269

ساہیوال: “جندڑئیے.. تن دیساں تیرا تانا” ڈاکٹر منظور اعجاز کی آپ بیتی کتاب پر مکالمہ.

ساہیوال ( )ساہیوال آرٹس کونسل کے زیر اہتمام عالمی شہرت یافتہ پروفیسرڈاکٹر منظور اعجاز کی آپ بیتی ’’جندڑئیے: تن دیساں تیرا تانا‘‘کتاب پر مکالمہ ہوا۔یونیورسٹی آف ساہیوال کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر افضل نے بطور مہمانِ خصوصی اور مہمانانِ اعزاز میں انگلستان سے آئے ہوئے معروف شاعرمظہر ترمذی ، معروف فلسفی ڈاکٹر محمد امین اور ڈاکٹر سعادت سعید نے شرکت کی۔مصنف کا تعلق ساہیوال کے گاؤں 60 برج والہ سے ہے جو بعد ازاں امریکہ میں ہارورڈ یونیورسٹی میں بطور اسکالر اور پروفیسر کام کرتے رہے۔ان کے کالم مختلف انگریزی اور اردو اخبارا ت میں چھپتے ہیں۔انہوں نے اپنی پنجابی کتاب میں نہ صرف اپنی ذات بلکہ پنجاب اور امریکہ کی معاشرت اور ثقافت کا ذکر ادیبانہ انداز میں کیا ۔یاد رہے کہ اس موقع پر منظور اعجاز اپنے بچپن ،لڑکپن اور جوانی کے دوستوں سے پرانی یادیں تازہ کرتے رہے اور سبھی احباب ایک طویل مدت کے بعد آپسی ملاقات سے بہت خوش تھے۔یوں یہ تقریب مکالمہ کے ساتھ ساتھ بچھڑے یاروں کے ملن کا بہانہ بن گئی۔ڈائریکٹر ساہیوال آرٹس کونسل ڈاکٹر ریاض ہمدانی نے کہاکہ پروفیسر منظور اعجاز نہ صرف اپنی فکر اور تحریروں کی وجہ سے خاص شہرت رکھتے ہیں بلکہ انہوں نے اپنی معذوری کو چیلنج کرتے ہوئے اپنی علمیت اور ہمت سے دنیا کو بتایا کہ مصمم ارادے انسان کی کامیابیوں کو نکھارنے اور ابھارنے کاوسیلہ بن جاتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ان کی فکر میں تحرک اور فعالیت کا درس ملتا ہے ۔وہ مسلسل محنت کے قائل ہیں اور عام آدمی کی زندگی اور معاشرے کی بہتری کے لیے ہر دم سر گرمِ عمل رہتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مکالمہ صحت مند معاشرے کی علامت ہے جو اختلافات کو سننے اور برداشت کرنے کا تربیتی عمل ہے ۔اسی بنیادپرساہیوال آرٹس کونسل مکالمہ جیسی مثبت سرگرمیوں کو فروغ دے رہی ہے۔ مصنف کی پذیرائی کے لیے پاکپتن ،اوکاڑا اور ساہیوال کی مختلف ادبی و ثقافتی تنظیموں اور زکریا خان نے خصوصی کردار اداکیا ۔ ان سماجی و ادبی حلقوں نے بھرپور دلچسپی کے ساتھ اس مکالمہ میں شرکت کی اور مصنف کی زندگی ،محنت ،تحریروں اور فکر پر بھرپور تبصرہ کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں