346

” کم ظرف کے ھاتھوں میں”

بائیس سالوں سے ایک ھی شور،میرے سوا باقی سب چور ۔
ایک بار میں اقتدار میں آجاؤں اوپر نیچے سب ٹھیک ھو جائے گا کیونکہ میں نے کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتا ھے ۔ چندوں سے ھسپتال بنایا ھے۔
اور آخر کار خدا خدا کرکے سیلکٹرز نے سیلیکٹ کر ھی لیا۔
آسٹیو جابز نے معاشی نظام کے لیے تو کچھ تیاری کی نہیں تھی کیونکہ اس کے بقول معیشت کسی پیشہ ورانہ مہارت سے نہیں جذبے سے چلائی جاتی ھے۔
آپ بسم اللہ پڑھ کر اچھا سا ترانہ گنگنائیں، یا حب الوطنی کا کوئی گیت گائیں، منی لانڈرنگ اور کرپشن روکیں، باھر سے دو سو ارب ڈالرز لائیں۔ معیشت کو پر لگ جائیں گے۔
ھوا میں اڑتا جائے میرا مال معیشت ٹھا ٹھا کے۔
خزانہ بھر جائے گا۔ مہربانوں کے منہ بند ھو جائیں گے۔
باقی دیہاتی غریبوں کے لئے مرغی، انڈہ اور کٹا ھی کافی ہے۔
لیکن جب کرسی پر بیٹھے تو پتہ چلا کہ دو سو ارب ڈالرز کی کہانی تو حقیقت سے زیادہ رضیہ بٹ کا افسانہ ھے۔
لیکن اب کیا ھوسکتا تھا۔
جو لائے تھے وہ مانگ رھے تھے۔
کرپشن کی حالت یہ تھی کہ نہ شہباز پر کوئی چیز ثابت ہورھی تھی اور نہ جے آئی ٹی کے دس جلدیں نواز شریف کے خلاف کچھ ٹھوس ثبوت مہیا کر سکیں۔
ایسے میں این آر او این آر او کا ورد شروع ھؤا۔
اب آٹھواں مہینہ جاری ھے۔
نہ کوئی این آر او کا سائل آرھا ھے۔
نہ معیشت کے مسائل ختم ھو رھے ھیں۔
نہ چوری کا چورن بک رھا ھے۔
نہ کارکردگی دکھا پا رھے ھیں۔
ایسے میں انسان اپنے ظرف کے مطابق غصہ کبھی اپنے ڈاکٹر پر اور کبھی دوسروں پر اتارتا ھے۔
اور اپنی فطرت اور تربیت کے مطابق دوسروں پر تنقید، ان کی تضحیک اور ان پر دشنام طرازی کرکے اپنی فرسٹریشن کم کرنے کی کوشش کرتا ھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں