397

عورت کا محافظ صرف اسلام ۔۔!!….(انتخاب)

سوشل میڈیا سے انتخاب

امریکہ میں خواتین کو جائیداد خریدنے کا حق پہلی مرتبہ 1839 میں ملنا شروع ہوا جب چند ایک امریکی ریاستوں نے شادی شدہ خواتین کو اپنے شوہر کے ساتھ پراپرٹی میں حق ملکیت کا اختیار دینے کیلئے قانون سازی شروع کی۔ امریکہ میں خواتین کو ووٹنگ کا حق پہلی مرتبہ 1920 میں ملا۔ اس سے قبل خواتین کو ووٹ ڈالنے کی بھی اجازت نہ تھی۔ دوسری طرف اسلام نے چودہ سو سال قبل عورت کو نہ صرف اپنے باپ، شوہر، بھائی اور اولاد کی پراپرٹی میں حصے دار بنایا، بلکہ خاوند کیلئے عورت کا حق مہر مقرر کرکے اسے پہلی فرصت میں ادا کرنے کا بھی حکم فرما دیا۔ اسی طرح عورت کا حق گواہی بھی چودہ سو سال قبل قرآن میں طے کردیا گیا۔ اگر عورت کی گواہی آدھی رکھی گئی تو اسے معاش کی ذمے داریوں سے بھی مکمل طور پر آزاد کردیا گیا اور یہ ذمے داری مکمل طور پر اس کے باپ، شوہر اور بھائی پر عائد کردی۔

اگر امریکہ میں آج سے سو سال قبل تک عورت کو ووٹ تک ڈالنے کی اجازت نہیں تھی تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ چودہ سو سال قبل مغربی معاشرے میں عورت کا کس بری طرح استحصال ہوتا ہوگا۔ یہ اسلام ہی تھا کہ جس نے عرب جیسے مردانہ حاکمیت والے معاشرے میں عورتوں کو بلند مقام عطا فرمایا، انہیں وراثت میں حصہ دیا اور ان کے نان نفقے کی ذمے داری شوہر کو دی۔ عورت کو جو عزت، مرتبہ اور مقام دین اسلام نے دیا ہے، وہ دنیا کا کوئی دوسرا مذہب، معاشرت اور قانون نہیں دے سکا۔

خواتین کو چاہیئے کہ بطور ماں اپنے بیٹوں کی دینی خطوط پر تربیت کو یقینی بنائیں تاکہ وہ جب کسی دوسرے کی بیٹی کو بیاہ کر گھر لائیں تو اس کے حقوق سے آگاہ ہوں اور انہیں ادا کرنے کیلئے تیار ہوں۔

عورت کو اگر تحفظ، عزت اور رتبہ چاہیئے تو یہ صرف اور صرف اسلام ہی اسے دے سکتا ہے!!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں