407

چولستان محبتوں کی سرزمین…….(صابربخاری)

تحریر: صابر بخاری

چولستان، محبت، پیار، امن اور مدھر گیتوں کی دھرتی ہے۔ یہاں کے اونچے اونچے ریت کے ٹیلے تیز ہوا کے ساتھ ایک مخصوص آواز پیدا کرتے ہیں جو دراصل امن، محبت اور شانتی کے شاہکار نغمے ہیں۔ یہاں کے گھروندے کچے اور مکین انتہائی سادہ لوح مگر ان کے جذبے اور رشتے سچے اور پائیدار ہوتے ہیں۔ صوفی بزرگ بابا فرید کو چولستان سے خصوصی شغف تھا اور انہوں نے اپنی زندگی کا زیادہ عرصہ اس چولستان کی محبتوں کی نذر کر دیا۔ چولستان کے انس کو بابا غلام فرید نے اپنی شاعری میں بھی پرویا ۔

ویسے تو پورا وسیب ہی پرسکون، پر خلوص، پیار، محبت، امن و آشتی کا گہوارا ہے مگر چولستان کے رومانس سے انسان کے اندر ایک نئی روح جنم لیتی ہے۔ چند عشرے قبل تک صحرائے چولستان میں جنگلی حیات اپنے عروج پر تھی۔ ہرن، لومڑیاں، گیدڑ، سانپ اور ہمہ نوع و ہمہ رنگ پرندے عام اور قطار در قطار نظر آیا کرتے تھے لیکن آبادی کے سیلاب، عمارتوں کی تعمیر اور صحرا کو جدید بنانے کے چکر میں اب یہ قدرتی حسن ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ غیر قانونی شکار کرنے والوں نے ہرنوں کی نسل برباد کرکے رکھ دی۔ شاید علامہ اقبال نے اس وقت کے صحرا کا منظر ان الفاظ میں کھینچا تھا ۔

اے رہین خانہ تو نے وہ سماں دیکھا نہیں

گونجتی ہے جب فضائے دشت میں بانگ رحیل

ریت کے ٹیلے پہ وہ آہو کا بے پروا خرام

وہ حضر بے برگ و ساماں وہ سفر بے سنگ و میل

چاندنی رات اور صحرا کی خاموشی میں کچھ پل گزارنے کا برسوں سے من تھا۔ کئی بار خوابوں اور تخیل میں چولستان کے وسیع صحرا میں خود کو محسوس کیا اور اس سے جو لطف میسر آیا اور وہ ناقابل بیان ہے۔ چولستان کا نام آتے ہی ایک عجیب سی سرشاری اور خوشی من میں بسیرا کر لیتی لیکن وقت کے تیزی سے بہتے دھارے نے فرصت ہی نہ دی کہ اپنی آنکھوں کو اپنی من پسند جگہ سے سرشار کروں اور اسے اپنے من میں سما سکوں۔ ٹی ڈی سی پی (ٹوارزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن آف پنجاب) نے ہر سال کی طرح اس بار بھی چولستان جیپ ریلی کا انعقاد کیا اور اس طرح راقم کو بھی برسوں کے سپنوں کو حقیقت کا روپ دھارنے کا موقع میسر آگیا۔ 14فروری سے 17 فروری تک چولستان کی وادیوں میں چولستان جیپ ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ٹی ڈی سی پی، ضلعی حکومتوں اور سکیورٹی اداروں کی معاونت سے یہ ایونٹ کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ ریلی تو ایک بہانہ ہے درحقیقت چولستان میں ریت کے ٹیلوں اور صحرا کے سکوت میں گزارے لمحات دل و دماغ کو ہشاش بشاش کر دیتے ہیں۔ چولستان کے وزٹ کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے جسم اور دماغ کی ٹیوننگ ہوگئی ہو۔ ان پر سکون لمحات کے حصول کیلئے ملک بھر سے سیاح بڑی تعداد میں چولستان کا رخ کرتے ہیں۔

چولستان کی مدھر وادی کو دیکھنے کیلئے راقم، ملک محمدسلمان صدر پی ایف سی اور عاصم شہزاد چودھری کے ہمراہ محو سفر ہوا۔ خداوند تعالیٰ نے وطن عزیز کو انتہائی خوبصورتیوں اور رعنائیوں سے نوازا ہے۔ لہلہاتے کھیت آنکھوں کو سرشار اور من کو تازہ کردیتے ہیں۔ پہلا پڑاؤ ہم نے ساہیوال کیا۔ رحمان علی واصف نے ساہیوال کی معنی خیزیوں سے آگاہ کیا۔ یہ شہر ہمیشہ سے خاموش اور اپنی دھن میں مگن نظر آتا ہے۔ مظفرگڑھ اپنے گاؤں جاتے ہوئے ساہیوال سے ہوکر جاتے ہیں مگر کبھی بھی اس شہر کو مکمل طور پر نہ دیکھ سکے، گاڑی کے دس پندرہ منٹ کے سٹاپ میں جتنا آنکھوں میں اس شہر کوسمو سکتے ہیں سمو لیتے ہیں۔ اس بار ساہیوال شہر کا کچھ مزید حصہ دیکھنے کوملا۔ شہر میں ملک کے تمام بڑے برانڈز کے فوڈ ریسٹورنٹ اورملبوسات موجودہیں۔ اب یہ ماڈل شہر کا نقشہ پیش کرنے لگا ہے۔ لذید لنچ کے بعد ہماری اگلی منزل بہاولپور تھی۔ خانیوال سے بہاولپور تک موٹروے کی بدولت اب یہ سفر کافی کم اور آرام دہ ہوچکا ہے۔ بہاولپور کینٹ میں اپنے دوست میجر فیصل کے پاس پہنچے۔ رات کے آٹھ بج رہے تھے اور طے یہ پایا کہ اس وقت چولستان کاسفر مناسب نہیں صبح سویرے ہی اگلی منزل کی طرف نکلا جائے۔ کچھ دوست رات کے سفر پر بضد تھے مگر اکثر دوستوں کی رائے تھی کہ صبح ہی چولستان کی طرف نکلا جائے چونکہ رات کے وقت چولستان میں راستے کی تلاش انتہائی مشکل کام ہے اور دوسرا گاڑی کو کسی بھی طرح کی فنی خرابی کی صورت میں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ رات بہاولپور میں بسر کرنے کے بعد صبح سویرے ہم قلعہ دراوڑ چولستان کی راہ پر تھے۔ قلعہ دراوڑ بہاولپور سے ایک سو تیس کلو میٹر فاصلے پر ہے۔
صحرائے چولستان جو مقامی طور پر روہی کے نام سے بھی جاناجاتاہے 66لاکھ ایکڑ رقبہ پر مشتمل ہے۔ چولستان کا شمار ایشیاء کے بڑے صحراؤں میں ہوتاہے۔ تین اضلاع بہاولنگر، بہاولپور اور رحیم یار خان کے کچے کے حصے چولستان پر مشتمل ہیں۔ سندھ میں اسے تھر کہا جاتا ہے جب کہ یہ جنوب مشرق میں راجستھان سے جاملتا ہے۔ یہاں کے لوگ خانہ بدوش ہیں جو صحرائے چولستان کے ٹوبوں(پانی ذخیرہ کرنے کی جگہ ) کے گرد اپنا مسکن بناتے ہیں۔ ٹوبہ دراصل پانی کے تالاب کو کہتے ہیں۔ برسات کے دنوں میں یہ ٹوبے پانی سے بھر جاتے ہیں، اگر بارش نہ ہو تو یہاں کے باشندے پانی کی طرف مال مویشیوں سمیت ہجرت کر جاتے ہیں۔ صحرائے چولستان کے باسی چولستانی لہجے کی سرائیکی زبان بولتے ہیں جسے تھوری زبان بھی کہتے ہیں جو بھارت کی راجستھانی بولیوں سے بھی ملتی جلتی ہے۔ چولستان کا تین لاکھ ایکڑ کے قریب رقبہ آباد کیا گیا ہے۔ یہاں کا ذریعہ آمدن زیادہ ترمال مویشی پالناہے۔ خود رو پودے جانوروں کی خوراک ہیں۔ مگر اب مچھلی فارم بڑی تعداد میں بنائے جارہے ہیں جو یہاں کا بڑا ذریعہ آمدن بن چکا ہے جس سے مقامی لوگوں کو کاروبار کے مواقع بھی میسر آرہے ہیں۔ یہ مچھلی فارم مقامی لوگوں کے کم ہیں، زیادہ تر باہر کے سرمایہ دار یہاں پنجے گاڑ رہے ہیں۔ چولستان کی زمین کوڑیوں کے مول اور مالکانہ حقوق پر باہر کے لوگوں کو دی جا رہی ہے۔ بھارتی راجھستان میں اندرا گاندھی نہر نکالی گئی ہے جس کی وجہ سے راجھستان خوشحال ہوچکا ہے مگر چولستان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر، روزگار سمیت کچھ بھی یہاں کے باشندوں کو دستیاب نہیں۔

قلعہ دراوڑ، قلعہ مروٹ، شاہی مسجد، شاہی قبرستان، پتن مینار سمیت کئی اہم عمارات اور مقامات اپنی رعنائی اور خوبصورتی میں ثانی نہیں رکھتے۔

تقریباً دو گھنٹے کی مسافت کے بعد ہم قلعہ دراورڑکے پاس ٹوارزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن آف پنجاب(ٹی ڈی سی پی) کی جانب سے قائم کی گئی خیمہ بستی میں پہنچ گئے۔ دو سو کے قریب خیمے اس بستی میں لگائے تھے۔ یہ خیمے زیادہ تر صحافیوں اور سرکاری افسران کیلئے مختص تھے۔ جب کہ باقی عوام نے دور دراز تک اپنی مدد آپ اور کچھ پرائیویٹ کمپنیز کی طرف سے بھی خیمے لگائے گئے تھے۔ ٹی ڈی سی پی کی طرف سے لگائے گئے خیموں کے پاس بازار بھی لگایا گیا تھا جس میں مقامی مصنوعات فروخت کی جا رہی تھیں جس سے مقامی صنعت کو فروغ مل رہا ہے۔ ٹی ڈی سی پی کی طرف سے اچھے انتظامات دیکھنے کو ملے۔ ترجمان ٹی ڈی سی پی عابد شوکت نے ہمارے لیے خیمے مختص کر رکھے تھے۔ خیمے میں داخل ہوئے تو شدید گرمی کا احساس ہوا حالانکہ پنجاب کے باقی حصوں میں درجہ حرارت کافی کم تھا۔ کچھ دیر خیموں میں رہنے کے بعد ہم چولستان کی سیر کو نکلے۔

یہاں کے لوگ انتہائی سادہ اورزیادہ تر سرائیکی بولتے ہیں ۔سب سے پہلے ہم قلعہ دراوڑ پہنچے۔ یہ شاہکار قلعہ ماضی کے حکمرانوں کے دبدبہ کی یاد دلاتاہے۔ اس قلعہ کو انیسویں صدی میں ایک ہندو راجہ رائے ججا بھٹی نے بہاولپور اور جیسلمرریاست کے بادشاہ راول دیوراج بھٹی کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے تعمیر کرایا۔ شروع میں اسے ڈیرہ راول اور بعد میں یہ ڈیرہ راور کے نام سے جانا جانے لگا اور کافی عرصہ بعد اسکا نام قلعہ دراوڑ پڑگیا۔ اٹھارویں صدی میں بہاولپور کے مسلم نوابوں نے شہوترا قبائل سے اسے اپنی تحویل میں لے لیا۔ 1732ء میں نواب صادق محمد نے اسے دوبارہ تعمیر کرایا ۔ یہ ایک شاہکار عمارت ہے جو دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے اور چولستان کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتی ہے۔
مگر مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے قلعہ دراور ڑکی حالت کافی خراب ہوچکی ہے۔ قلعہ کے آس پاس مناسب ٹریک یا راستہ بھی نہیں کہ سیاح جس پر چل سکیں۔ مٹی اور ریت پر چلنے سے برا حال ہوجاتا ہے۔ ڈسٹ الرجی سے اکثر سیاحوں کی طبیعت ناساز ہوجاتی ہے۔ قلعہ سے کچھ فاصلے پر جھاڑیوں کے جھنڈ میں موجود ٹریک پر چلنے کا بھی اپنا مزہ ہے۔ ہم نے اس دیدہ زیب عمارت اور ٹریک پر کافی انجوائے کیا اور تصویریں بنوائیں۔ ڈھول اور جھومریہاں کا خوبصورت ثقافتی امتزاج ہے۔ ہم بھی ڈھول کی تھاپ پر جھومر سے لطف اندوز ہوئے۔ خیمہ بستی کیلئے کھانا ٹی ڈی سی پی کی طرف سے مگر دوسرے سیاحوں کیلئے بھی کھانا مناسب قیمت پر دستیاب تھا۔ کھانے پینے کی اشیاء معیاری اور قیمت بھی مناسب تھی۔
اس کے بعد ہم جیپ ریلی کے مقام پر پہنچے۔ جیپ ریلی کے آغاز کے مقام پر سیاحوں کی بڑی تعداد موجود تھی جو وسیع صحرا میں گاڑیوں کی ریس سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ جیسے جیسے شام کے سائے بڑھتے گئے چولستان کا یہ مقام سیاحوں سے کھچا کھچ بھرنے لگا۔ چاندنی رات میں صحرا کی سیر، ریت میں دھنستے جوتے اور خاموشی سیاحوں کو لطف کی وادی میں لے جاتی ہے۔ رات کوصحرا ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔ ہم نے چاندنی رات میں خوب سیر کی اور اس سے لطف اندوز ہوئے۔

کچھ دوستوں نے اپنے نجی پروگرامز میں مدعو کر رکھا تھا۔ رات کو گاڑی پر ان کی طرف روانہ ہوئے تو ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ تقریباً بیس کلو میٹر تک ہر طرف کیمپ ہی کیمپ نظر آرہے تھے۔ ٹی ڈی سی پی کی طرف سے میوزیکل نائٹ کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ سیاح انتہائی شاداں تھے۔ علی سردار وینس اور دوسرے دوستوں سے ملاقات ہوئی۔ ایک دوست کو اس کے کیمپ میں ملنے گئے تو ایک گھنٹہ چولستان کے صحرا میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہے۔ صحرا میں راستہ تلاش کرنا بہت مشکل کام ہے اور رات کو تو گویا ناممکن سی بات لگتی ہے۔ جیسے تیسے پہنچ تو گئے اور اس پارٹی سے لطف اندوز بھی خوب ہوئے مگر واپسی پر پھرگھنٹوں بعد راستہ ملا۔ پوچھ تاچھ کر بڑی مشکل سے ہم کیمپ پہنچے۔

اگلے دن جیپ ریلی کا فائنل راؤنڈ تھا اور سیاحوں کی کثیر تعداد وہاں موجود تھی جو جیپ ریلی سے لطف اندوز ہونے کیلئے ملک کے تمام حصوں سے یہاں پہنچے تھے. راقم سرشار تھا کہ ملک میں تفریحی اور سیاحتی سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز ہوا اور دوردراز صحرا میں اس قدر لوگوں کی آمد اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ پاکستان میں تفریحی مواقعوں کی شدید ضرورت اور پاکستانی سیاحت کے خوب دلدادہ ہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ سیاحت کے فروغ کیلئے اقدامات کیے جائیں اور سیاحوں کو سہولیات مہیا کی جائیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انشاء اللہ جلد پاکستان کا شمار سیاحت کیلئے بہترین ممالک میں ہوگا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں