214

پاکپتن: اسپیشل بچوں کی ہر طرح سے امداد ، تعلیم وتربیت وصحت کا خیال رکھنا ہماری پہلی ترجیع ہوگی. جاوید بابرCEO ایجوکیشن،امتیاز راناCEOہیلتھ، ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئرافضل بشیر مرزا وحکیم لطف اللہ ودیگر کا عزم.

پاکپتن(عبدالمجید شامی سے) اسپیشل بچوں کی ہر طرح سے امداد ، تعلیم وتربیت وصحت کا خیال رکھنا ہماری پہلی ترجیع ہوگی. جاوید بابرCEO ایجوکیشن،امتیاز راناCEOہیلتھ، ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر ودیگر کا عزم. اسپیشل بچوں کے ساتھ ایک دن کے عنوان سے گذشتہ روز پاکستان سوشل ایسوسی ایشن، ڈسٹرکٹ انٹی ٹی بی ایسوسی ایشن پاکپتن،محکمہ سوشل ویلفئیر ترقی خواتین و بیت المال پاکپتن،ہیلتھ ایجوکیشن اینڈ انوائرمنٹل پروٹیکشن سوسائٹی اور انجمن فلاح مریضان کے زیر اہتمام اسپیشل(معذور) بچوں کے داخلے کی مہم کے سلسلے میں اسپیشل بچوں کے ساتھ ایک دن تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں شہر کی تمام سماجی تنظیمیں۔ سٹیک ہولڈرز۔ تاجر برادری۔ صحافی برادری نے شرکت کی۔ تقریب میں اسپیشل بچوں نے ملی نغمے اور ٹیبلو سے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے حاضرین سے خوب داد وصول کی۔ تقریب کے اس موقع پر جاوید اقبال بابر CEO ایجوکیشن نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسپیشل بچوں کے والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو لازمی سکول میں داخل کرائیں تا کہ وہ اس معاشرے کا کامیاب فرد بن سکیں اور ان کی احساس محرومی ختم ہو سکے۔ خدمت خلق سمجتھے ہوئے ہر شہری کو چاہئے کہ وہ اپنے اردگرد ایسا اسپیشل بچہ دیکھیں جس کو والدین سکول نہیں بھیج رہے وہ ان والدین کو سمجھا ئے یا ہمیں اطلاع دے۔ اسپیشل بچوں کی تعلیم میں آنے والی تمام رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا اور ان کی سپورٹس اور فن کی ترقی کیلئے بھی خصوصی اقدامات کئے جائیں گے تاکہ یہ بچے جب یہاں سے تعلیم لے کر نکلیں تو کسی کے محتاج نہ ہوں اور ان میں احساس محرومی نہ ہو. ڈاکٹر رانا امتیاز احمد CEO ہیلتھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان بچوں کو محکمہ ہیلتھ کی تمام تر سہولیات بروے کار لاتے ہوئے فراہم کی جائیں گی اور اسپیشل بچوں کو ڈس ایبل سرٹیفکیٹ میں آنے والی تمام مشکلوں کو کم سے کم کر کے فوری جاری کئے جائیں گے۔ ان کے لیے اسپیشل ہیلتھ کے پیکج بنائیں گے۔ ان کے لئے ڈسپنسری بنائیں گے اور ڈاکٹرز اور نیوٹریشن اور تھراپسٹ ہائیر کریں گے جو ان کے ریگولر طبّی معائنہ اور انکی گروتھ اور صحت کا خاص خیال کریں گے۔ حکیم لطف اللہ سیکرٹری جنرل پاکستان سوشل ایسوسی ایشن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسپیشل بچے ھمارے ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ اگر والدین ان کو احساس محرومی سے نکال کر تعلیمی زیور سے آراستہ کریں تو یہی بچے ملک و قوم کی ترقی میں اپنا اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمام سماجی تنظیمیں اور یہ لوگ اپنا کردار ادا کرتے ہوئے واک۔ ریلی نکال کر۔ پمفلٹ تقسیم کرکے۔ لوگوں سے ملکر۔ کمیونٹی کے ذریعے سے۔ میڈیا میں تشھیر اور ہر اس طریقہ کو استعمال میں لایا جائے جس سے اسپیشل(معذور) بچوں کے والدین انکو سکول میں لازمی داخل کریں۔ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفئیر نے اپنے خطاب میں کہا اسپیشل بچے ناکارہ بچے نہیں بلکہ یہ بھی قوم کا قیمتی سرمایہ اور کارآمد بچے ہیں۔ تمام سماجی تنظیمیں اور ہم سب لوگ ملکر ایسے تمام بچوں کو ڈھونڈ کر جن کے والدین انھیں سکول داخل نہیں کرواتے انھیں تعلیم کے زیور سے آراستہ کر کے معاشرے کا حصہ بنائیں گے۔ پاکپتن میں ہر قسم کے اسپیشل بچوں کے لئے گورنمنٹ کے تین ادارے موجود ہیں۔ جو ایسے بچوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کا کام کرتے ہیں۔ حکومت پنجاب نے باقی سکولوں کی نسبت اسپیشل سکول کا بجٹ زیادہ رکھا ہے تا کہ جس میں اسپیشل بچوں کو تمام سہولیات فری فراہم کی جا سکیں جن میں یونیفارم۔ جوتے جرسی کتابیں اور جن بچوں کی حاضری %70 سے زیادہ ہوتی ہے ان کی حوصلہ افزائی کے لئے ان کو ماہانہ وظیفہ بھی دیا جاتا ہے۔ بچوں کے لئے ماہر نفسیات کی سہولت بھی موجود ہے ان کے لئے کھیل کا سامان بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ بچوں کی پک اینڈ ڈراپ کی سہولت دی جاتی ہے اور جو بچے دور دراز علاقوں سے آتے ہیں ان کے لئے ہاسٹل کی سہولت بھی موجود ہے جس کے ساتھ انہیں اچھا کھانا اور بستر صاف ستھرے مہیا کئے جاتے ہیں۔ وقار فرید جگنو صدر پریس کلب۔ حاجی عبدلواحد سماجی شخصیت اور ڈاکٹر عبدالکریم پرنسپل اسپیشل سکول اور میڈم مبشرہ ہیڈ مسٹرس اسپیشل سکول نے بھی اپنے خیالات کااظہار کیا۔ علاوہ ازیں ڈاکٹر جمیل الرحمان صدر ڈسٹرکٹ انٹی ٹی بی ایسوسی ایشن پاکپتن۔ سردار حافظ محمد ادریس ڈوگر ایڈووکیٹ۔ حاجی اشرف زرگر۔ شاہ مقیم بخاری۔ رخسانہ منظور بھٹی ضلعی صدر PTI خواتین ونگ پاکپتن۔عبدالقیوم نعیمی1122۔ پیر امداد چیئرمین پریس کلب۔ فریدالدین چشتی۔ حکیم عبدالمجید شامیپاکستان طبّی کانفرنس۔ ملک فاروق ایڈووکیٹ۔ مہرالنساء ایڈووکیٹ۔ شاہد مرتضیٰ چشتی جنرل سیکرٹری انجمن فلاح مریضان۔ علی حسنین معسود مرکزی صدر میک پاکستان گرین۔ افتخار بھٹی۔ راؤ اسلام شریفی۔ طاہر فرید۔ وارث شاہ۔ ارسلان شانی کے علاوہ سماجی تنظیموں کے ممبران شہریوں نے شرکت کی اور بھرپور تعاون کا یقین دلایا تقریب میں اساتذہ و اسپیشل بچوں(طلبہ و طالبات) کی کثیر تعداد نے بھی شرکت کی۔ سیمینار کے بعد تمام آعلیٰ افسران۔ سٹیک ہولڈر۔ سماجی تنظیموں کے ممبران صحافیوں نے بچوں کے ساتھ ملکر کھانا کھایا اور کلین اینڈ گرین کی مہم کو جاری رکھتے ہوئے بچوں کے نام کے پودے لگائے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں