243

پاکپتن: والدین گھروں میں بیٹھے اسپیشل بچوں کو سکول میں داخل کروائیں تاکہ بچے کارآمد شہری بن سکیں. آگاہی واک.

پاکپتن(ولی محمد شاکر سے) اسپیشل بچے بھی ہمارے ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو معذوری دیتا ہے تو اسکے ساتھ اور بہت سی صلاحیتوں سے نوازتا ہے اور ضروری ہے کے ہم بچوں کی طرف توجہ دیں انکے روشن مستقبل کا سوچیں تا کہ یہ بچے بھی ہم سب کے شانہ بشانہ ملک وقوم کی خدمات کر سکیں ان خیالات کا اظہار حکیم لطف اللہ سیکرٹری جنرل پاکستان سوشل ایسوسی ایشن نے پاکستان سوشل اایسوسی ایشن ڈسٹرکٹ انٹی ٹی بی ایسوسی ایشن زیر اہتمام اسپیشل (معذور)بچوں کے اسکول میں داخلے مہم ریلی سے خطاب کرتے کیاریلی میں شہریوں کوآگاہی فراہم کرنے کیلئے بینرزکتبے پمفلٹ تقسیم کر کے معلومات فراہم کی گئی ڈاکٹر امتیاز رانا CEO ہیلتھ پاکپتن رانا رستم علی انسپکٹر ٹریفک پولیس عبدالرؤف گل ٹریفک ایجوکیشن آفیسررخسانہ منظور بھٹی ضلعی صدر خواتین ونگ پاکپتن رانا شبیر احمد DEO ایلیمنٹری وقار فرید جگنو صدر پریس کلب غلام نبی ڈھڈی صدر سوشل ڈویلپمنٹ کونسل پاکپتن رانا اویس عابد سٹیزن رائٹس اینڈ ویلفیئر آرگنائزیشن شاہد مرتضیٰ چشتی جنرل سیکرٹری انجمن فلاح مریضان پاکپتن نے بھی شرکا سے خطاب کیاپرنسپل اسپیشل سکول ڈاکٹر عبدالکریم افضل بشیر مرزا ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر نے کہا کہ پاکپتن میں ہر قسم کے اسپیشل بچے نابینا اپاہج گونگے بہرے کیلئے گورنمنٹ ادارہ موجود ہے جو ایسے بچوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کا کام کرتا ہے حکومت پنجاب نے باقی سکولوں کی نسبت اسپیشل سکول کا بجٹ زیادہ رکھا ہے تا کہ جس میں اسپیشل بچوں کو تمام سہولیات فری فراہم کی جا سکیں یونیفارم جوتے جرسی کتابیں جن بچوں کی حاضری %70 سے زیادہ ہوتی ہے انکو ماہانہ وظیفہ بھی دیا جاتا ہے بچوں کیلئے ماہر نفسیات کی سہولت انکے لئے کھیل کا سامان بچوں کی پک اینڈ ڈراپ کی سہولت دور درازسے آنیوالے بچوں کیلئے ہاسٹل کی سہولت اچھا کھانا بستر صاف ستھرے مہیا کئے جاتے ہیں اسپیشل بچوں کے والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو لازمی سکول میں داخل کرائیں تا کہ وہ اس معاشرے کامیاب فرد بن سکیں اور انکی احساس محرومی ختم ہو سکیں ہر شہری کو چاہئے کہ وہ اپنے اردگرد ایسا اسپیشل بچہ دیکھیں جس کو والدین سکول نہیں بھیج رہے وہ ان والدین کو سمجھا ئے یا ہمیں اطلاع دیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں