251

ساہیوال: گرلز پائلٹ سکول کے گردبھونڈوں کے ڈیرے.

ساہیوال(خصوصی رپورٹ)گرلز پائلٹ سکول کے گردبھونڈوں کے ڈیرے،مردانہ سٹاف نے سہولت کاری کے ریٹ مقرر کرلئے، معمولی کلرک جائیدادوں کے مالک بن گئے،ڈی ای اوسیکنڈری نے تبادلے کے احکامات ہوامیں اڑادیئے،بدقماش عناصرکوتحفظ دینے لگیں۔لڑکیوں کی تعلیم کیلئے قائم قدیمی درسگاہ گورنمنٹ گرلزپائلٹ ہائرسیکنڈری سکول کی ہزاروں طالبات سکول کے بدقماش عملہ کے ہاتھوں یرغمال بن چکی ہیں۔مردانہ سٹاف جس میں جونیئرکلرک، لائبریرین،مالی، چوکیدار، سکیورٹی گارڈ کے علاوہ سکول کاٹیچنگ سٹاف،سابق استانیاں اورموجودہ پرنسپل شامل ہیں۔پائلٹ سکول میں زیر تعلیم نوجوان بچیوں کوگمراہ کرنے کیلئے چندمردوخواتین پرمشتمل ایک گروپ کام کررہاہے جن میں سے اکثرکیخلاف سنگین نوعیت کے الزامات کے تحت انکوائریاں عمل میں لائی جاچکی ہیں۔انکوائری افسرسمیت محکمہ تعلیم کے متعددافسرسکول میں موجود عملہ کے چند ارکان کوزنانہ تعلیمی اداروں کیلئے خطرہ قراردیتے ہوئے ان کوپائلٹ سکول سے فارغ کرنے کی سفارش کرچکے ہیں۔سکیورٹی گارڈمحمدسلیم،جونیئرکلرک سلیم اورلائبریرین لطف اللہ عابد سمیت متعددمرداہلکاروں نے زنانہ تعلیمی ادارے میں اپنانیٹ ورک قائم کررکھا ہے جونوجوان بچیوں کوسنہرے مستقبل اورتحفے تحائف کی آڑ میں گمراہ کررہے ہیں۔سکول پرنسپل میڈم شگفتہ سرفراز تمام ترحالات سے آگاہ ہونے کے باوجود اپنے ماتحتوں کے خلاف کارروائی کے بجائے ان کا تحفظ کرنے میں مصروف ہیں۔ذرائع کے مطابق سکول سے تبدیل اورریٹائرہونے والی لیڈی ٹیچرزاورسابق مردانہ سٹاف بھی سکول میں اکثرپائے جاتے ہیں جنہوں نے مخصوص مفادات کے حصول کی خاطر نوجوان طالبات تک رسائی حاصل کررکھی ہے۔ذرائع کے مطابق دیہاتی ماحول سے آنے والی بڑی کلاسوں کی سادہ لوح طالبات کوشاپنگ کی آڑمیں سکیورٹی سٹاف کی مددسے سکول کے بغلی دروازے سے باہر بھجوادیاجاتاہے ۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیکنڈری فوزیہ اعجاز نے مختلف تعلیمی افسران کی سفارشات کو یکسرنظراندازکرتے ہوئے مردانہ سٹاف کیخلاف تادیبی کارروائی کی بجائے انہیں تحفظ فراہم کررکھاہے۔فوزیہ اعجازنے محکمہ تعلیم کے افسران کی سفارشات پرعملدرآمد کرنے یانہ کرنے کو اپناحق قرار دیا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں