313

انسان اشرف المخلوقات ہے۔….(حکیم ممتاز بلال مدنی)

تحریر: حکیم ممتاز ہلال مدنی.

انسان کے دل میں جو بات ہوگی گویا اس کی جو نیت ہوگی وہی اسے ملے گا

اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ دنیا کی تمام مخلوقات سے بڑھ کر، بلکہ اسے تو دنیا میں اﷲ کا نائب اور خلیفہ کہا گیا ہے۔ انسان کو دنیا کی دیگر تمام مخلوقات پر یہ فضیلت اور یہ برتری حاصل ہے کہ وہ نیکی اور بدی، اچھائی اور برائی اور خیر و شر میں تمیز کرسکتا ہے، ان کے درمیان موجود فرق کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے، جب کہ دوسری مخلوقات جن میں تمام حیوانات، درندے، پرندے اور حشرات الارض شامل ہیں، وہ سب اس صلاحیت سے محروم ہیں۔ انسان ان مخلوقات کو اپنے قابو میں کرسکتا ہے، انہیں اپنا مطیع اور غلام بناسکتا ہے۔ یہ تمام مخلوقات اس کے حکم پر چل سکتی ہیں، لیکن یہ مخلوقات اشرف المخلوقات کو اپنے قابو میں نہیں کرسکتیں۔

جب یہ معلوم ہوگیا کہ دنیا میں آنے والے ہر انسان کو عقل و خرد سے نوازا گیا ہے اور خالق کائنات نے اس میں یہ صلاحیت رکھ دی کہ وہ خیر و شر اور نیکی و بدی میں تمیز کرسکے اور اسی کے بتائے ہوئے سیدھے اور سچے راستے پر چل سکے تو پھر انسان کا فرض ہوجاتا ہے کہ وہ اسی راستے کو اختیار کرے جسے اختیار کرنے کا حکم ملا ہے اور اس راستے سے بچے جس سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اس کے بعد کوئی مشکل، کوئی پریشانی باقی نہیں رہتی اور سب کچھ حکم ربی کے تحت ہوتا رہتا ہے۔

انسان اگر اپنے پالنے والے کی فرماں برداری کرتا رہے تو اس کے لیے سراسر کامیابی ہے، ناکامی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ کوئی انسان نیکیوں پر نیکیاں کرتا رہے اور فرماں برداری کا مظاہرہ کرتا رہے، لیکن جب صلے کا وقت آئے تو اس کی نیکیاں کسی اور کے کھاتے میں ڈال دی جائیں یا کسی اور کے گناہ اس کے حصے میں آجائیں۔ ایسا ہر گز نہیں ہوگا۔ ہر انسان جو کچھ کرے گا، جیسا عمل کرے گا، جس نیت سے کرے گا، ویسا ہی اسے پھل یا اجر بھی ملے گا۔

قرآن حکیم فرقان مجید میں ارشاد ہوتا ہے:’’یہ کہ کوئی شخص دوسرے (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔ اور یہ کہ اس کی کوشش دیکھی جائے گی، پھر اس کو اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔‘‘

(سورۃ النجم آیات 38تا41)

اس آیۂ مبارکہ میں بالکل واضح طور پر یہ بتادیا گیا ہے کہ ’’یہ کہ کوئی شخص دوسرے (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا‘‘ یعنی جس فرد نے جو اور جس طرح کا کام کیا ہے، چاہے وہ اچھا ہو یا برا، ہر کام کرنے والے کو اس کے اس عمل کی یا تو جزا ملے گی یا سزا ملے گی۔ اگر اس کا کام اچھا اور اﷲ کی نظر میں پسندیدہ ہوگا تو وہ یقینی طور پر اپنے رب کی رحمت اور فضل سے انعام پائے گا۔ لیکن اگر اس کا کام برا اور اﷲ رب العزت کی نظر میں ناپسندیدہ ہوگا تو اسے اس کی سزا سے کوئی نہیں بچاسکے گا۔

ایسا نہیں ہے کہ کسی فرد کو کسی دوسرے فرد کے گناہ، غلطی یا لغزش کی سزا بھگتنی پڑے یا کسی کے جرم کا عذاب کسی بے قصور کے ذمے لگادیا جائے۔ اسے کسی ایسے جرم کی سزا دے دی جائے جو اس نے کیا ہی نہیں۔ رب العالمین کے ہاں ایسا بالکل نہیں ہے۔ وہ تو منصف اعلیٰ ہے، اپنے تمام بندوں کے جرم اور غلطیاں اس کے علم میں ہیں۔ وہ جانتا ہے کہ کس نے کیا کیا ہے اور کس نیت سے کیا ہے۔ وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ گویا اﷲ پوشیدہ احوال یا پوشیدہ نیتوں سے بھی واقف ہے۔ اسی سورت میں آگے بڑھتے ہیں تو مزید ارشاد ہوتا ہے کہ ’’اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے‘‘ دیکھیے پروردگار عالم کس قدر واضح انداز میں بیان فرمارہا ہے کہ ہر انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کے لیے وہ کوشش، محنت یا جستجو کرتا ہے۔

مثال کے طور پر کوئی انسان کوئی مثبت راہ اختیار کرتے ہوئے کوئی اچھا اور تعمیری کام کرنا چاہتا ہے تو وہ اپنی اس خواہش کے حصول میں یقینی طور پر کامیاب ہوگا۔ لیکن اگر کوئی منفی سمت میں سوچتا ہے اور تعمیر کے بجائے تخریب کی طرف چلا جاتا ہے ، دوسرے لفظوں میں وہ ہدایت ربانی کو پس پشت ڈال کر شیطان کی راہ اختیار کرتا ہے تو ظاہری بات ہے کہ وہ اسی طرف بڑھتا چلا جائے گا جس کا نتیجہ ناکامی اور رسوائی کی صورت میں سامنے آئے گا۔ یہاں کوشش سے مراد نیت ہے۔ گویا فرمایا جارہا ہے کہ انسان کی اپنی کوشش، اس کی نیت یا ارادے کے تابع ہے اور جیسا اور جس طرح کا وہ ارادہ کرے گا، جیسی کوشش یا جستجو کرے گا ویسی ہی کامیابی اسے ملے گی۔ برا ارادہ برے نتیجے کی طرف لے جاتا ہے اور اچھا ارادہ اچھی منزل سے ہمکنار کرتا ہے۔

مزید ارشاد ہوتا ہے کہ ’’اور یہ کہ اس کی کوشش دیکھی جائے گی‘‘ یہاں جو کوشش کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، اس سے مراد نیت ہے۔ انسان کے دل میں جو بات ہوگی گویا اس کی جو نیت ہوگی وہی اسے ملے گا۔ پروردگار عالم اپنے بندے کی سزا یا جزا کا فیصلہ کرتے وقت یہ بھی دیکھے گا کہ اس کے مذکورہ بندے نے کیا کوشش کی تھی، کس طرح کی تھی اور یہ کہ اس کے دل میں کیا تھا۔ آیا اس کوشش کے پیچھے اس کا اپنا ارادہ تھا یا وہ کسی اور کے کہنے یا ترغیب دلانے سے اس طرف مائل ہوا تھا۔ اس نے اگر اچھی کوشش کی تھی اور اچھی نیت اور ارادے کا اظہار کیا تھا تو یہ بھی رب العالمین کے علم میں ہوگا اور اگر اس کی نیت میں خرابی تھی اور دل میں برائی تھی تو اس کی یہ کیفیت بھی پروردگار عالم سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ چناں چہ یہ انسان کے اپنے ارادے، اپنی کوششیں اور اپنی نیتیں ہی ہوں گی جو اسے کسی اچھے یا برے نتیجے کی طرف لے جائیں گی۔

معلوم ہوا کہ اپنی جنت اور دوزخ کا ذمہ دار انسان خود ہوگا۔ وہ چاہے تو نیک کام کرے، اپنے رب کی ہر لمحہ فرماں برداری کرے اور خود کو جنت کا حق دار بنالے اور چاہے تو برے کام کرے، ہر لمحہ اپنے رب کی نافرمانی کرتا رہے اور خود کو جہنم کا حق دار بنالے۔

اسی سورۂ مبارکہ میں آگے چل کر ارشاد ہورہا ہے کہ ’’پھر اس کو اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا‘‘ یہاں خالق کائنات فیصلہ سنا رہا ہے کہ وہ انسان کی کوشش دیکھے گا، اس کا رجحان دیکھے گا، اس کی نیت دیکھے گا اور پھر اسے اس کے ہر عمل کا پور پورا بدلا دیا جائے گا۔

اور اب ہم اس سورت کی اگلی آیت کی طرف جاتے ہیں جہاں سابقہ متذکرہ مفہوم کا نتیجہ نکالا گیا ہے اور اس کا ماحصل بتایا گیا ہے۔ ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ ’’پھر اس کو اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا‘‘ دیکھیے کہ رب العالمین نے بالکل واضح کردیا اور بتادیا کہ انسان جو بھی اور جس طرح کی کوشش کرے گا، جو اور جیسی محنت کرے گا چاہے وہ جس نوعیت کی بھی ہو چاہے وہ کسی درجے کی ہو، یہ کوشش بار آور ہوگی اور انسان کو اس کی محنت کا انعام یا بدلا عطا کردیا جائے گا۔ اسے اس کی محنت کا صلہ مل جائے گا۔ یہاں قابل توجہ نکتہ وہی ہے جس کا اس سے پہلے بھی تذکرہ کیا جاچکا ہے۔

وہ یہ کہ اب یہ انسان کی نیت، اس کی کوشش، اس کی جستجو اور اس کے ارادے پر منحصر ہے کہ وہ کیا کرتا ہے۔ کس جذبے کے تحت کرتا ہے، مثبت راہ اختیار کرتا ہے یا منفی راہ کی طرف جاتا ہے، تعمیری کام پر توجہ دیتا ہے یا تخریبی سرگرمیوں کی طرف راغب ہوتا ہے، جیسی اس کی نیت ہوگی، جیسا جذبہ اس کے دل میں ہوگا، ویسا ہی اسے صلہ اسے بارگاہ الٰہی سے عطا کردیا جائے گا۔ اچھے کام کا اچھا صلہ اور برے کام کا برا بدلہ، یہ اﷲ رب العزت کا وعدہ ہے۔ اور ہم سب کا ایمان ہے کہ ’’بے شک! وہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔‘‘

اہل ایمان کا اس آیۂ کریمہ پر پختہ ایمان ہونا چاہیے اور ہم ہیشہ اچھے کام کرنے چاہییں، ایسے کام جن کے بدلے اﷲ تعالیٰ کی رضا اور خوش نودی بھی حاصل ہوسکے اور ان کاموں کا عمدہ بدلا بھی مل سکے۔ اﷲ تعالیٰ سے ہم ہیشہ یہ دعا کرنی چاہیے:’’اے ہمارے رب! ہم ہیں ہم ہیشہ اپنا فرماں بردار بنا اور صرف وہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما جن کے کرنے سے تو خوش ہوتا ہے اور ہر اس کام کے کرنے سے بچا جس سے تیری ناراضی کا اندیشہ ہو۔‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں