3,481

میتھی اورمیتھی کے بیج کے فوائد……(حکیم محمد طارق شاد)

انتخاب: حکیم محمد طارق شاد

ہندی، اردو، بنگالی، گجراتی اور راجستھانی زبانوں میں اسے میتھی اور عربی میں حلبہ اور فارسی میں شملیت اور پشتو میں ملحوزے اور انگریزی زبان میں Fenugreek کہا جاتا ہے۔

اس خبر کی ویڈیو روپورٹ دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں

بعض اطباء کہتے ہیں کہ اگر لوگ میتھی کے فوائد سے آشنا ہو جائیں تو سونے کے دام کے برابر اس کی قیمت دے کر اس کو خریدنے لگیں گے۔ اہل عرب اس کو اسی بنا پر شوق سے کھاتے تھے۔

میتھی میں وٹامن اے، بی، سی، فولاد، فاسفورس اور کیلشیم پایا جاتا ہے۔ میتھی کے نہ صرف پتے بلکہ اس کا بیج بھی کئی امراض اور کھانوں، اچار وغیرہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ پاک و ہند میں اس کا استعمال زیادہ ہے.

میتھی کے فوائد:
٭ میتھی کے استعمال سے آنکھوں کی پیلاہٹ دور ہوتی ہے۔
٭ میتھی کے استعمال سے منہ کا کڑوا ذائقہ درست ہو جاتا ہے۔
٭ میتھی کھانے سے رال بہنے جیسے مسئلے سے نجات ملتی ہے۔
٭ میتھی بھوک کی کمی کو دور کرتی ہے۔
٭ میتھی کھانے سے کھٹی ڈکاریں نہیں آتی ہیں۔
٭ میتھی کھانے سے بد ہضمی سے نجات ملتی ہے۔
٭ میتھی خون کی کمی کو دور کرتی ہے۔
٭ میتھی کھانے سے جلد خاص طور پر چہرہ پر رونق ہو جاتا ہے۔
٭ میتھی کا استعمال جسم کے دردوں سے آرام پہنچاتا ہے۔
٭ میتھی انسولین پیدا کرتی ہے۔
٭ میتھی بلغم اور گلے کی خراش میں فائدہ مند ہے۔
٭میتھی کے استعمال سے پیشاب کھل کر آتا ہے۔
٭بند حیض میں اس کا جوشاندہ مفید ہوتا ہے۔
٭ایسی خواتین جن کا دودھ کم اترتا ہو انہیں میتھی کھلائی جائے تو ان میں وافر مقدار میں دودھ پیدا ہوتا ہے۔
٭میتھی میں ایسے کیمیائی اجزا موجود ہیں جو تحریک پیدا کرتے ہیں۔ لہذا سست و کاہل حضرات کے لئے یہ کسی نعمت سے کم نہیں۔
نوٹ: میتھی کو حاملہ خواتین استعمال نہ کریں۔

میتھی دانہ کے فوائد:
یہ آپ کی جلد اور اندرونی صحت کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔
میتھی دانہ آپ کے بالوں کو مزید صحت مند اور لمبا کرسکتا ہے۔ تھوڑا سا میتھی دانہ کسی ناریل کے تیل میں شامل کر کے ایسی بوتل میں ڈالیں، جس میں ہوا داخل نہ ہوسکتی ہو۔ اس بوتل کو تین ہفتوں کے لیے ایسے مقام پر رکھ دیں، جو ٹھنڈا ہو، لیکن وہاں سورج کی روشنی نہ پہنچ سکے۔ اس کے بعد یہ تیل سر کی چوٹی میں لگائیں۔ آپ کے بال خوبصورت اور صحت مند ہوجائیں گے۔
میتھی دانہ کا جوشاندہ حلق، سینہ اور پیٹ کو نرم کرتا ہے۔کھانسی اور دمہ تنگی تنفس کو دور کرتا ہے، قوت باہ بڑھاتا ہے۔ ریاح، بلغم، بواسیر کے لئے نہایت مجرب دوا ہے۔ آنتوں میں رکے ہوئے فضلہ کو نیچے لاتا ہے اور سینے کے لیس دار بلغم کو تحلیل کرکے باہر نکالتا ہے۔ پیٹ کے پھوڑوں اور پھیپھڑے کی بیماریوں میں نافع ہے۔

ہارٹ اٹیک سے بچاؤ
میتھی دانہ دل کے حملے کی صورت میں پہنچنے والے شدید نقصانات سے دل کو محفوظ بناتا ہے اور دباؤ کو کم کرتا ہے۔ میتھی کو دل کی صحت کے حوالے سے بہترین قرار دیا جاتا ہے۔
وہ افراد جنہیں دل کے دورے کا خطرہ ہو، اگر وہ صحت بخش غذا کے ساتھ میتھی دانے کا استعمال جاری رکھیں تو ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑی حد تک ٹل جاتا ہے اور خدانخواستہ اگر کبھی دل کا دورہ پڑ بھی گیا تو اس سے دل کو پہنچنے والا نقصان کم سے کم رہے گا۔ وجہ یہ ہے کہ میتھی کا استعمال خون کی رگوں میں نرمی بحال کرتا ہے اور ان کی قدرتی لچک واپس لاتا ہے۔

کینسر سے بچاؤ
میتھی دانہ کا تیل کینسر کے مریضوں کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ یہ تیل ایسے اجزاء پر مشتمل ہوتا ہے، جو کینسر کے خلیوں کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے کینسر کے مریضوں کے لیے یہ تیل بہترین ہے اور قدرتی ہونے کے وجہ سے اس کے مضر اثرات بھی نہیں ہوتے۔

کولیسٹرول کی سطح
میتھی دانہ جسم میں موجود برے کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے کے حوالے سے بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

جگر کی حفاظت
جگر ہمارے جسم میں پائے جانے والے زہریلے مادوں کی صفائی کا کام کرتا ہے۔ بہت زیادہ غیر صحت بخش غذاؤں کے استعمال کی وجہ سے ہمارا جگر دباؤ کا شکار ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے اسے شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، لیکن میتھی دانہ جگر کو زہریلے مادوں کی صفائی کے حوالے سے مدد فراہم کرتا ہے۔

وزن میں کمی
متعدد تحقیقات نے یہ بات ثابت کی ہے کہ روزانہ میتھی دانہ کے استعمال سے جسم میں موجود چربی کو کم کیا جاسکتا ہے۔ میتھی دانہ 2 سے 6 ہفتے تک روزانہ تین مرتبہ 329 ملی گرام کھانے سے بہترین نتائج حاصل ہوسکتے ہیں۔ یہ بھوک کو کم کرتا ہے اور آپ کو یہ احساس دلاتا ہے کہ ابھی آپ کو کچھ کھانے کی ضرورت نہیں۔

نزلہ، زکام، چھینکیں، ڈسٹ الرجی
میتھی میں قدرتی طور پر اینٹی الرجی خصوصیات پائی جاتی ہیں لہذا یہ نزلہ زکام، کثرت سے چھینکیں آنا اور ڈسٹ الرجی کے شکار لوگوں کے لئے انتہائی مفید دوا ہے. ڈسٹ الرجی کے شکار افراد ایک چمچ میتھی دانہ لے کر آدھا گلاس پانی میں ابالیں اور پھر چھان کر اس میں شکر یا شہد ملا کر صبح نہار منہ یا پھر رات کو سونے سے قبل پندرہ بیس روز تک استعمال کریں۔

قبض
میتھی پیٹ کے کیڑے مارتی ہے، ہاضمہ درست کرتی ہے اور بلغمی مزاج رکھنے والوں کو بہت فائدہ پہنچاتی ہے۔ قبض کی صورت میں میتھی کے بیج کا سفوف گڑ میں ملا کر صبح اور شام 5 گرام کی مقدار میں کھایا جائے تو آنتوں کی کارکردگی بحال ہوجاتی ہے اور قبض بھی ختم ہوجاتی ہے جب کہ جگر کو بھی تقویت پہنچتی ہے۔

چہرے پر کیل مہاسے:
چہرے پر کیلوں اور مہاسوں کا خاتمہ کرنے کے لیے 4 کپ پانی میں 4 کھانے کے چمچے میتھی دانہ شامل کرکے رات بھر کے لیے رکھ دیں، صبح اس پانی کو چھان کر 15 منٹ تک اُبالنے کے بعد ٹھنڈا کرلیں، یہ پانی روزانہ دن میں 2 مرتبہ چہرے کی جلد پر لگانے سے کیل مہاسے ان شاء اللہ ختم ہوجائیں گے۔

ذیابیطس (شوگر) اور میتھی کی کرامات:
ذیابیطس کے علاج میں میتھی کو انتہائی مؤثر پایا گیا ہے۔
شوگر کے مرض میں میتھی دانہ کا استعمال جسم میں شوگر کی سطح کو متوازن رکھنے کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتا ہے اور انسولین کی مزاحمت کو کم کرتا ہے۔
حیدر آباد (بھارت) کے ڈاکٹروں پر مشتمل کمیٹی عرصہ دراز سے ذیابیطس (ڈایا بیٹیز) کے علاج کے سلسلے میں تحقیقات کر رہی تھی انہوں نے ہزاروں مریضوں پر میتھی کے بیج استعمال کروائے۔ اس کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق میتھی کے بیج ذیابیطس اور دل کے امراض میں مفید ہیں۔ میتھی کے بیج پیس کر روزانہ 20 گرام کھانے سے صرف دس دن کے اندر ہی پیشاب اور خون میں شوگر کی مقدار کم ہو جاتی ہے اگرچہ علامات مرض میں کمی ہونے سے مریض کو خود بھی فائدے کا اندازہ ہو جاتا ہے لیکن بہتر ہے کہ ہر دس دن بعد شوگر کا باقاعدہ ٹیسٹ کروا لیا جائے۔ شوگر کے تناسب سے میتھی کے بیج کا استعمال 100 گرام روزانہ تک بھی کیا جا سکتا ہے اس سلسلے میں میتھی کے بیج دال کی طرح یا کسی سبزی میں ملا کر پکا کے بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔ شوگر کے مریضوں کو میتھی کے بیج استعمال کروانے کا طریقہ یہ ہے کہ میتھی کے بیجوں کو پیس لیں اور صبح دوپہر شام 20-20 گرام سادہ پانی سے استعمال کریں۔ شوگر زیادہ ہو تو 30-30 گرام اور اگر کم ہو تو 10-10 گرام بھی صبح دوپہر شام استعمال کئے جا سکتے ہیں۔ اس کے استعمال کے کوئی مضر اثرات نہیں ہیں. مذکورہ بالا کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق میتھی کے بیجوں کا استعمال ذیابطیس میں انتہائی مفید ہے اس دوران چاول، آلو، گوبھی، اور دیگر میٹھی اشیاء سے پرہیز ضروری ہے صبح کی سیر بھی لازمی ہے اور یاد رہے کہ میتھی کے استعمال کے دوران ایلو پیتھک ادویہ استعمال ہو رہی ہوں تو کوئی حرج نہیں.

ہارمونز کی بے ترتیبی:
ایک چائے کا چمچ میتھی دانہ ایک کپ پانی میں شامل کر کے پینے سے ہارمونز کی بے ترتیبی درست ہوجاتی ہے ۔ اس چائے کو دن میں دو سے تین مرتبہ استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ ہارمونز کی ترتیب کے لیے یہ چائے جادوئی طرح سے کام کرتی ہے ۔

اسٹریس اور پریشانی کا علاج:
اگر آپ مسلسل پریشان ہیں اور آپ کو بہت زیادہ ذہنی تناؤ رہتا ہے تو اس نسخے پر عمل کر کے آپ اپنا اسٹریس لیول کم کرسکتی ہیں۔ اس کے لیے میتھی دانہ، لیموں کا رس، شہد، تلسی کے چند پتے اور ایک دار چینی کا ٹکڑا ایک کپ پانی میں اُبال کر ٹھنڈا کرکے پی لیں۔ اسٹریس لیول میں ضرور کمی آئے گی۔

ماہواری کے درد میں کمی:
ایک چٹکی میتھی دانہ ایک گلاس نیم گرم پانی کے ساتھ پینے سے ماہواری کے درد سے نجات مل سکتی ہے۔ ایام مخصوصہ سے دو یا تین دن پہلے بھی اگر اس نسخہ پر عمل کیا جائے تو periods کی وجہ سے ہونے والی دوسری پریشانیوں سے بھی چھٹکارا مل سکتا ہے ۔

بلیک ہیڈز کے خاتمے کے لیے:
تین کھانے کے چمچ میتھی دانہ دو کپ پانی میں اُبالیں اتنا اُبالیں کہ پانی آدھ رہ جائے ۔ اب میتھی دانہ کا پیسٹ بنا لیں اور اس پیسٹ کو اپنے بلیک ہیڈز اور کھلے مساموں پر لگا لیں۔ اسے خشک ہونے دیں پھر چہرے پر اسکرب کر کے اُتار لیں۔ پہلی دفعہ کے استعمال سے آپ واضح فرق محسوس کریں گے اور روزانہ کے استعمال سے بلیک ہیڈز ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائیں گے۔ میتھی دانہ کے پانی کو بالوں کی جڑوں میں لگالیں اور پوری رات لگا رہنے دیں۔ صبح نیم گرم پانی دھو لیں۔ اس سے بالوں کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں اور بال گھنے ہوتے ہیں۔

نئی ماؤں کے لیے:
میتھی دانہ دودھ پلانے والی ماؤں کے لیے بہت مفید ہے۔ اس کے علاوہ ڈیلیوری کے بعد ہونے والی کمزوری میں بھی میتھی دانے کے استعمال سے بہت افاقہ ہوتا ہے۔ یہ ہڈیوں کو مضبوط کرتا ہے۔ میتھی دانہ ہر طرح سے خواتین کے لیے بہترین ہے۔

نزلہ و زکام کے لیے
نزلہ زکام، سینے کی تکلیف اور بلغم بننے کی بیماری میں اس کا استعمال ازحد مفید ہے۔ صبح وشام دو چائے کے چمچ ایک کپ پانی میں جوش دے کر شہد سے میٹھا کرکے پی لیں۔ مسلسل استعمال سے دائمی نزلہ بھی ختم ہوجاتا ہے۔ چھوٹے بچوں کو استعمال کرانے سے سارا بلغم نکل جاتا ہے۔

بالوں کی خوبصورتی کے لیے
لمبے، گھنے بال ہر عورت کی خواہش ہوتی ہے، اس مقصد کے حصول کے لیے (ایلوویرا) کو درمیان سے اس طرح کاٹیں کہ دونوں سرے جڑے رہیں۔ اس گھیکوار میں میتھرے بھر کر دھاگے سے باندھ کر ہفتہ، دس دن فریج میں رکھ دیں، اس کے بعد میتھرے گھیکوار سے نکال کر کڑوے تیل میں جلالیں۔ یہ تیل انشاءاللہ مفید رہے گا۔ اس کے علاوہ آزمودہ اور آسان طریقہ یہ بھی ہے کہ جو بھی تیل آپ بالوں کے لیے استعمال کرتی ہیں، اس میں میتھرے ڈال کر دھوپ میں رکھ دیں اور پندرہ دن بعد وہ تیل استعمال کرنا شروع کریں، بالوں کو سیٹ کرنا ہو تو اس مقصد کے لیے میتھرے کا ابلا ہوا پانی لگا کر رول کرنے سے بالوں میں گھنگھریالا پن آجاتا ہے اور بال سیاہ چمکدار‘ گھنے اور لمبے ہوجاتے ہیں.

سوجن اور بادی کے لیے
جن لوگوں کو بادی کا مرض ہو یعنی کھانے کے بعد انکے ہاتھ، پاﺅں سن ہونے لگتے ہوں یا مسوڑھے پھول جاتے ہوں۔ ان کو عمومی طور پر اس کا استعمال رکھنا چاہئے یعنی چاول، دہی، خمیری روٹی، آلو وغیرہ نقصان دیتے ہیں تو کچے یا پکے میتھرے ضرور استعمال کریں۔ عورتوں میں سن یاس کے بعد پائے جانے والا ڈپریشن اور پسینے کی زیادتی کے لیے بھی مفید ہے۔ اس کے لیے یا تو اس کا پانی ابال کر پی لیں یا چاول بناتے وقت اس کی پوٹلی ابلتے ہوئے چاولوں میں ڈال دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں