260

’’لڑکھڑاتی ہوئی بھارتی فضائیہ‘‘….. (بریگیڈ یئر(ر) محمود الحسن سید)

تحریر: بریگیڈیئر(ر) محمود الحسن سید)

قارئین ! میں نے چند دن پہلے شائع ہونے والے اپنے مضمون میں بھارت کی داخلی بدحالی، غربت اور ہندوؤں کی دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد سے تعصب اور خواتین کی حالت زار پر تفصیل سے تبصرہ کیا تھا۔
پچھلے دنوں بھارت اور پاکستان میں کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ گئی تھی جب کہ بھارتی ایر فورس کے دو جہازوں نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور اس کے جواب میں ہماری ہوائی فوج نے برق رفتاری سے بھارت کے دو جہاز مار گرائے۔ ان میں سے ایک جہاز ہمارے علاقے میں گرا جس کے پائلٹ کو گرفتار کرلیا گیا۔ یہ حملہ 26 فروری صبح 03:30 بجے بھارتی طیارے کی طرف سے بالا کوٹ میں JABA جابا چوٹی پر کیا گیا۔ لیکن اس حملے میں کسی Stratagic یا فوجی تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور یہ واضح طور پر بھارتی وزیر اعظم مودی کا مستقبل قریب میں ہونے والے انتخابات کے حوالے سے ایک بھونڈا اور خطر ناک Stunt یعنی کرتب بازی تھی۔ جو مکمل طور پر ناکام رہی اور پاکستان کو عسکری اور اخلاقی فتح حاصل ہوئی کیونکہ اس نے بھارتی پائلٹ جوکہ پاکستان میں گرفتار تھا اسے واپس بھارت کے حوالے کردیا۔ جس کی پوری دنیا میں پذیرائی ہوئی۔

جنگ ایک بہت خطر ناک ہی نہیں بلکہ مہنگاترین عمل ہے۔ اس کا اندازہ اس امر سے کیا جاسکتا ہے کہ بھارتی ائیر فورس کی طرف سے بالا کوٹ پر حملے کے نتیجے میں اس نے 2 بلین ڈالر صرف آدھے گھنٹے میں ضائع کردیئے جب کہ جیسے میں نے پہلے لکھا تھا اس ملک میں 68 (اڑسٹھ) فی صد آبادی صرف 2 ڈالر روزانہ پر گزارہ کرنے پر مجبور ہے۔ جب کہ بھارت کا دفاعی بجٹ 60 (ساٹھ) بلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

بھارت کی فضائیہ کے پاس تقریباً 1724 (ایک ہزار سات سو چوبیس) لڑاکا جہاز ہیں جن میں صرف 900 (نوسو) جہاز صحیح حالت میں ہیں۔ 2016 ء میں ایک بین الاقوامی دفاعی تنظیم “Carnegie Endowment of International Peace” کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ائیرفورس حکومت کی طرف سے شائع ہونے والے اعدادو شمار جس میں کہا گیا ہے کہ یہ 36.5 سو کارڈرن پر مشتمل ہے غلط ہے وہ Sanctioned Strength سے کم ہے۔ اسی رپورٹ کے مطابق بہت سے جہاز ناکارہ یا پرانے (Obsolete) ہیں۔ اسی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارتی ائیر فورس ان وجوہات کی بنا پر علاقے میں اپنی برتری تیزی سے کھو رہی ہے۔

Carnegic کے مطابق بھارتی ائیر فورس کے مختلف جہاز یعنی (Light, Medium & Heavy Weight) بہت سے مشکلات کا شکار ہیں۔ امریکہ کے ایک 15 روزہ اخبار International Interest نے ایک رپورٹ جس کا عنوان Why Indian Air Force is Dying نے کہا ہے کہ بھارت میں جنگی جہازوں کی خریداری غیر موثر، نا اہلی اور افسر شاہی کا شکار ہے بھارتی فضائیہ کے روسی ساخت کے Mig طیاروں کو Flying Coffin یا Widow Making کا نام دیا جاتا ہے۔ BBC کی ایک رپورٹ جس کا عنوان “بھارت کے جنگی جہاز کیوں آئے دن گرتے اور تباہ ہوتے رہتے ہیں” میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے Mig 872 طیارے جو روس سے خریدے گئے تھے ان میں سے آدھے جہاز ابھی تک حادثوں کا شکار ہوچکے ہیں مزید برآں بھارت میں تیار ہونے والے طیارے بہت ہی ناقص نوعیت کے ہیں۔ اور ان کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ اس ضمن میں Comptroller & Audit General(CAG) کے مطابق بھارت میں تیار شدہ Air Defence Missile System یعنی ہوا میں مار کرنے والے میزائل بہت ناکارہ ہے اور اس کی ناکامی کا تناسب 30 فی صد ہے۔ CAG کے مطابق بھارتی فضائیہ کا اصل مسئلہ ناقص سازوسامان اور کمزور بنیادی ڈھانچہ ہے۔

RAW کے ایک ریٹائرڈ سربراہ نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے جنرل مشرف کے چار نکات والا فارمولا بہت ہی اچھا اور درست حل تھا اور اگر اسے قبول کرلیا جاتا تو تقریباً 15 سال سے کشمیر میں امن قائم ہوجاتا۔
َ
4 مارچ کو نیویارک ٹائمز اخبار نے لکھا ہے کہ بھارت کے پاکستان کی ایر فورس کے ہاتھوں دو جہازوں کی تباہی اور ان کا گرایا جانا بھارت کی فوجی طاقت اور اس کے ہتھیاروں کی ناگفتہ بہ صورت حال کا واضح ثبوت ہے۔ بھارت کے پاکستان کے ہاتھوں دو جہازوں کے گرائے جانے سے سامنے آنے والے صورت حال سے عالمی سطح پر بہت حیرت کا اظہار سامنے آیا ہے کیونکہ پاکستان کی عسکری طاقت بھارت کے مقابلے میں آدھی ہے اور دفاع پر بھارت کے مقابلے میں ایک چوتھائی رقم خرچ کررہا ہے۔ ایک بھارتی ریٹائرڈ بھارتی ایر فورس افسر راجیو تپائی نے کہا ہے کہ اپنی افواج کا بے وجہ خون بہانا بند کرو اور اس طرح بھارتی وزیر اعظم مودی کو انے والے الیکشن سے فائدے کی بجائے بے حد نقصان پہنچا ہے۔

بھارتی ایر چیف نے اپنے ایک مراسلے میں بھارتی وزیر اعظم کو کہا کہ فضائیہ کو نئے ریفائل طیاروں کی اشد ضرورت ہے۔ جس کے بغیر ہم پاکستان سے جنگ نہیں کر سکتے۔

قارئین! ہماری مسلح افواج جسے عوام کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ اس نے اللہ کے فضل سے ہر موقعہ پر اپنی برتری کا ثبوت دیا ہے۔ کیونکہ وہ ایمان اور یقین محکم پر مکمل یقین رکھتی ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کے مقابلے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہے۔ ان کا نعرہ ہے کہ “ہر دم تیارہیں ہم”.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں