340

وہ لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کردیتے تھے!!…..(طارق بشیر بٹ)

تحریر: طارق بشیر بٹ.

زمانہ جاہلیت میں لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے۔

یہ لوگ بچی کے ہاتھ میں مٹھائی کا ٹکڑا تھما دیتے، اس کے ہاتھ میں گڑیا تھما کر اس کو قبر میں بٹھا دیتے۔ بچی اس کو کھیل سمجھتی اور قبر میں گڑیا اور مٹھائی کے ٹکڑوں سے کھیلنے لگتی، یہ لوگ تب اس پر مٹی ڈالنا شروع کردیتے۔ بچی شروع میں اس کو بھی کھیل سمجھتی لیکن جب مٹی اس کی گردن تک پہنچ جاتی تو وہ گھبرا کراپنی ماں کو آواز دیتی، چیختی چلاتی منتیں کرتی۔ لیکن ظالم باپ اس بچی کو زندہ دفن کردیتا۔ اس قبیح فعل کے بعد جب وہ گھر آتا تو اس بچی کی چیخیں گھر تک اس کا پیچھا کرتیں، لیکن ان ظالموں کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے تھے جو نرم نہیں ہوتے تھے۔ بعض ایسے لوگ بھی تھے جن سے اسلام قبول کرنے سے پہلے یہ گناہ سرزرد ہو چکا تھا۔ ان میں سے ایک صحابی رضہ اللہ تعالی عنہ نے اپناواقعہ سنایا کے جب وہ اپنی بیٹی کو دفنانے لے جارہا تھا۔

” بچی نے میری انگلی پکڑ رکھی تھی، وہ باپ کے لمس کی وجہ سےخوش ہو رہی تھی۔ وہ سارا راستہ مجھ سے باتیں کرتی رہی اور اپنی توتلی زبان میں مجھ سے باتیں کرتی رہی۔ میں سارا راستہ اس کو اور اس کی فرمائشوں کو بہلاتا رہا۔ میں اسے لے کر قبرستان پہنچ گیا اور اس کے لیئے قبر کی جگہ منتخب کی۔ میں نیچے زمین پر بیٹھااور اپنے ہاتھوں سے ریت اٹھانے لگا، میری بیٹی نے مجھے کام کرتےدیکھا تو خود بھی کام میں لگ گئی۔ وہ بھی اپنے ننھے ہاتھوں سے مٹی کھودنے لگی۔ ہم دونوں باپ بیٹی ریت کھودتے رہے۔ میں نےاس دن صاف کپڑے پہن رکھے تھے۔ ریت کھودتے وقت میرے کپڑوں پر مٹی لگ گئی۔ میری بچی نے اٹھ کر میرے کپڑے صاف کئے۔ میں اس کے لیئے قبر تیار کر رہا تھا اور وہ میرے کپڑے صاف کررہی تھی۔ قبر تیار ہوئی تو میں نے اس میں اس کو بٹھایا اور اس پر مٹی ڈالنی شروع کر دی۔ وہ بھی اپنے ننھے ہاتھوں سے اپنے اوپر مٹی ڈالنے لگی۔ وہ مٹی ڈالتی جاتی تھی اور قہقہہ لگاتی جاتی تھی اور ساتھ ساتھ مجھ سے فرمائش کرتی جاتی تھی۔ لیکن میں دل ہی دل میں اپنےجھوٹے خداوں سے دعا کر رہا تھا کے وہ مجھے بیٹا دیں۔ میں دعا کرتارہا اور بیٹی ریت میں دفن ہوتی رہی۔ میں نے آخر میں جب اس کے سر پر مٹی ڈالنی شروع کی تو اس نے خوفزدہ نظروں سےمجھےدیکھا اور کہا ”ابا آپ پر میری جان قربان، آپ مجھے کیوں دفن کرناچاہتے ہیں؟؟ میں نے اپنے دل کو پتھر بنا لیا اور دونوں ہاتھوں سے تیزی سے قبر پرمٹی پھینکنے لگا۔میری بیٹی روتی رہی، چیختی رہی، دہائیاں دیتی رہی، لیکں میں نے اس کو قبر میں زندہ دفن کردیا۔”

یہ وہ نقطہ تھا جہاں رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاضبط بھی جواب دے گیا، اور آپ کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ داڑھی مبارک آنسووں سے تر ہوگئی اور آواز مبارک حلق میں گولا بن کر پھنسنے لگی۔ وہ شخص دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا اور آپ صلی اللہعلیہ واللہ وسلم ہچکیاں لے رہے تھے۔

آج کے لوگ کہتے ہیں کہ وہ لوگ کتنے ظالم اور جاہل تھے۔ لیکن یہ لوگ اپنے زمانے کو نہیں دیکھتے۔ اگر آج ہم اپنا زمانہ دیکھیں تو یہ کام اُس زمانے سے آج کے دور میں زیادہ ہو رہا ہے۔ اس وقت کے لوگ بیٹیوں کو پیدا ہونے کے بعد زندہ دفن کرتے تھے۔ جب کہ آج کے زمانے کے لوگ اپنی بیٹی پیدا ہونے سے پہلے ہی؛ ابارشن کے ذریعے قتل کر کے دفن کر دیتے ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں