑاہٹ سے ماحول کو مزید قدیم بنانے میں مصروف تھے۔ میں مسجد کی پشت پر محراب کے قریب کھڑے ہوکر داخلی دروازہ ڈھونڈ رہا تھا۔ کچھ لوگوں پر دروازے جلد کھل جاتے ہیں کچھ دستک دے دے کر ہاتھ زخمی کربیٹھتے ہیں مگر دروازہ نہیں کھلتا۔ چابی گھمانے سے بھی دروازہ نہیں کھلتا اندر سے کھلنے والے دروازے باہر سے کم ہی کھلا کرتے ہیں۔

جب دکان پر بیٹھے ہوئے لوگوں نے مجھے مضطرب دیکھا تو ہاتھ کے اشارے سے راستہ سمجھانے لگے ’’آپ کو اس گلی کا چکر لگا کر اوپر سے آنا ہوگا بس بائیں جانب مڑتے رہنا‘‘ ایک بزرگ جس کی صورت پڑھے لکھے ہونے کی علامت تھی مجھے دروازے کی راہ دکھائی۔ پڑھائی لکھائی بھی انسان کو لفظوں کے بوجھ اور بھاری بھرکم افکار تلے دباسادیتی ہے۔ واضع تصویر کی بجائے آپ اس میں چھپی باریکیاں دیکھنے لگتے ہیں۔ یوں سامنے کا منظر دھندلا پڑجاتا ہے۔ میں نے سگریٹ کا لمبا کش لیا اور شکریہ کہتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔ سگریٹ کے آخری کش اور چائے کی آخری چسکی میں جو اس قدر لطف ہے وہ شاید رائیگانی کا ہے۔ میں نے بھی دھواں اندر کھینچا، رائیگانی کا لطف اٹھایا اور سگریٹ پھینک دیا۔

یہ گلی ایک بازار تھی۔ جس میں قدیم طرز پر بنی ہوئی کچھ دکانیں تھیں ان کی دہلیزوں میں لکڑی کے بنے تختے نصب کیے گئے تھے۔ تختوں کو گھومنے والے پیچوں کے ذریعے آپس میں جوڑا گیا تھا جس سے انھیں اکٹھا کرکے آسانی سے ایک طرف کیا جاسکتا تھا۔ بچے کچی زمین پر لکڑی کی بنی بطخ سے کھیل رہے تھے ۔ لوگوں کے چہروں پر بشاشت نہیں بلکہ اضطراب تھا۔ کرب تھا۔ فکر مندی تھی ۔ مجھے یہ گاؤں کسی حنوط شدہ لاش کی طرح لگ رہا تھا۔ میرے نتھنے ان کے خوف زدہ ذہنوں کی سڑاند کو سونگھ رہے تھے۔ دکانیں ختم ہوچکی تھیں ۔ گلی تنگ ہوتی جارہی تھی اور مجھے کھلی جگہ درکار تھی۔ جہاں کھل کر سانس لیا جاسکے۔ گلی نے تھوڑا موڑ کاٹا اور مجھے چوک میں انڈیل دیا۔ یہاں چہل پہل تھی اور دکانیں ہی دکانیں تھیں میں لوگوں کی چبھتی نظروں سے بچتا بچاتا بائیں جانب مڑگیا وہ گلی سرنگ کی طرح تھی اور بدستور بائیں جانب جھکتی جارہی تھی۔ اس گلی نے جھکاؤ کے باوجود مجھے انگلی پکڑ کر مسجد کے سامنے لاکھڑا کیا۔ جتنی قدامت عمارت کی پشت سے واضح تھی اس سے زیادہ وجاہت سامنے کے حصے میں تھی۔

ہوا مدھم سروں میں الاپ کررہی تھی۔ فروری کی دھوپ میں ہلکی چبھن تھی۔ میں نے جوتے اتارے اور مسجد میں داخل ہوگیا۔ دوپہر بارہ بجے کے قریب کسی نمازی کا ہونا ناممکن تھا اور ایسا ہی ہوا۔ مجھے بھی تنہائی درکار تھی تنہائی سوچوں کی گرہیں کھولتی چلی جاتی ہے۔ میں نے اپنی ذات کے ساتھ قریب ترین لمحات ہمیشہ تنہائی میں ہی گزارے ہیں مجھے شاید یہی خواہش یہاں تک لے کر آئی تھی۔

مسجد کا سامنے والا حصہ تین محرابی دروازوں پر مشتمل تھا۔ درمیانی دروازہ باقی دو کی بہ نسبت کافی اونچا تھا۔ باقی دو دائیں بائیں کافی فاصلے پر تھے اور درمیان میں جالی دار لمبوتری کھڑکیاں تھیں۔ دروازوں پر سبز رنگ چڑھایا گیا تھا جو اب کئی جگہ سے اکھڑ چکا تھا اور ان پر کیے گئے نقش ونگار بھی اب کافی حد تک ماند پڑ چکے تھے ۔ چھوٹی اینٹوں پروقت گزرنے کے باعث جمی ہوئی سیاہی ان کی قدامت کا ثبوت پیش کررہی تھی۔ میں نے کئی مرتبہ آگے بڑھ کر دیواروں کو چھونے کی کوشش کی مگر ہربار خواب ٹوٹ جانے کے احساس سے ہاتھ کو واپس کھینچ لیا۔ دہلیزوں کی لکڑی کو جس مہارت سے تراش کر پھول ابھارے گئے تھے آج بھی دیکھنے کے قابل تھے۔ میں قدیمی حسن کے حصار میں کچھ ایسا قید ہوا کہ مجھے وقت گزرنے کا احساس تک نہ ہوا۔

میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا ایک بزرگ جانے کب سے مجھے دیکھ رہے تھے۔ میں نے انھیں سلام کیا اور مسجد کے نقش ونگار پر گفتگو کرنے لگا۔ میں آثارِ قدیمہ کا ماہر نہیں اور نہ ہی کوئی نقشہ نویس ہوں مگر قدیم عمارتوں میں دلچسپی کے باعث تھوڑا علم رکھتا ہوں۔ مجھے جس حد تک علم تھا بیان کرتا گیا۔ بزرگ موٹے شیشوں والی عینک پہنے تھے جن کے پیچھے سوچتی ہوئی آنکھیں تھیں۔ ان میں اچانک چمک پیدا ہوئی۔ انھوں نے اپنی لاٹھی کا سہارا لے کر ، اپنا سینہ تان کر اور گردن کو لہرا کرجیسے اعلان کیا ’’یہ مسجد میرے دادا جی نے بنائی تھی‘‘ میں نے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا جوپہلے ہی کرلینا چاہیے تھا۔ ایک لپٹی ہوئی صف کو کھولا اور ہم دونوں صف پر بیٹھ گئے۔

میں ان کے سامنے دو زانوں بیٹھا تھا انھوں نے دھیمے لہجے میں بتانا شروع کیا ’’میرے پڑدادا مغل دور میں دہلی کے چوٹی کے کاریگر تھے۔ اینٹوں کی ایسی تراش خراش کرتے کہ بیٹا لگتا ابھی پھول زندہ ہوجائیں گے۔ میرے دادا نے ان سے یہ ہنر سیکھا۔‘‘ وہ لاٹھی کا سہارا لے کر کھڑے ہوگئے۔ دوچار قدم اٹھا کر دیوار تک پہنچے۔ ان کے فقروں میں سلاست اور روانی دیکھ کر دہلی کا آموختہ یاد آگیا خیر اب ان کا لہجہ کافی حد تک مقامی ہوچکا تھا۔ میں ان کے پاس آکر کھڑا ہوگیا۔ میں کوئی ٹیلی ویژن کا میزبان نہیں ہوں کہ کھٹا کھٹ سوال پوچھنے لگتا۔ میں خاموشی سے ان کی گفتگو سننے میں محو تھا۔

وہ لاٹھی ٹیکتے ہوئے مسجد کی عمارت میں داخل ہوگئے۔ عمارت کا فرش صحن میں لگے فرش سے خاصہ نیچے تھا۔ اس لیے انھیں دہلیز کا سہارا بھی لینا پڑا میں نے بھی ان کی پیروی کرنا ہی مناسب سمجھا چوں کہ وہ فقط مجھ سے ہی مخاطب تھے ’’اس مسجد کی چھت بیس فٹ پر بنی ہوئی ہے۔ گرمیوں میں مسجد ٹھنڈی رہتی ہے ، چھت ڈاٹ والی ہے اور ڈیڑھ سوسال گزرنے کے بعد بھی کھڑی ہے۔ محراب کے ساتھ اینٹوں کی بناوٹ دیکھو۔‘‘ وہ اینٹوں کے تراشے ہوئے پھول دار حصوں پر ہاتھ پھیرنے لگے ’’یہ فن میرے دادا نے میرے والد کو سکھایا اور میرے والد نے مجھے مگر۔۔۔۔‘‘ ان کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ پھر ادھر ادھر کی باتیں شروع ہوگئیں۔ میرے بارے پوچھنے لگے۔ جب میں نے اجازت چاہی تو مجھ سے رہا نہ گیا۔ پوچھ ہی لیا ’’بابا جی کیا آپ نے اپنے بیٹے تک یہ فن منتقل کیا؟‘‘ ٹھنڈا سانس لے کر بولے ’’آج کی نسل ہوا کے گھوڑے پر سوار ہے۔ ایک اینٹ پر اتنی دیر محنت کیسے کرسکتی ہے‘‘ میں انھیں مزید افسردہ نہیں کرنا چاہتا تھا لہٰذا کچھ کہے بغیر وہاں سے چلا آیا۔

واپسی پر میں بے اختیار سوچنے لگا کہ یہ قدیمی فن ان بزرگوں کے ساتھ ہی مٹی میں دفن ہوجائے گا۔ ایک دن آئے گا جب گاؤں کے لوگ اس کی جگہ نئی مسجد تعمیر کردیں گے۔ میں ایسی ہی باتیں سوچتے سوچتے مرگ والے گھر کے سامنے آگیا۔ جہاں ابھی تک گریہ وزاری جاری تھی۔ میرے سامنے دوجنازے تھے ایک ایسے شخص کا جسے میں ٹھیک طرح سے جانتا بھی نہیں تھا مگر غمزدہ آنکھوں کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا اسے کافی لوگ جانتے تھے اور جانے کے بعد کافی دیر تک اس کی کمی محسوس کرتے رہیں گے۔ دوسرا جنازہ قدیمی فن کا تھا جو آباؤ اجداد کی جانب سے نئی نسل کو ودیعت کیا جانا تھا۔ جب نئی نسل نے انکار کردیا تو اس فن کا مرجانا ہی بنتا تھا۔ کلمۂ شہادت کی آواز سنتے ہی میں جنازے کو کندھا دینے کے لیے تیزی سے آگے بڑھا-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں