320

8 مارچ خواتین کا عالمی دن اور اس کا تاریخی پس منظر….سوشل میڈیا سے انتخاب.

سوشل میڈیا سے انتخاب

’’8مارچ 1907ء کو امریکہ کے شہر نیو یارک میں لباس سازی کی صنعت سے وابستہ سینکڑوں کارکن خواتین نے مردوں کے مساوی حقوق اور بہتر حالات کار کیلئے زبردست مظاہرہ کیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ دس گھنٹے محنت کے عوض معقول تنخواہیں دی جائیں۔ ان کے اس احتجاج پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ اس واقعہ کے ایک برس بعد 8 مارچ 1908ء کو نیو یارک ہی میں سوئی سازی کی صنعت سے تعلق رکھنے والی خواتین نے ووٹ کے حق اور بچوں کی جبری مشقت کے خاتمے کیلئے مظاہرہ کیا۔ اس مظاہرے پر بھی حکومتی مشینری نے پولیس کے ذریعے تشدد کیا۔ گھڑ سوار پولیس نے سینکڑوں خواتین کو لاٹھیوں سے مار مار کر لہو لہان کردیا۔ خواتین کو بالوں سے پکڑ کر سڑک پر دور تک گھسیٹا گیا۔ نہ صرف یہ بلکہ بہت سی خواتین کو جیلوں میں بند کردیا گیا۔ اس وقت سے لیکر آج تک خواتین اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کررہی ہیں‘‘۔
پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناح خواتین کے حقوق کے بے باک ترجمان تھے۔ 1942ء میں بیگم شاہنواز کی بہن گیتی آراء بشیر نے قائداعظم سے سوال کیا کہ پاکستان قدامت پسند یا ترقی پسند ریاست ہوگا۔ قائداعظم نے جواب دیا ’’خواتین کو بتا دو میں ایک ترقی پسند مسلم لیڈر ہوں میں بلوچستان اور سرحد (خیبر پختونخواہ) جیسے پس ماندہ علاقوں میں مسلم لیگ کے اجلاسوں میں اپنی بہن کو ساتھ لے کر جاتا ہوں۔ انشاء اللہ پاکستان ایک ترقی پسند ملک ہوگا جس کی تعمیر و تشکیل میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی نظر آئیں گی.

خواتین کے حقوق کے سلسلے میں پاکستان کی تاریخ حوصلہ افزاء رہی ہےاور خواتین ہر موقع پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتی رہی ہیں۔ اس کی واضع مثال محترمہ بے نظیر بھٹو ہیں ان کا دور خواتین کے حقوق کا دور تھا۔ بے نظیر نے مخالفانہ تندوتیز ہوائوں کے باوجود پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہوکر ثابت کردیا کہ خواتین اہلیت اور صلاحیت کے حوالے سے مردوں سے کم نہیں ہیں۔ بے نظیر نے خواتین کے حقوق پر خصوصی توجہ دی۔ خواتین کیلئے الگ وزارت قائم کی گئی۔ ویمن بنک اور ویمن پولیس سٹیشن قائم کیے گئے۔ ااس کے بعد ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو قومی اسمبلی کی پہلی خاتون سپیکر بنیں لیکن ان سب سے بڑھ کر عورتوں کو جو حقوق اسلام نے دے ہیں ان کی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی۔

’’یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ معاشرے کے حُسن، وقار اور استحکام کا راز عورت کی پُر خلوص قربانیوں اور لازوال جدوجہد میں پوشیدہ ہے مگر یہ بھی تاریخ عالم کی تلخ حقیقت ہے کہ دنیا کی بیشتر تہذیبوں میں عورت کو وہ مقام اور مرتبہ نہیں دیا گیا جس کی وہ مستحق تھی۔ کبھی اُسے حضرت آدمؑ کو جنت سے نکالنے والی، کبھی فساد کی جڑ، کبھی پائوں کی جوتی اور کبھی بازاروں میں فروخت ہونے والی جنس بے مایہ سمجھا گیا۔ اُسے ہر خطے میں مظلوم، مجبور اور محروم رکھا گیا۔ اُسے کوئی سماجی، سیاسی اور معاشی حقوق میسر نہ تھے۔ ایسے میں زندہ درگور ہونے والی عورت کیلئے محسن نسواں ایک ایسا نظام لیکر آئے جس میں اُسے انسانیت کے شرف سے نوازا گیا۔ اُسے سراُٹھا کر جینے کا سلیقہ سکھایا۔ حضور نبی کریم نے عورت کے بارے میں یہ تصور دیا کہ وہ دنیا کی بہترین متاع ہے اور وہ انسان کے حسن سلوک کی سب سے زیادہ مستحق ہے۔ وہ معاشرے کے استحکام کی ضامن ہے۔ خاندان کی مرکز محبت ہے۔ اُسکی مضبوطی سے معاشرے ترقی کی راہ پر گامزن ہوجاتے ہیں۔ اُم المومنین حضرت خدیجہؓ کی سیرت ہمارے لیے مشعل راہ ہے‘‘۔

اسلام ہی وہ روشن مشعل ہے جس کی کرنوں نے ایک مسلم عورت کو مان، شان ، عزت، عصمت ، عافیت ، تحفظ، تسکین سے جاوداں کر دیا۔ یہاں تک کہ جنت کا مالک بنا دیا۔ مغربی اور مشرقی تہذیب دو الگ الگ چیزیں ہیں لیکن صد افسوس آجکل کی خواتین مغرب کی دلدادہ زیادہ ہیں جن کو دیکھ کر عام گھریلو خواتین نے بھی اپنی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ ورنہ اسلام نے تو عورت کیلئے آسانیاں ہی آسانیاں پیدا کی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں