320

نوبل پرائزکا حقیقی حقدار کون ؟……صابر بخاری.

تحریر: صابر بخاری

2008ء میں جب پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو لاہور اس وقت آئے روز دھماکوں سے گونجتا رہتا تھا، شروع شروع میں تو ہم خوفزدہ رہتے اور گھر والے بھی شدید پریشانی کا شکارتھے کہ خدانخواستہ کوئی خونی حادثہ نہ ہوجائے۔ ایک دن ہم پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹل میں موجود تھے کہ رات تقریباً آٹھ بجے ایک زوردار دھماکہ کی آواز کانوں کو چیرتی ہوئی گزر گئی۔ دل سے یا اللہ خیر کی صدا نکلی اور ساتھ یہ بھی گمان ہوا کہ یقینا اس قدر خوفناک دھماکہ سے کئی گھروں کے چراغ گل ہوگئے ہونگے۔ چندلمحوں میں جو خبر موصول ہوئی اس نے رونگٹے کھڑے کر دیے۔ مون مارکیٹ علامہ اقبال ٹاؤن میں ہونے والے شدید نوعیت کے دھماکے نے سو سے زیادہ پاکستانیوں کو ابدی نیند سلا دیا اور سینکڑوں معذور ہوئے۔ موقع پر جا کر جو مناظر دیکھے وہ لکھتے ہاتھ ساکن اور زبان گنگ رہی ہے۔

ایف آئی اے لاہور کی عمارت میں ہونے والے خود کش دھماکے نے گویا لاہوریوں کے دلوں کو مرجھا دیا۔میں ایک دن قبل ہی عین اس جگہ ایک کام کے سلسلے میں گیا تھا اور اگلے روز یہی جگہ قیامت کا منظر پیش کر رہی تھی۔

ایک صبح پنجاب یونیورسٹی ہاسٹل نمبر 18 میں گہری نیند میں سو رہا تھا کہ زوردار دھماکے نے نیند اڑا دی۔ چیختے چلاتے ہم کمرے سے باہر صحن میں پہنچے تو وہاں ہاسٹل میں رہائش پذیر درجنوں طلبہ پہلے سے ہی موجود تھے جن کے چہروں سے خوف چھلک رہا تھا۔ ماڈل ٹاؤ ن میں ہونے والے اس خود کش دھماکے کو مہینوں گزر جانے کے بعد بھی نیند میں اس دھماکے کی آواز کانوں میں گونجتی سنائی دیتیں اور میں خوف اور پسینے سے لت پت ہوکر اٹھ بیٹھتا۔ اس کے بعدجمعہ کے روز ایک خود کش حملے میں ممتاز سکالر سرفراز نعیمی اور انکے درجنوں ساتھی شہید ہوگئے ،اس واقعہ نے بھی لاہوریوں کے دلوں کو مزید پژ مردہ کردیا جیسے کسی نے زندہ دلوں کے شہر کو نظر لگا دی ہو۔

پنجاب یونیورسٹی میں طالبعلمی کا دور ہی تھا کہ جب لاہور میں سری لنکن ٹیم پر حملہ کیا گیا۔ مجھے یاد ہے کہ اسلامک سنٹر ہاسٹل پنجاب یونیورسٹی سے ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ جاتے ہوئے راستے میں کسی نے بتایا کہ قذافی سٹیڈیم کے پاس سری لنکن ٹیم پر حملہ ہوگیا ہے، اس دن شاید کلاسز بھی نہیں ہوئی تھیں۔ طبیعت بوجھل اور افسوس اس بات کا تھا کہ اب ہمارے کھیل کے میدانوں کو بھی دہشت گردوں نے ویران کرنا شروع کردیا ہے۔ اس وہم کو حقیقت کا روپ دھارے اب برسوں گزر چکے ہیں مگر اب یہ میدان الحمدللہ آباد ہیں۔

کچھ عرصہ بعد ہی آر اے بازارمیں حملہ ہوا اور پھرخفیہ ایجنسی کے گیٹ پر حملہ اس سے بھی لرزہ خیز تھا۔داتا دربار حملہ نے تو گویاخون کے آنسو رلا دیے۔گلشن اقبال پارک لاہور میں ہونے والے خود کش حملہ میں سینکڑوں بے گناہوں کا خون ہوا۔ مردہ خانے میں رپورٹنگ کیلئے پہنچا تو دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔ جدا ہونے والے پیاروں کی دھاڑیں اور لاشوں سے لپٹ کر کرتے بین اندر سے کرچی کرچی کر جاتے۔

یہاں لاہور میں رونما ہونے والے چند واقعات کو بیان کیا گیا ہے(ملک کے طول و ارض میں تقریباً ایسے ہی خونی واقعات رونما ہو رہے تھے ) جن کا راقم عینی شاہد ہے، حقیقت یہ ہے کہ کوئی ہی دن جاتا تھا کہ لاہور میں کوئی خونی حادثہ نہ ہوتا ہو اور لاہور میں رہتے ہوئے جب آس پاس ہی یہ واقعات ہوتے تھے اور اکثر کی رپورٹنگ کیلئے بھی جاتے تو آنسو ؤں کی بہتی لڑیوں کیساتھ دل سے دعا نکلتی کہ یا اللہ پاکستان کو امن کا گہوارا بنا دے۔

پھر اللہ نے ہماری مدد کی اور ملک سے دہشت گردی کا عفریت آہستہ آہستہ ختم ہونے لگا۔ آج ہم یہ سنتے ہوئے مسرور ہوتے ہیں کہ پاکستان میں امن لوٹ آیا ہے یا لوٹ رہا ہے مگر کیا ہم اس بات کا بھی ادراک رکھتے ہیں کہ ملک میں امن و امان کا حصول کس طرح ممکن ہوا اوراس کے پیچھے کتنی قربانیاں شامل ہیں؟ جی ہاں! آج جو امن لوٹ رہا ہے اس میں ہمارے سکیورٹی اداروں اور عوام کی بے پناہ قربانیاں شامل ہیں۔ سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف اور موجودہ سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کی انتھک محنتوں اور کمٹمنٹ کی بدولت دہشت گردی کی لعنت کا خاتمہ ممکن ہوا۔ نہ صرف دہشتگردوں کیلئے زمین تنگ کردی گئی بلکہ دوسرے ملک دشمن عناصر کے گرد بھی گھیرا تنگ کر دیا گیا۔ انہی کاوشوں کی بدولت ہی کراچی کی روشنیاں لوٹ آئیں اور ایک نام نہاد سیاسی رہنما ملک دشمن ایجنٹ کی بربریت کا خاتمہ کردیا گیا۔ اسی طرح بلوچستان میں ملک اور انسانیت کے دشمنوں کو قومی دھارے میں شامل کرایا گیا یا انہیں پاک دھرتی سے نکلنے پر مجبور کر دیا گیا۔ شمالی وزیرستان جو دہشت گردوں کیلئے محفوظ پناہ گاہ تھا، آپریشن کے ذریعے وہاں آج امن لوٹ چکا ہے۔ خیبر پختوانخواہ جو دہشت گردی کیخلاف جنگ میں سب سے زیادہ متاثر ہوا، آج امن کے گیت گائے جا رہے ہیں۔ مجموعی طور پر پورا ملک امن کا گہوارا بن رہا ہے، جہاں میلے ٹھیلے اور فاختائیں امن کے گیت گا رہی ہیں۔ اس امن کے قیام میں پاک فوج، دوسرے سکیورٹی اداروں اور عوام کی بیش بہا قیمتی قربانیاں شامل ہیں۔

آج کل عمران خان کیلئے نوبل پرائز انعام کے حوالے سے بحث سرگرمی سے جاری اور اس کیلئے ایک قرارا داد بھی قومی اسمبلی میں جمع کرائی گئی ہے۔ اس میں تو شبہ نہیں کہ عمران خان نے اپنی ذہانت اور متانت سے بھارتی وزیر اعظم مودی کے انسان دشمن عزائم خاک میں ملاتے ہوئے خطہ کے کروڑوں لوگوں کو محفوظ بنایا ہے مگر اس سے بڑھ کر انعام کی حقدار پاک فوج، دوسرے سکیورٹی ادارےاور عوام ہیں جنہوں نے امن کیلئے برسوں صرف کیے اور بیش بہا قربانیاں دیں، اس لیے نوبل پرائز کی حقیقی حقدار پوری پاکستانی قوم ہے۔ کیا نوبل انعام جیوری اس بار امن پرائز پاکستانی قوم کو دے گی؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں