275

سی پیک کی تکمیل حکومت کے بس کا روگ نہں ہے……. میاں افتخارحسین.

تحریر: میاں افتخار حسین
(جنرل سیکرٹری(اورسیز) عام لوگ پارٹی)

یہ ثابت ہوچکا ہےکہ سی پیک کی تکمیل حکومت کے بس کا روگ نہیں ہے. گذشتہ پچیس برس سے سی پیک کا پروجیکٹ چل رہا ہے. لیکن ہر حکومت اسے اپنا پروجیکٹ تو بتاتی ہے مگر اس مکمل نہیں کرسکتی کیونکہ حکومت میں شامل لوگوں کی اتنی اہلیت ہی نہیں ہے. اگر اس منصوبہ کو بروقت آگے بڑھایا جاتا تو اسوقت تک پاکستان انٹر نیشنل بزنس پاور بن چکا ہوتا. دبئی اور سنگاپور سے بہت ہی زیادہ ترقی کرچکا ہوتا. سی پیک پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے کا بہترین حل تھا. لیکن نااہل وکرپٹ لوگوں نے اس کے اہم پروجیکٹ پاکستان کی بجائے دیگر ممالک میں شروع کرکے ملک سے دشمنی کی ہے. سی پیک بے نظیر کی حکومت میں خفیہ یعنی خاموش طریقہ سے بنانے کیلئے پلان کیا گیا. لیکن بے نظیر نے اسے ملکی دفاع کیلئے خطرناک قرار دے دیا کہ اس منصوبہ کی اہمیت کی وجہ سے پاکستان پر جنگ مسلط کردی جائے گی اور کہا گیا کہ اس سے ایک طرف چائینہ سمیت دیگر ممالک کی پاکستان میں مداخلت بڑھ جائے گی تو دوسری طرف روس اور امریکہ یہاں اپنے مفادات کیلئے پاکستان سے کسی دوسرے ایشو پر جنگ کردیں گے. اس کے بعد یہ منصوبہ نوازشریف کو پیش کیا گیا تو نواز شریف نے اسے معاشی وزن قرار دے دیا اور کہا کہ پاکستان اسکے تعمیری اخراجات کا محتمل نہیں پھر یہ منصوبہ چائینہ کے اشتراک سے چلانے کیلئے پیش کیا گیا تو نواز شریف اینڈ کمپنی نے اسے چائینہ کاتسلط تسلیم کرنے کے مترادف قرار دیا. جس کے بعد نواز شریف ہی کو یہ منصوبہ کم لاگتی بناکر پیش کیا گیا. جس پر نوازشریف نے رضامندی ظاہر کی لیکن اسے بنانے کی بجائے اس کے پروجیکٹ کو الٹا کردیا. جس سے موٹر وے پنجاب سے بنانے شروع ہوئے اور گوادر بندر گاہ کی بجائے وہ بن قاسم پورٹ پر تعمیر ہوئی
جس سے پروجیکٹ دفن ہوگیا جب کہ منصوبہ کے ابتدائی حصے میں گوادر پورٹ کی تعمیر اور گوادر سے نوڈیرو موٹر وے اور شاہراہ قراقرم کو بنانا شامل تھا جس سے نواز شریف کو زیادہ سیاسی فائدہ نہیں تھا اس لیئے نواز شریف نے اپنے سیاسی فوائد کیلئے ملکی فوائد کونظرانداز کرکے موٹر وے پنجاب میں بنوانے شروع کردیئے اور گوادر پروجیکٹ مزید دس سال کی تاخیر کا شکار ہوگیا بلا آخر پرویزمشرف کے دور میں اس پروجیکٹ کی افادیت کا احساس ہوا اور گوادر پروجیک شروع کیاگیا.

مگر اس میں بھی من مانی تبدیلیاں کرکے اسے غیر مفید کر دیاگیا. جس کی وجہ سے یہ منصوبہ عالمی بزنس کمیونٹی کی دلچسپی حاصل نہ کرسکا. گوادر پر نہ ہی انٹرنیشنل معیار کی بندرگاہ بنائی گئی اور نہ ہی ابتدائی انڈسٹریل زون بنا گیا جو پاکستان ہی کے کاروباری گروپ بنا سکتے تھے. اور تو اور اس پروجیکٹ کی جان گوادر سے براستہ چمن مردان وزیرستان چائینہ ریلوے ٹریک کے منصوبے کو یکسر ہی گول کردیا گیا. یہ منصوبہ اتنا اہم تھا اس سے ایران افغانستان وسطی ریاستوں اور روس چین اور جاپان تک جڑ جاتے اور یہ ایسے ڈیزائن اور ٹیکنالوجی سے بن جاتا جس سے نہ صرف تعمیری اخراجات کم ہوتے بلکہ آمدورفت کے اخرجات بھی انتہائی کم ہوتے. اس سے گوادر ایکسپورٹ امپورٹ کا مرکز بن جاتا اور صرف کرایہ اور پورٹ چارجز کی صورت میں ابتدائی طور پر ایک سو ارب ڈالر کمائے جاسکتے تھے اور روس سمیت وسطی ریاستوں اور چائینہ کو بے پناہ فائدہ دے کر اپنے سیاسی سفارتی محاذ پر بہت ساری کامیابیاں حاصل کی جاسکتی تھیں. لیکن چونکہ چناچہ والی روایت اپنائی گئی اور ملکی مفادات پر ذاتی مفادات کو تر جیح دی گئی ماسٹر پلانر کو ڈھول چٹائی گئی
اور فن وٹیکنیک بیج کر بیرونی ممالک میں آف شور بزنس کیئے گئے. اس میں تقریبا تمام سیاسی عسکری عدالتی ہر کاروں نے اپنا حصہ وصول کیا اور ملک کے مستقبل موجودہ حال کو تباہ و برباد کردیا اس تمام تر صورتحال کا نقصان تمام منسلک ممالک کو ہوا اور پاکستان کے لوگ آج تک بیرونی ممالک میں روزگار کیلئے مارے مارے پھرتے ہیں اور پاکستان معاشی پسماندگی کا شکار ہے.

اگر بے نظیر اپنے پہلے دور حکومت میں اس پروجیکٹ کو منظور کرلیتی اور گوادر بندرگاہ پر صرف اسوقت کے ایک ارب اور گوادر نوڈیرو روڈ پر صرف تین ارب خرچ سے، راولپنڈی سے چائینہ کے بارڈر تک روڈ پر چار ارب، گوادر انڈسٹریل زون اور نیو سٹی کیلئے دو ارب خرچ پر پانچ سالہ پروجیک کی منظوری دے دیتی تو پاکستان آج معاشی طور پر پاور بن چکا ہوتا. موجودہ حکومت نے بھی یہی روش برقرار رکھی ہوئی ہے جس کی وجہ سے وہ منصوبہ جو پچیس سال پہلے مکمل ہونا تھا تاحال مکمل نہیں ہوپا رہا.

اسوقت جو صورتحال ہے اس میں گوادر پروجیک میں چین کے علاوہ کسی ملک کو دلچسپی نہیں رہی کیونکہ منصوبے کی بنیاد کو ہی بدل کررکھ دیا گیا ہے اور یہ غیر مفید بن چکا ہے نئے حالات میں گوادر کے نئیے پروجیکٹ پلان کی ضرورت ہے جس میں عرب ممالک اور وسطی ریاستوں اور روس چین کے ساتھ ساتھ جاپان کو بھی شامل کرکے نیا اکنامک ہیڈ بنانے کی ضرورت ہے. اسوقت پرانا ماسٹر پلان غیر مفید ہوچکا ہے کہ وقت اور حالات بدل چکے ہیں اور ضروریات بھی بدل چکی ہیں. اس پر وسیع پیمانے پر نیا ماسٹر پلان اور نئی ترجیحات طے کرنا ضروری ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کی دو دہائیوں نے اس پروجیک کی افادیت کو بہت بری طرح متاثر کیا ہے. مگر بغض وانا کے مارے ابلیس ذہن اشرافیہ کسی صورت اصل نقطہ پر عمل نہیں کریں گے. کیونکہ دشمن تو پاکستان کے اقتدار و اختیار پر حکومت و اپوزیشن میں عدالت و افواج میں بڑے ہی اعلی مقامات پر بیٹھے ہیں. جن کی سوچ کنویں کے مینڈک جیسی ہے جو یہ سوچتے ہیں کہ اس سے جدید اس سے اچھا اس سے بڑا کچھ نہیں. ہم انہیں دعوت فکر دیں تو بھی ان کے پاس فکر کرنے والا دماغ ہی نہیں کیونکہ یہ تو وہ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں جو مل گیا کافی ہے جو نہ ملا وہ تھو کڑوا. کیونکہ انکی عقل صرف ٹھگی دھوکے بازی عیاری مکاری سازش اور تکبر غرور اور حسد وبغض کو ہی اہلیت میرٹ اور صلاحیت قابلیت مانتی ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں