353

ساہیوال: مسجد دریا برد ہوگئی.

ساہیوال(خصوصی رپورٹ) دریائے راوی کے کٹاؤ کی وجہ سے چار گھر متاثر مسجد دریا برد سو سے زائد گھر متاثر ہونے کا خدشہ، پچیس ایکڑ سے زائد زیر کاشت رقبہ بھی دریا برد ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق ساہیوال کے نواحی موضع نورن سنپال کے مہر ظفر اقبال، اقبال، دلاور، وارث کے گھر اور ایک مسجد دریا بُرد ہو گئیں چار خاندان بے گھر ہو کر نقل مکانی کرچکے ہیں جبکہ پچیس ایکڑ سے زائد زیر کاشت رقبہ بھی دریا بُرد ہو چکا ہے. موضع نورن سنپال کی آبادی دریائے راوی سے پندرہ فُٹ کے فاصلے پر رہ چکی ہے جو کسی بھی وقت دریا برد ہو سکتی ہے جس سے قیمتی جانوں کے ضیاع کا خدشہ پیدا ہو چکا ہے مقامی دیہاتیوں نے احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ 1988 میں پچپن مربعہ رقبہ مختلف خاندانوں کے پاس زیر کاشت تھا جو دریا برد ہو چکا ہے دریا کے کٹاؤ کی وجہ سے تین مربعہ رہ چکا ہے فصلیں دریا بُرد ہونے کی وجہ سے جانوروں کے چارے کی قلت بھی پیدا ہو چکی ہے دریائے راوی کے کٹاؤ کی وجہ سے موضع مرادا دلو بھی متاثر ہو چکا ہے مگر آج تک بند تعمیر نہیں کیا جاسکا دیہاتیوں نے احتجاج کرتے ہوئے حکومت وقت سے مطالبہ کیا ہے کہ کسی بہت بڑے نقصان سے بچنے کے لئے دریائے راوی پر موضع نورن سنپال کے مقام پر جلد از جلد بند تعمیر کروایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں