303

اپریل فول سے بائیکاٹ ……(تسلیم شیخ)

تحریر :تسلیم شیخ، ساہیوال

ماہ اپریل april انگریزی سال کا چوتھا مہینہ ہے۔ اس کے تیس دن ہوتے ہیں. یہ لفظ قدیم رومی کیلنڈر لاطینی لفظ اپریلیس سے ماخوذ ہے۔ یہ لفظ موسم بہار کی آمد کا پتا دیتا ہے۔ لیکن اکثر لوگ ماہ اپریل کی ابتدائی تاریخوں میں لوگ مذاقاً جھوٹ کے ذریعے دوسروں کو بیوقوف بنا کر لطف اندوز ہوتے ہیں اور اس احمقانہ فعل کو “اپریل فول” کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ کاروائی خصوصی طور پر یکم اپریل کو کی جاتی ہے۔ اور لوگ جھوٹ اس قدر صفائی سے بولتے ہیں کہ سننے والا سچ سمجھ لیتے ہیں اور پھر جو انجام نکلتا ہے۔ وہ دل کو دہلا کر رکھ دیتا ہے۔ ہم مسلمان مغرب کی کی تقلید میں اس قدر اندھے ہو چکے ہیں اور دینِ اسلام سے اس قدر دور ہو چکے ہیں کہ ہم پر لفظ مسلمان کا اطلاق بھی مشکوک نظر آنے لگا ہے۔ پچھلے کئی سالوں میں اپریل فول منانے والوں کے ساتھ بہت بُرے واقعات بھی پیش آئیں ہیں. بعض لوگ اپریل فول کے پیشِ نظر اپنی بیوی کو مذاق میں طلاق دے بیٹھے ہیں۔ اور جب وہ بیچاری پریشان سی ہو کر اپنا قصور پوچھتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ “اپریل فول” ۔ اس عقل کے اندھے کو نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا یہ فرمان بھی یاد نہیں کہ

“تین چیزیں ایسی ہیں جو ارادہ سے کی جائیں یا مذاق سے، یہ ہر صورت میں واقع ہوجاتی ہیں.. ١۔ نکاح، ٢..طلاق،. ٣.. رجوع

بعض لوگ اپریل فول کی وجہ سے لڑائیوں میں بھی پڑ جاتے ہیں.. اور ایک دوسرے کے جانی دشمن بن جاتے ہیں۔ اسلام میں جھوٹ کی سخت ممانعت کی گئی ہے۔ مزاح کرنے سے. منع نہیں کیا۔ لیکن یہودیوں کے غیر اسلامی تہوار منانے میں سخت منع فرمایا گیا ہے۔ مزاح کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے کہ اس سے کسی کی دل آزاری نا ہو اور یہ مزاح صریحاً غلط بیانی اور جھوٹ پر مبنی نہ کو۔

انگریز لوگ اپریل کے پہلے دن کو All Fool Day یعنی احمقوں اور پاگلون کا دن کہتے ہیں۔ اس لئے وہ اس دن ایسے ایسے جھوٹ بولتے ہیں کہ جنہیں سننے والا سچ سمجھتا ہے اور پھر وہ اس سے استہزاء کرتے ہیں ۔

سب سے پہلے “اپریل فول” کا ذکر “ڈریک نیوز لیٹر” میں ملتا ہے۔ اخبار مذکور ٢ اپریل ١٦٩٨ء کی اشاعت میں لکھتا ہے کہ کچھ لوگوں نے یکم اپریل کو لندن ٹاور میں شیروں کے غسل کا عملی مشاہدہ کرانے کا اعلان کیا ۔ لوگ آئیں۔ لیکن سب جھوٹ تھا۔ بیوقوف بنایا گیا۔ پھر ایک اور واقعہ مشہور ہے جو یکم اپریل کو یورپ میں پیش آیا۔ ایک انگریزی اخبار ایفنج سٹار نے 31 مارچ ١٨٤٦ء کو اعلان کیا کہ کل یکم مارچ کو اسلنجتون (شہر کا نام) کے زراعتی فارم میں گدھوں کی عام نمائش اور میلہ ہوگا۔ لوگ انتہائی شوق سے لپک کر آئیں۔ جمع ہوئے اور نمائش کا انتظار کرنے لگے۔ جب وہ انتظار میں تھک چور گئے تو انہوں نے پوچھنا شروع کیا کہ میلہ کب شروع ہوگا؟؟ مگر انہیں کوئی خاطر خواہ جواب نہ ملا ۔ آجر کار انہیں بتایا گیا کہ جو لوگ نمائش دیکھنے میلے میں آئے ہیں.. وہ خود ہی گدھے ہیں۔ اور انہیں اپریل فول بنایا گیا ہے۔

جھوٹ ایک کبیر گناہ اور انتہائی بُرا عیب ہے۔ اس لئے یہ بڑی بری بیماری ہے۔ اسے منافقت کج علامت اور نشانی قرار دیا گیا ہے۔ اور یہ چونکہ ایمان کے منافی بھی ہے اس لئے اسے ایمان میں بہت بڑا عیب قراد دیا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جھوٹ بولنا انتہائی بُری عادت کہا ہے۔ جھوٹ بے سکونی کو جنم دیتی ہے۔

ہمیں اپریل فول سے بائیکاٹ کرنی چاہیے اور ہماری حکومت کو چاہیے کہ اس پر پابندی لگائے ۔ اس دن کو منانے کی وجہ سے بہت گھر اجڑے ہیں۔ اور کتنے ہی بچے یتیم ہوئیں ہیں۔ اس دن کو منانے والا کوئی بھی مسلم نہیں۔ کیونکہ مسلمان جھوٹ نہیں بولتے۔ سچ بولتے ہیں۔ جھوٹ صرف وہاں بولنا چاہیے جہاں کسی کی جان جانے کا خطرہ ہو۔ اسے بچانے کے لیے جھوٹ بولا جاسکتا ہے۔ کیونکہ کسی ایک کی بھی زندگی کی بہت قدر ہے اسلام میں.

اللہ تعالیٰ ہمیں یہودیوں کی تقلید کرنے سے بچائے اور اسلام کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ثم آمین!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں