281

بھارتی ہوا باز کی رہائی کا فیصلہ……(صابربخاری)

صابر بخاری

جنگیں ہمیشہ فہم و فراست ،تدبر کا استعمال کرتے ہوئے جوش سے لڑی جاتی ہیں ۔بھارت جو میچورنس کے حوالے سے دنیا میں جانا تھا آجکل ہماری دانش اور فہم و فراست کے مقابلے میں بونا ثابت ہو رہا ہے ۔ہر محاذ پر اسے منہ کی کھانی پڑ رہی ہے ۔مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ جب ہماری فوج اور اداروں نے کبھی ہمارا سر نیچے نہیں ہونے دیا اور ہمیشہ سر بلند رکھا ،پھر ان کے فیصلوں پرہم کیوں چوں چراں کرنے لگتے ہیں؟ ۔یہ با ت بھی درست ہے کہ ہم ملی جذبہ اور حب الوطنی سے سرشار ہیں اور اس طرح کا رویہ فطرتی عمل ہے مگر کوشش کریں ان حالات میں اپنے جذبات پر قابو پائیں اور دامے درمے سخنے پاک فوج اور اداروں کا ساتھ دیں ۔بھارتی پائیلٹ کا ہم نے اچار ڈالنا تھا ؟یا تو ہمارا جنگ کا ارادہ ہوتا ،جب ہمارا کچھ ارادہ ہی نہیں ،ہماری پہلی ترجیح جب امن ہے تو پھر پائیلٹ کودینے میں کیا حرج ؟بھارتی پائیلٹ جب تک ہمارے پاس رہتا ماحول کشیدہ رہتا ۔بھارتی پائیلٹ کی واپسی سے جو میچور اور مثبت امیج بھارت سمیت دنیا میں پہنچا اور اس سے جو بے پناہ فوائد حاصل ہوئے اکثر پاکستانی اس سے باخبر ہیں اور جو ابھی گو مگو صورتحال کا شکار ہیں ان پر بھی جلد عیاں ہوجائے گا کہ ہم نے جو پتہ کھیلا اس نے کہاں کہاں بھارت کو گھاو لگائے ۔دنیا میں ہم پر امن ،مدبر اور مثبت سوچ کے حامل ملک کے طور پر ابھر کے سامنے آئے اور بھارت کو جنونی ،شدت پسند اور امن کے دشمن کے طور پر جانا جا رہا ہے ۔بھارتی پائیلٹ کی رہائی کے بعد بھی بھارت کے ہوش ٹھکانے نہ آئے تو پھر بھی ہم کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں اور اس صورت میں انڈیا کے غیر جانبدار حلقوں اوردنیا کی اخلاقی سپورٹ بھی ہمارے ساتھ ہوگی اور بھارت کے حصے میں لعن طعن آئے گی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں