300

”وسیم اکرم پلس کے کارنامے “……..صابر بخاری

تحریر: صابر بخاری

بظاہر تو میں چائے کے سپ لے رہا تھا مگر اندر سے ایک طوفان اٹھ رہا تھا۔دل افسوس اور درد سے کراہ رہا تھا ۔ہزاروں سوالات تھے جو اندر ہی اندر سے گھائل کیے جا رہے تھے ۔جن کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا ۔آخر بندہ کس پر اعتبار کرے ؟کس کو غمگسارکرے ؟کون ہے جو اس مجبور عوام کے آنسو پونچھے ؟سب منافقت کا خول چڑھائے ، عوام اور ملک کے درپے آخر کیوںہیں؟

جن پر تکیہ تھاوہی پتے ہوا دینے لگے

افسوس اس بات پر ہو رہا تھا کہ چیئرمین تحریک انصاف، وزیر اعظم عمران خان کی 22 سالہ سیاسی جدوجہد صرف انکی شخصیت پرستی تک محدود کیوں رہی ؟اپنی پوری سیاسی زندگی میں وہ ایک بھی ایسا بندہ تیار نہیں کر سکے جس کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنایا جا سکتا اتنے بڑے صوبے کا سربراہ وہ بنا جو وژن سے عاری اور محض تین ماہ قبل ہی پی ٹی آئی میں شامل ہوا تھا ۔موصوف وزیر اعلیٰ کے کریڈٹ پر صرف ایک بات تھی جس کا عمران خان صاحب بھی برملا اظہار کرتے نظر آتے تھے کہ عثمان بزدار ،شہباز شریف کی طرح کرپشن نہیں کرے گا ۔اب جب میں ”وسیم اکرم پلس “کی کرپشن کے ثبوت دیکھ اور سن رہا تھا تو میری حیرانی اور پریشانی لازمی امر تھا۔مجھے افسوس کیساتھ حیرانی عمران خان کے فیصلے اور ہمارے سسٹم پر تھی کہ ”نیا پاکستان “ بننے کے باوجود کرپشن کے سائے جوں کے توں ہیں اور اس میں رتی برابر بھی فرق نہیں آیا ۔کمال کی بات تو یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت میں بھی کرپشن کے طریقے نہیں بدلے ۔وہی فرنٹ مین ،وہی دھندے سب کچھ ویسے کا ویسا بدلے ہیں توصرف اداکاری کے سٹائل بدلے ہیں ۔پہلے پنجاب کا حاکم انگلی لہراتا ،مائیک گراتا اور لمبے بوٹ پہنتا تھا جبکہ اب کا حاکم بظاہر سادہ ،عاجزی پسند ،مڈل کلاس،صوفہ ،چار پائی اور زمین کی تمیز کیے بغیر تشریف رکھنے ولا مگر کرتوت ویسے ، حرص اورلوٹ مار کا سٹائل بھی وہی ۔چند روز قبل بھی اس ”سادہ لوح“ وزیر اعلیٰ کا ڈاکہ آشکار ہوگیا جو دوسرے ”ڈاکووں “ کیساتھ ملکر پنجاب اسمبلی کا فورم استعمال کرتے ہوئے ڈال رہے تھے اور رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ۔

چمن سے کراچی تک سیاستدانوں پر نظر دوڑائیں تو ہمیںمختلف نظریات ،سوچ ،ثقافت اور مختلف جماعتوں ،گروپوں سے وابستہ سیاست دان نظر آتے ہیں ۔شا ذو نادر ہی کسی موقف اور نقطے پر انکو اکٹھا ہوتے دیکھا جاتا ہے مگر یہ سب جس ایک نقطہ پر من و عن سے متفق اور ڈٹ کر کھڑے نظر آتے ہیں وہ ہے کرپشن اور لوٹ مار ۔ان سیاستدانوں نے اس قدر ملک کو لوٹا کہ اسکی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں ۔سیاستدانوں کی دیکھا دیکھی بیوروکریسی اور دوسرے معتبر ادارے بھی برابر اپنا حصہ وصول کرنے لگے اور عوام بیچاری مسائل کی دلدل میں پستی رہی ۔
جنوبی پنجاب کے سیاستدانوں کو ہم نا اہل ہونے کے بہت طعنے دیتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ اپر پنجاب اور دوسرے ملک کے سیاستدانون سے زیادہ شاطر اور تیزہیں ۔ہر بار طاقتور کا ہاتھ پکڑتے اور اسمبلی میں پہنچ جاتے ہیں ۔کسی بھی سیاسی جماعت سے مخلص نہیں

ہوتے ۔تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھتے رہتے اور ”نظریہ “ اور وفاداری کا سارا ماسک اتار پھینکتے ہیں اور اقتدار میں آنے والی جماعت کو پیارے ہوجاتے ہیں ۔اقتدار میں ہوں یا باہر جنوبی پنجاب کے سیاستدانوں پر کرپشن کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں ۔چونکہ آج کے اقتدار والے کل کو اپوزیشن میں ہوسکتے ہیں اس لیے ان کا کرپشن پرغیر اعلانیہ اتحاد ہوتا ہے ۔جنوبی پنجاب کے سیاستدانوں نے خوب لٹ مار کی مگر آج تک کوئی ایک بھی نہیں پکڑا گیا ،وجہ صرف یہی تھی کہ ان لوگوں نے لیڈر بننے کی کوشش نہیں کی اور اداروں نے ان کی کرپشن پر کبھی فوکس نہیں کیا ۔جنوبی پنجاب کے صرف اپنے حلقے کی بات کروںتو جب سے سیاسی سوجھ بوجھ ہوئی تو2002 ءمیں شاہد جمیل ایم این اے اور قسور لنگڑیال ایم پی اے منتخب ہوئے ،دونوں نے خوب لوٹ مار کی ،2008 ءاور 2013ءمیں جمشید دستی ایم این اے اور قسور لنگڑیا ل ایم پی اے بنے، لوٹ مار کا سلسلہ جاری رہا ۔موٹر سائیکل پر پھرنے والا جمشید دستی لینڈ کروزر پر آگیا اور مبینہ طور پر کئی پٹرول پمپس بھی کھول لیے ۔ تھرمل پاور سے بھتہ بھی موصوف دھرلے سے لے رہا ہے ۔دوسری طرف قسور لنگڑیال نے بھائی کے نام پر کنسٹرکشن کمپنی بنا لی اور سب ٹھیکے اپنے گھر میں ہی رکھ لیے ۔قسور لنگڑیا ل پر محکمہ اینٹی کرپشن میں کئی ماہ قبل مقدمہ درج ہوا مگر کوئی بھی ایم پی اے موصوف کا بال بھی بیکا نہیں کر سکا۔ قوی امید ہے ہمیشہ کی طرح اس مقدمہ کی بھی سیٹلمنٹ ہو چکی ہوگی ۔

غرض کوئی بھی ایم این اے یا ایم پی اے جنوبی پنجاب سے نہیں ملے گا جس کا دامن صاف ہو تو بھلا عثمان بزدار کیوں پیچھے رہتے ؟ جبکہ وہ صوبے کے مختار کل بھی ہیں ۔ذرائع کے مطابق عثمان بزدار نے (ج)بزدار اور (ط) بزدارکو اپنا فرنٹ مین مقرر کررکھا ہے ۔اکثر تبادلے اور تقرریاں انکی سفارش پر ہوتی ہیں ۔پرکشش سیٹوں پر تعیناتی کا ریٹ 30 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے ۔میرے ایک جاننے والے کو جنوبی پنجاب میں ایک عہدہ کیلئے 30لاکھ کی آفر کی گئی(جس کے ثبوت بھی موجود ہیں) ۔جب انہوں نے اتنی رقم دینے سے انکار کیا تو انکا نام اس وقت سمری سے نکالا گیا جب سمری وزیر اعلیٰ کو بھیج دی گئی تھی ۔وزیر اعلیٰ نے سب کے نام فائنل کر دیے مگر جس نے تیس لاکھ نہیں دیے اسکا نام لسٹ میں سے نکال دیا ۔ایک اور امیدوار نے عارضی چارج کیلئے مطوبہ رقم وزیر اعلیٰ کے فرنٹ مین کو دے کر وہ عہدہ اپنے نام کر لیا ۔اب مستقل عہدے کیلئے وزیر اعلیٰ کے فرنٹ مین اور اس عہدیدار کے درمیان ڈیل جاری ہے ۔”وسیم اکرم پلس “کی باقی کرپشن سے پردہ اگلی قسط میں اٹھائیں گے ۔عمران خان صاحب کے ”وسیم اکرم پلس “کے حوالے سے بس یہی کہوں گا ۔

کہاں تک سنو گے کہاں تک سناوں
ہزاروں ہی شکوے ہیں کیا کیا سناوں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں